EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امریکی انتخابات کی اصل کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"zeffer05\"ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے خبر آتے ہی جہاں خیبر پختونخوا اور فاٹا میں جشن کا سا سماں ہے، وہیں ہمارے میڈیا پر صفِ ماتم بچھ گئی۔ ہمارے مخبر بابا نے باوثوق ذرائع سے بتایا، کہ ہلیری کلنٹن نے پاکستانی میڈیا مالکان کے اپنی انتخابی مہم کے لیے ایک خطیر رقم دی تھی۔ دُنیا کا نمبر ون چینل \’بول\’ (جس کی نشریات ابھی عام نہیں ہوئیں) ہلیری کی انتخابی مہم میں پیش پیش تھا۔

چوں کہ یہودی لابی بھی ہلیری کی حمایت کر رہی تھی، تو دنیا کا نمبر ون چینل \’جِیو\’ ڈونلڈ ٹرمپ کی کردار کشی اور ہلیری کی شان میں قصیدے پڑھ رہا تھا۔ اُدھر دنیا کا ایک اور نمبر ون چینل جس کی نشریات کراچی شہر تک محدود ہیں، اس نے بھی پیش گوئی کر دی تھی، کہ امریکی صدر کے انتخابات میں ہلیری کام یاب ٹھہریں گی۔ انتخابی نتائج کے غیر حتمی غیر سرکاری اعلان نے ان نیوز چینل کے اینکروں کے چہرے مزید لمبے کر دیے ہیں؛ زبانیں گنگ ہیں۔ وہ اینکر جنہوں نے ہلیری کی کام یابی کی پیش گوئی کر رکھی تھی، اور اپنے پروڈیوسروں سے شکوہ کر رہے ہیں، کہ کاش وہ ایک آدھ ایسا بیان بھی رِیکارڈ کر رکھتے، جو اس ناگہانی میں کام آتا۔ وہ کہ سکتے جب دُنیا ہلیری کی کام یابی کی خبر دے رہی تھی، ہم نے بتا دیا تھا، کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی کام یاب ہوں گے۔

انتخابات میں کام یابی کے بات میڈیا کے سامنے تقریر کرتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے، کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ کراچی میں عوام نے ایم کیو ایم پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، تو اُن کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا۔ الطاف بھائی نے لندن سے ٹیلی فونک خطاب میں کہا، کہ ہم نے پہلے بھی پینٹا گون کی خدمت کی ہے، اب بھی کریں گے۔ ہمیں شکوہ ہے، کہ ہمیں بھلا دیا گیا۔ مہاجروں نے امریکا کی ترقی کے لیے ہجرت کی تھی، انہیں ان کے جائز حق سے محروم کیے جانے کا اندیشہ ہے۔ اگر ایسا کیا گیا تو ہم جناح پور کے مطالبے تک جا سکتے ہیں۔ الطاف بھائی کے اس بیان کے بعد یہ خبریں بھی آ رہی ہیں، کہ عشرت العباد کی جگہ جسٹس سعید الزمان صدیقی کو گورنر سندھ مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی زیرِ قیادت ایک وفد نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی؛ امید کی جا رہی ہے، کہ وہ حکومت کا حصہ ہوں گے۔ بہت ممکن ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انھیں کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنا دیں۔

ہلیری نے کہا ہے کہ وہ انتخابی نتائج قبول کرتی ہیں، تاہم اس صدمے سے نکلیں، تو چار ریاستوں کے حلقے کھلوانے پر اصرار کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی ایک ہی خاندان کے سیاست میں حصہ لینے کی مخالفت کرتی ہے، ہم ریپبلکن کی طرح نہیں، جہاں ایک بش کے بعد دوسرا بش آ جاتا ہے۔ جب ان کے شوہر سابق صدر کلنٹن کا حوالہ دیا گیا تو ہلیری نے جواب دیا، میاں اور بیوی دو الگ خاندان سے ہوتے ہیں۔ اس دوران حاضرین \’زندہ ہے کلنٹن زندہ ہے\’ کے نعرے لگاتے رہے۔ ہلیری وقفے وقفے سے اپنا سندھ کارڈ ہوا میں لہراتی رہیں۔ ہلیری نے کہا کہ ڈیموکریٹس تو اپنے دور میں لوڈشیڈنگ ختم نہ کرسکے اب دیکھتے ہیں، ٹرمپ اٹھارہ ماہ میں اس مسئلے پر کیسے قابو پاتے ہیں۔ وہ جب میڈیا سے بات چیت کر رہی تھیں، تو شیخ رشید اُن کے کان میں کھسر پھسر کرتے رہے، ہلیری اُن کی کھسر پھسر پر شرماتے ہوئے مسکراتی رہیں۔

طاہر القادری نے چودھری شجاعت اور پرویز الہی کے ہم راہ پریس کانفرنس کرتے کہا کہ انھوں نے امریکی انتخابات میں اس لیے حصہ نہیں لیا کہ وہ اس سسٹم کے خلاف ہیں جہاں‌ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ہاتھی برسراقتدار آ جاتے ہیں۔ طاہر القادی نے کہا، وہ پہلے سسٹم کو بدلیں گے، پھر سسٹم کا حصہ بنیں گے۔ انہوں نے یہ انکشاف کیا، کہ معمولی پراپرٹی ایجنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے پیچھے بحریہ ٹاون کے ملک ریاض کا سرمایہ لگا ہے۔ چودھری شجاعت نے اس موقع پر یہ کہا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے۔ جمہوریت ووٹ گننے کا نام نہیں۔ جمہوریت کچھ اور ہوتی ہے۔ پرویز الہی گویا ہوئے کہ امریکا پر ہمیشہ سے انہی دو پارٹیوں کی حکومت رہی ہے، یہ دونوں پارٹیاں ناکام ہو گئیں ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پنجاب پلس کی مدد سے ان کے حلقے کے ووٹروں پر بدترین تشدد کیا، اور ان کے ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک نہ پہنچنے دیا گیا۔ اُدھر خیبر پختونخوا سے جناب پرویز خٹک نے یہ نتائج دیکھ کر رائے دی، کہ اب سی پیک کے روٹ کا مسئلہ حل ہو جائے گا، پنجاب اپنی من مانی نہیں کر سکے گا۔

سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے، کہ ڈونلڈ کی جیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے قوم پرستوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ یہی ڈونلڈ ٹرمپ پینٹا گون کی نرسری سے نکلے ہوئے ہیں، لیکن اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ اسٹینڈ لیا ہے، تو قوم پرست ان کے حامی بن گئے ہیں۔ اس وقت پنیٹاگون اسٹیبلشمنٹ ہلیری کی پشت پر ہے۔ ایک اور سینئر تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی مدد سے مینارِ پاکستان کا جلسہ کامیاب کرایا گیا، لیکن عوام نے اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا۔ بہت ممکن کے کہ امریکا کی یوم آزادی 4 جولائی کو ہلیری سے دھرنا دلایا جائے، تا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بے بس کر کے اس کی ہیکڑی نکالی جا سکے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا، کہ پینٹاگون سن لے کہ اب وہ اپنی من مانی نہیں کرسکتا۔ ملک میں جمہوریت کا پودا مضبوط ہونے جا رہا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا گو کہ ہمیں پنجاب سے بہت شکوے ہیں، لیکن ہم ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، اور جمہوریت کی بقا کے لیے ان سے تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ حلف اٹھاتے ہی بی بی شہید کے قاتلوں کا پتا چلائیں۔

اُدھر اے این پی نے بیان جاری کیا، کہ ہمیں انتخابات میں اپنی مہم نہیں چلانے دی گئی۔ ورنہ نتائج اس کے بر عکس ہوتے۔ اے این پی کے ترجمان افتخار حسین نے کہا کہ جمہوریت کے لیے ان کی بہت قربانیاں ہیں، انہوں نے صوبے کے عوام کی بہ تری کے لیے خیبر پختونخوا کا نام دیا۔ جب تک یہ نام نہ تھا، صوبہ ترقی ہی نہیں کر کے دے رہا تھا۔ اب ہر دُکان سے ایزی لوڈ بھجوایا جا سکتا ہے، ہر طرف ترقی کی بہار ہے، عوام کی حالتِ زار بہتر ہوئی ہے۔ اختر مینگل نے میڈیا سے بات چیت کرتے کہا، کہ الیکشن ہمارے مسائل کا حل نہیں؛ بلوچستان کی زمین کے نیچے بہت سونا ہے، اس سونے کا بلوچوں کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ اسی طرح براہمداغ بگٹی نے نامعلوم مقام سے بیان بھجوایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہوں، یا ہلیری ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم بلوچستان کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

آخری اطلاعات کے مطابق امریکا کے موجودہ صدر بارک اباما نے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی جیت پر مبارک باد دی ہے، وہیں لیاری گینگ کے عزیر بلوچ کو کال کرتے کہا ہے، کہ لیاری میں ان کے گھر کی صفائی ستھرائی کا انتظام کیا جائے، کہ جتھے دی کھوتی اُتھے آن کھلوتی۔ کھوتی کو انگریزی میں گدھی کہا جاتا ہے، گدھی کا ہوتا سوتا، یعنی گدھا بارک اُباما کی پارٹی کا انتخابی نشان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 319 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے