سجدہ سہو سے پہلے اور بعد۔ ۔ ۔ خصوصی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم فرض کرتے، جیسے کہانیوں میں کیا جاتا ہے۔
جیسے :ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ۔ ۔ ہم جانتے ہیں یہ ایک خیالی دنیا کا قصہ ہے مگر پھر بھی شوق سے سنتے ہیں۔ خیالی دنیا کی باتیں، کہانی کے علاوہ، ایک فرضی قضیے کی صورت میں بھی بیان ہو تی ہیں۔ جیسے منطق میں ہوتا ہے۔ یا جیسے انسانی ذہانت کے کسی امتحان میں۔ آج ایسا ہی ایک پرچہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ آپ کی ذہانت کا امتحان ہے۔

فرض کیجیے کہ ایک ملک کا جمہوری بادشاہ ایک مشکل سے دوچار ہے۔ جمہوری اس لیے کہ ملک کو جمہوریہ کہا جاتا ہے۔ اقتدار بظاہر کئی اداروں میں منقسم ہے۔ جیسے مقننہ، جیسے عدلیہ۔ اختیار کا قانونی مرکز ایک نہیں۔ وہ بادشاہ اس لیے ہے کہ ترقی پذیر جمہوریتوں میں جمہوری حکمران بھی بادشاہ ہوتے ہیں یا بننا چاہتے ہیں۔

اس جمہوری بادشاہ کی مشکل یہ ہے کہ طاقت کے مراکز کے مابین رسہ کشی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے اور وہ طاقت کے ان مراکز میں عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے اس ادارے کو برتری حاصل ہو نی چاہیے جو ان مراکز میں عوام کا نمائندہ ہے۔ اسے مختلف طریقوں سے سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کتابی بات ہے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ جب کھیل طاقت کا ہے تو اختیار اسی کا زیادہ ہوگا جس کے پاس طاقت زیادہ ہوگی۔ طاقت وہی ہوتی ہے جو بازو میں ہو، کتاب میں لکھی نہیں۔ جیسے کھانا وہی ہے جو دستر خوان پر ہے۔ وہ نہیں جس کی ترکیب کھانوں کے کسی رسالے میں لکھی ہے۔

وہ لیکن مان کر نہیں دیتا۔ اپنے اختیار کے لیے ضد کرتا ہے۔ طاقت کے اصل مرکز پر بیٹھے لوگ، حیلوں بہانوں سے اسے بتاتے ہیں کہ تم بھی اگر یہاں تک پہنچے ہو تو ہماری وجہ سے۔ ہم تمہارے محسن ہے۔ تمہیں حکمران رہنا ہے تو ہماری برتری تسلیم کرنا ہوگی۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ یہ اب ماضی کا قصہ ہو چکا۔ اب میں ایک عصبیت کا نمائندہ ہوں۔ میں آپ کی مدد کے بغیر بادشاہ بن سکتا ہوں۔

طاقت ور حلقہ اسے مختلف طریقوں سے اس کی اوقات یاد دلاتا رہتا ہے، جیسے کبھی اس کے سیاسی حریفوں کو دارالخلافہ میں جمع کرا دیتا ہے۔ یا کسی ابلاغی ذریعے سے اس کی حب الوطنی کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ یا کبھی کسی مذہبی گروہ کو کھڑا کرا دیتا ہے۔ وہ پھر بھی مان کر نہیں دیتا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ ملکی معیشت مستحکم ہے۔ عوام مطمئن ہیں۔ اس لیے اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں۔

اس کے ساتھی مگر حالات کو بھانپ رہے ہیں۔ وہ اسے سمجھاتے ہیں کہ تم جن پتوں پہ تکیہ کیے بیٹھے ہو، وقت آنے پر یہی ہوا دیں گے۔ یہاں اقتدار کا کھیل ایک ہی ضابطے کے تحت کھیلا جا رہا ہے۔ عوامی طاقت ایک واہمے کے سوا کچھ نہیں۔ طاقت ور وہی ہے جس کے بازو میں جان ہے۔ عوام کے بازو میں طاقت ہے نہ ان کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ چند آنسو نچھاور کر سکتے ہیں یا تمہارے لیے دعا کر سکتے ہیں۔

خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ اچانک بیس سال پہلے کے کھاتے کھل جاتے ہیں۔ ان میں انکشاف ہوتا ہے کہ بادشاہ کے بیٹوں کے پاس کچھ پیسے ہیں جن کے بارے میں معلوم نہیں کہ کہاں سے آئے ہیں۔ یہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ یہ ناجائز دولت ہے۔ بادشاہ کہتا ہے کہ یہ دولت اس کی نہیں، اس کے بیٹوں کی ہے جو انہیں دادا نے دی۔ اس کے سیاسی مخالفین مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیں۔ وہ اس پر آمادہ ہوجاتا ہے اور یوں معاملہ طاقت کے ایک دوسرے مرکز تک پہنچ جاتا ہے۔

وقت آگے بڑھتا ہے تو طاقت کے تمام مراکز مل کر اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرتے ہیں۔ ریاست کا ہر خفیہ اور علانیہ ادارہ اس کارخیر میں شریک ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا ہی اس کے خلاف ہو گئی ہے۔ سات آسمان اور سات زمین کھنگال دیے جاتے ہیں کہ اس دولت کو ناجائز ثابت کر دیا جائے۔ عدالت میں یہ ثابت نہیں ہو پاتا۔ لیکن تحقیقات کے دوران میں منکشف ہوتا ہے کہ ایک جگہ سے یہ تنخواہ لے سکتا تھا لیکن اس نے نہیں لی۔ وہ اس پر پکڑا جاتا ہے اور بدعنوان قرار دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اقتدار سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

اب اس ملک کا ایک شہری ہے جس نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس صورت حال میں کیا کرے؟ کرنا خیر ایک عام آدمی نے کیا ہے، میں اس معاملے کو ایک زاویے سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں :شہری کے سامنے ایک سوال ہے: کیا بادشاہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے؟

شہری سیانوں کی ایک مجلس میں جا نکلتا ہے جہاں یہی سوال زیر بحث ہے۔ مجلس میں شریک ایک صاحب پرجوش انداز میں اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں : ”بادشاہ اسی سلوک کا مستحق تھا۔ یہ برسوں سے حکمران ہے اور ناجائز ذرائع سے اپنی دولت میں اضافہ کرتا رہا ہے۔ آج پکڑا گیا ہے تو کسی ہمدردی کا مستحق نہیں۔ یہ مکافات عمل ہے۔ یہ خود طاقت کے مراکز سے ساز باز کر تا رہے۔ آج کس منہ سے مظلوم بنتا اور عوام کی بات کرتا ہے؟“

اسی مجلس میں ایک اور صاحب اس کے برخلاف موقف پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : ”یہ درست ہے کہ ماضی میں وہ طاقت کے مراکز سے تعلقات کا مرتکب رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل ناجائز دولت کمائی ہو۔ اگرچہ یہ کسی عدالت میں ثابت نہیں لیکن سیاست کے عمومی چلن کو سامنے رکھتے ہوئے، اس کو بھی مان لیتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ماضی میں اس کا اسلوب حکمرانی وہی تھا جو روایتی سیاست دانوں کا ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ ایک بدلا ہوا آدمی ہے“ ۔

یہ صاحب سوالات اٹھاتے ہیں : ”کیا گزشتہ چار سالوں میں اس کے خلاف بد عنوانی کا کوئی واقعہ سامنے آیا؟ کیا اس کے سیاسی و مذہبی خیالات میں ایک واضح ارتقا نہیں؟ کیا یہ درست نہیں کہ اس نے ملکی معیشت کو سنبھالا دیا اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے؟ کیا یہ بات غلط ہے؟ کیا ایسے آدمی کا ساتھ نہیں دینا چاہیے؟ کیا اس کے خلاف طاقت اور قانون کے بے رحمانہ استعمال پہ چپ رہنا چاہیے؟ مکافات عمل کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ انسان یا خدا؟ بادشاہ کے خلاف فیصلہ انسانی ہے یا خدائی؟“

شہری دونوں دلائل سن رہا ہے۔ وہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کیا کرے؟ اتنے میں انتخابات کا بگل بن جاتا ہے؟ معزول بادشاہ قسمت آزمائی کرتا اور عوام کا فیصلہ لینا چاہتا ہے۔ شہری دیکھتا ہے کہ طاقت کے تمام مراکز اسے ہرانے کے لیے جمع ہیں۔ جائز ناجائز کی ہر تمیز اٹھا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ اس پر جیل کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔

اس پس منظر میں شہری کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس کو کس کا ساتھ دنیا چاہیے۔ وہ معزول بادشاہ کے حق میں حسب توفیق آواز اٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ بہت سی خامیوں کے باوجود، وہ مظلوم ہے۔ اس نے بہت جرات اور استقامت کے ساتھ جبر کا مقابلہ کیا ہے۔ اس کا موقف اصولی طور پر درست ہے۔ شہری کے ضمیر کا فیصلہ ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ وہ اس پر بھی یقین رکھتا ہے کہ مکافات عمل کے فیصلے زمین پر نہیں، آسمانوں پر ہوتے ہیں۔

بادشاہ حسب توقع انتخابات میں ہار جاتا ہے کہ یہی مرقوم ہے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں، وہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے۔ وہ اور اس کے ہم نوا خاموش ہو جاتے ہیں۔ شہری سے کچھ لوگ کہتے ہیں : ”ہم نہ کہتے تھے، یہ کوئی صاحب عزیمت آدمی نہیں ہے۔ اس نے ایک بار پھر طاقت کے ان مراکز سے مفاہمت کر لی، وہ جن کے خلاف اٹھا تھا۔“ شہری خاموش ہے۔ وہ معترضین کی تردید کر سکتا ہے نہ تائید۔ وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کیا ہر صورت میں بادشاہ ہی جواب دہ ہے؟ کیا طاقت کے دوسرے مراکز سے سوال نہیں کیا جا سکتا؟ حکومت بنانا اور گرانا کس کا کام ہے؟

آپ کے خیال میں شہری نے معزول بادشاہ کا ساتھ دے کر صحیح کیا یا غلط؟ کیا شہری کے پاس، اس کے علاوہ بھی کوئی راستہ تھا؟ یاد رہے کہ یہ ایک قضیہ ہے جو آپ کی ذہانت کے امتحان کے لیے گھڑا گیا ہے۔ حالات و واقعات سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *