رامی مخلوف: شام کے حکمران خاندان میں واضح تلخی، تنازع کیا ہے؟

جیریمی بوئن - بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رامی مخلوف

AFP
شام کی معروف کاروباری شخصیت رامی مخلوف نے چند حالیہ ویڈیوز میں اپنے ساتھ حکومت کے برتاؤ پر شکایت کی ہے

اتوار کو شیئر ہونے والی ایک حالیہ ویڈیو میں رامی مخلوف کیمرے کے لینز کی طرف دیکھتے ہیں اور آہستہ سے کچھ کہتے ہیں۔

پرانی تصاویر کے برعکس ان کی داڑھی اب زیادہ سفید نظر آ رہی ہے۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب ان کی شخصیت میں دولت اور طاقت جھلکتی تھی۔ ان کے بارے میں خیال تھا کہ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ تمام نظامِ حکومت کے لیے ’پیسوں والے آدمی‘ ہیں۔ شاید اس وقت خاندان اور حکومت ایک ہی بات تھی۔

لیکن اب رامی مخلوف اپنی دولت کی چمک کھو چکے ہیں۔ یہ وہ شخص ہیں جو کبھی غریب نہیں ہوسکتے۔ شام ایک ایسا ملک ہے جہاں اقوام متحدہ کے مطابق 80 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ تقریباً ایک کروڑ افراد کے پاس کھانے کے لیے مناسب خوراک نہیں اور آدھی آبادی جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوچکی ہے۔

وہ ایک ایسی وادی میں رہتے ہیں جو شام کے امیر ترین افراد کی پسندیدہ جگہ ہے۔ یہ دمشق سے بیروت جانے والی سڑک پر واقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شام کے شہر ادلب پر اس وقت کس کا راج ہے؟

شام میں جنگ بندی کے لیے روس اور ترکی کے درمیان معاہدہ طے

شام میں جنگ: تیل کی آمدن سے کسے فائدہ پہنچ رہا ہے؟

ترکی: پانچ ممالک پر ’برائی کی طاقتوں کا اتحاد‘ ہونے کا الزام

ویڈیوز میں رامی مخلوف کی جیکٹ مہنگی اور اطالوی لگتی ہے۔ وہ اپنے گھر کے کونے میں بیٹھے ہیں جہاں اگلی سردیوں کے لیے پہلے سے لکڑیوں کا انبار پڑا ہے۔

لیکن اگر جو وہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے تو ان کی طاقت اب ختم ہوچکی ہے۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ شام میں ہر بڑے کاروباری معاہدے سے انھیں کمِشن ملتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے کچھ لوگ انھیں ’مسٹر فائیو پرسنٹ‘ کہتے ہیں۔

نایاب تنازع

رامی مخلوف اپنی والدہ کے خاندان کی طرف سے شام کے صدر بشار الاسد کے کزن ہیں۔ دونوں کی عمر 50 برس سے زیادہ اور تقریباً ایک جنتی ہے۔ اور وہ بچپن سے ایک دوسرے کے دوست رہے ہیں۔

رامی مخلوف کے بارے میں خیال ہے کہ وہ شامی حکومت کے بڑے حامی ہیں۔ وہ عوامی سطح پر بہت کم اپنے خاندان، سیاست اور کاروبار کے بارے میں بولتے ہیں۔

سنہ 2011 میں جب شام میں جنگ زور پکڑ رہی تھی تب اخبار نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ملک میں حکمران طبقہ، جس میں اسد، مخلوف اور ان کے ساتھی خاندان شامل ہیں، آخر تک لڑائی جاری رکھیں گے۔

’انھیں معلوم ہونا چاہیے جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے۔ ہم اکیلے یہ برداشت نہیں کریں گے۔‘

یہ سب سچ ثابت ہوا۔ لیکن ان کا دوسرا وعدہ یہ تھا کہ وہ متحد رہیں گے۔ ان کی ویڈیوز سے یہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

رامی مخلوف

AFP

انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں خدا سے دعا مانگی کہ ناانصافی ختم ہونی چاہیے جس کا انھیں سامنا ہے۔ دیگر تین ویڈیوز میں انھوں نے حکومت پر تنقید کی۔ ایسی ویڈیوز عام شامی شہریوں کو جیل بھیجنے کے لیے کافی ہوسکتی تھیں۔

3 مئی کو انھوں نے کہا کہ ’جناب صدر، سکیورٹی کے لیے مامور عملہ لوگوں کی آزادی چھین رہا ہے۔ یہ آپ ہی کے لوگ اور حمایتی ہیں۔‘

پُرتعیش زندگی

رامی مخلوف تیل اور تعمیرات کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ لیکن وہ سب سے زیادہ پیسے شام میں موبائل نیٹ ورکس پر اپنے اثر و رسوخ سے کماتے ہیں۔

ان کی کمپنی پر الزام ہے کہ اس پر 18 کروڑ ڈالر کا ٹیکس واجب ہے۔ ان جیسے شخص کے لیے یہ رقم اتنی زیادہ نہیں۔

دبئی میں ان کے بیٹے محمد کو ارب پتی خیال کیا جاتا ہے۔ ان کی زندگی بھی انٹرنیٹ پر پرتعیش نظر آتی ہے۔

جس وقت ان کے بیٹے انسٹاگرام پر اپنی پُرلطف زندگی کی تصاویر جاری کر رہے تھے اس وقت رامی مخلوف نے فیس بک پر ایک پیغام جاری کیا جس میں ان سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تمام رقم ادا کریں جو ان پر واجب ہے۔

لیکن یہ واضح ہو رہا ہے کہ ان کے کزن بشار الاسد سے ان کا تنازع ٹیکس ادا کرنے سے کہیں بڑا معاملہ ہے۔ یہ تاثر مل رہا ہے کہ شام کے صدر ارب پتی مخلوف خاندان کے کاروبار سے اس ٹیکس کے علاوہ بھی بہت کچھ چاہتے ہیں۔

شام میں دہائی تک چلنے والے جنگ سے ملک میں کافی زیادہ مالی نقصان ہوا ہے۔

رامی مخلوف، سیریا ٹیل

AFP

روس کا ہاتھ؟

مخلوف نے اتوار کو اپنی ویڈیو میں اپنے عملے سے معافی مانگی۔ گذشتہ ہفتے ان کے کم از کم 28 ملازمین کو سکیورٹی ادارے گرفتار کر کے لے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ: ’کئی قانونی معاملے بغیر آگے بڑھے زیر التوا کا شکار ہیں۔ خاص کر وہ معاملات جس میں پُراسرار افراد نے گرفتاریاں کی تھیں۔‘

یہ افراد حقیقت میں رامی مخلوف کے لیے پراسرار نہیں ہونے چاہیے۔ ان کے بھائی حافظ جنرل انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ حکومت کو درپیش اندرونی خطرات کا مقابلہ کرنے والی سب سے اہم ایجنسی ہے۔

وہ صحیح معنوں میں جانتے ہیں کہ شام کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی اہلکار کیا کر سکتے ہیں۔

مخلوف اور اسد خاندان میں تنازع سمجھنے کے لیے کئی آرا گردش میں ہیں۔ کچھ آرا کے مطابق وہ اپنی شخصیت کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہی امیر اور طاقتور ہوچکے تھے۔

دباؤ کے پہلے اثرات گذشتہ موسم گرما میں رونما ہوئے جب ان کی خیراتی تنظیم بستان زبردستی بند کر دی گئی تھی۔ اس سے ملیشیا میں تقریباً 20 ہزار لوگ گئے تھے۔

یہ رائے شامی صدر کی اہلیہ عاصمہ الاسد پر مرکوز ہے جن کی پرورش لندن میں ہوئی اور جنھیں حکومت میں ایک قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ اپنا ایک خیراتی ادارہ بھی چلاتی ہیں۔

ایک دوسرا نظریہ اسے شام اور کریملن کے درمیان تعلقات سے جوڑتا ہے۔

شام میں بدعنوانی پر روسی ذرائع ابلاغ نے بھی تنقید کی ہے۔ میڈیا کے ان اداروں کے بارے میں خیال ہے کہ انھیں صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت حاصل ہے۔ صدر پوتن بشار الاسد کے سب سے اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔

سنہ 2015 میں روس کی شام میں مداخلت بشار الاسد کے لیے جنگ جیتنے میں اہم رہی ہے۔

اس نظریے کے مطابق بشار الاسد صدر پوتن کی حمایت کو کھونا نہیں چاہتے اور اس لیے رامی مخلوف کی قربانی دی جا رہی ہے کیونکہ کئی شامی شہریوں کے لیے وہ بدعنوانی کی ایک علامت ہیں اور پورے ملک میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

ایسی کاروباری شخصیات جو صدر پوتن کے قریب ہیں انھوں نے ایسے ٹھیکوں پر بھی نظر جمائی ہوگی جنھیں رامی مخلوف اپنا سمجھتے تھے۔

تنازعات کی تاریخ

حقیقت میں حکمراں طبقے کے بند دروازوں سے باہر کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔

حافظ الاسد، شام

AFP

بشار الاسد کے والد حافظ الاسد، جو شام کے سابق صدر تھے، 1970 میں اقتدار میں آئے تھے اور انھوں نے ملک کو اپنا خاندانی کاروبار بنا لیا تھا۔

ان کی اہلیہ انیسہ مخلوف اسد خاندان سے زیادہ دولت مند پس منظر رکھتی تھیں۔ ان کا خاندان ایئر فورس اور باتھ پارٹی کی بدولت غربت سے اٹھا تھا۔

حافظ الاسد کافی دھیان رکھا کرتے تھے اور انھوں نے مضبوطی سے یہ سوچ رکھا تھا کہ وہ واحد شامی افسر بن جائیں گے جو صدارت اور اقتداد چھین لے گا۔

انھوں نے اپنے علویہ عقیدے کے افراد کو اپنے ارد گرد جمع کر لیا تھا۔ لیکن ان کا خاندان اس نظام کے بیچ و بیچ تھا جو انھوں نے تشکیل دیا تھا۔

ان کے خاندان کی تاریخ مزید تنازعات کا شکار رہی ہے۔

حافظ کے بھائی رفعت ان کے سب سے اہم آدمی تھے جنھیں بڑے کام دیے جاتے تھے۔ اس میں 1982 میں اخوان المسلمین کی بڑھتی حمایت کو کچلنا بھی شامل تھا جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لیکن ایک سال بعد حافظ دل کے مرض میں مبتلا ہو کر بیمار پڑ گئے اور رفعت نے دمام کی سڑکوں پر ٹینک بھیج دیے تاکہ وہ اقتدار پر قبضہ کر سکیں۔ لیکن یہ کوشش ناکام ہوئی تھی۔

رفعت کو اس پر قید یا سزائے موت نہیں بلکہ لاکھوں ڈالر کے ساتھ جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ شاید رامی مخلوف کے لیے بھی یہی بہترین راستہ ہوگا۔

اسے ایک بڑا تنازع سمجھا جا رہا ہے۔

رامی مخلوف کو شام کی حکومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ اس حکومت کے اہم ساتھی تھے۔

انھوں نے عوامی سطح پر آکر فیس بک کے ذریعے ویڈیوز اور دستاویزات جاری کیں ہیں۔ لیکن ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ اپنی کوششوں کے باوجود یہ لڑائی ہار جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13567 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp