چند لوگ سائنس کو سنجیدگی سے لیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: پرویز ہود بھائی۔
مترجم:زبیرلودھی۔

جب صوبہ ووہان میں اچانک کرونا وائرس نمودار ہوا تو گھبرائے ہوئے چینی حکام نے اس وبا سے نپٹنے کے لیے انتہائی برے انداز میں اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں انہیں بین الاقوامی سطح پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم خود کی اصلاح کی بدولت جلد ہی انہیں ایک منظم، جامع اور مربوط ردعمل ملا۔ سرعت رفتاری سے چین نے کرونا متاثرین کے بڑھتے ہوئے گراف کو ہموار کر دیا اور (امریکہ کے علاوہ) ہر طرف سے داد و تحسین وصول کی۔ چین اس وقت ہزاروں وینٹی لیٹر اور لاکھوں ماسک دوسرے ممالک کو بھیج کر وبائی امراض کا مقابلہ کرنے والے عالمی رہنما کی حیثیت سے اپنے تشخص کو دوبارہ سے ٹھیک کر رہا ہے۔

چین اس لیے کامیاب ہوا کیوں کہ اس نے سائنس کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ جب اس کے وبائی امراض کے ماہرین نے ٹائی ٹینک کو آئس برگ کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا (یعنی وائرس کو تیزی سے پھیلتے ہوئے پایا) تو انہوں نے انتہائی سخت اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔

سائنسی ثقافت میں پروان چڑھنے والی چینی حکومت نے ان ماہرین کی رائے سے اتفاق کیا اور جلد ہی موجودہ دنیا کی عالمی تاریخ میں سب سے بڑی تحریک کا آغاز کر دیا۔ ملک میں قرنطینہ نافذ کیا، بیسیوں عارضی ہسپتال قائم کیے اور اس وائرس سے متاثر ہو سکنے والے افراد کو انتہائی احتیاط سے تلاش کر کے چین نے ثابت کر دیا کہ منظم، عقلی اور اجتماعی کوششوں سے کیسے ناممکن کو ممکن بنا یا جا سکتا ہے۔

امریکہ (بلاشبہ دنیا کا سب سے زیادہ سائنسی لحاظ سے ترقی یافتہ ملک ہے ) اس سے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا تھا۔ تقریباً ہر ایک چینی شہری کے مقابلے میں اٹھارہ امریکی لوگوں کی موت ہوچکی ہے، اس لیے امریکہ کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن تاریخ کے ایک حیرت انگیز واقعے نے دائیں بازو کی جماعت کے غیر سائنسی شخص کو امریکہ کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ اس شخص نے اپنے ملک کے سینئر ترین ماہر وبائی امراض کو ڈانٹا اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے فنڈ کاٹ لیے اور امریکہ کو اپنا لاک ڈاؤن ختم کرنے کا حکم جاری کیا۔

ٹرمپ کی منظوری کی درجہ بندی اب بھی پچاس فیصد کے لگ بھگ رہتی ہے۔ یہ امر اس قوم کے لیے افسوسناک ہے جس کی پوری دنیا نے کبھی تعریف کی تھی، لیکن اب اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے مسائل ابھی مزید بد تر ہوسکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے امریکیوں کو بخوبی احساس تھا کہ وہ کسی پاگل شخص کے احمقانہ نسخے نہ خریدیں (چاہے وہ شخص ان کا صدر ہی کیوں نہ ہو) اور خود کو وائرس سے بچانے کے لیے لیسول (Lysol) یا ڈیٹول کے انجکشن نہ لگائیں۔ اس معاشرے میں ماسک ابھی بھی لازمی عنصر کے طور پر پہنا جا رہا ہے، ا گرچہ کہ سماجی فاصلہ پر عمل درآمد اب تھوڑا سا کم ہوگیا ہے۔

عام امریکی شہری جزوی طور پر ٹرمپ پر قابو پار ہے ہیں، کیونکہ عام چینی شہریوں کی طرح ان کی پرورش بھی عقلیت کے زیر سایہ ہوئی ہے۔ انجیل کی بشارت کو ایک طرف رکھ کر سبھی امریکی یہ قبول کرتے ہیں کہ بیماری وائرس اور بیکٹریا سے ہوتی ہے خدا کے قہر سے نہیں۔ ہائی اسکول جانے والے تمام لوگوں نے وہاں کم از کم کچھ چیزیں تو سیکھی ہی ہوں گی، آخر کار تعلیم اپنا اثر رکھتی ہے۔

پاکستان کی قیادت اور عوام کا کیا حال ہے؟ ذہن میں آنے والی ایک تصویر یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان فنڈ جمع کرنے کی مہم میں مولانا طارق جمیل کو عقیدت سے سن رہے ہیں اور مولانا دل سوز انداز میں آہ و زاری کرتے ہوئے آسمان والے سے معافی مانگ رہے ہیں اور کم لباس والی عورتوں کو عذاب الہی کو دعوت دینے کا سبب قرار دے رہے ہیں۔ ایک دوسرا تصور ذہن میں یہ آتا ہے کہ ( اگر چہ یہ بڑھاپے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ) خان صاحب نے ٹرمپ کی پیروی کرتے ہوئے ماسک پہننے سے انکار کر دیا، تاکہ کسی بھی طرح ان کی کشش میں کمی نہیں آئے۔ جس کی بدولت ان کے مستقل مزاج قسم کے پیروکار کہتے ہیں کہ یہ بدمعاش وائرس کسی ایسے بہادر آدمی کو کچھ نہیں کہہ سکتا جو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو۔

جب یہی حکمران مذہبی طاقتوں سے صف آرا ہوتے ہیں تو تمام تر بہادری اڑ جاتی ہے۔ اس شبہ میں کہ حکومت مساجد اور مزارات کو بند کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تو سنی اور شیعہ علما کرام مشترکہ طور پر ( جن کا اتحاد خال خال ہی ممکن ہوتاہے ) حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہیں۔ جس کے ردعمل میں صدر عارف علوی اعلان کرتے ہیں کہ حکومت اور علمائے کرام کے اتفاق رائے سے طے شدہ بیس شرائط کے تحت مساجد کو کھولا جاسکتا ہے۔ بلاشبہ ابھی اس معاہدے کی سیاہی گیلی ہی تھی جب ملک کی اسی فیصد مساجد میں صریح خلاف ورزی کی اطلاعات ملی۔

اس کے بعد سیلاب کو روکنے والے بند بہہ گئے۔ ایک مختلف وقفے کے بعد اب عوامی مقامات پر ماسک اور دستانے کے بغیر لوگ گھوم پھر رہے ہیں اور انہوں نے کمال لاپرواہی سے سب کچھ تقدیر اور حالات پر چھوڑ دیا ہے۔ اب کھانے، جوتوں اور کپڑے کی مارکیٹیں لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی ہیں۔ حتی کہ کووڈ 19 کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن تعلیمی اداروں جیسی جگہوں کے کے علاوہ ہر جگہ زندگی معمول پر آ رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم کا عمل اس لیے بند ہے کیونکہ یہ ہماری کم ترین ترجیحات میں شامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق نوجوان افراد کووڈ 19 سے کم متاثر ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی پنجاب میں تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں پندرہ جولائی تک بند ہیں۔

عام پاکستانی کو کون سی چیز مذہبی طور پر جنونی بناتی ہے اور باقی ملکوں کے مسلمانوں کے برعکس انہیں سنبھالنا مشکل کیوں ہے؟ سعودی عرب آئندہ عیدالفطر کے موقع پر ملک بھر میں پانچ روزہ چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ ایران کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی بھی اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ اس دن مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔

لیکن اجتماعی نمازوں پر پابندی لگانا اور دوسرے مسلم ممالک کے اقدامات پر عمل کرنا پاکستان کے لیے ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ اگر حکومت نے یہ فیصلہ کرنا تھا تو عام پولیس اور ماتحت سپاہیوں نے احکامات کی نافرمانی کر دینی تھی۔ نائن الیون کے بعد طالبان کے خلاف مہم چلانے کے تلخ تجربات ابھی تک ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ذہنوں سے بمشکل مٹے ہیں۔

لہذا صدر علوی کے پاس اپنی عزت بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ آدھے سے زیادہ شہریوں، فوج کی اکثریت یا مکمل فوج اور حکومت میں سے کسی کی بھی بات ہو، لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز جیسے ملاؤں کو منانا ہی پڑتا ہے، کیونکہ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔ اس لیے ریاست محاذ آرائی کی بجائے باہمی تعاون کی راہ کو اپنانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن اس عمل کو بجا طور پر کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

کیا یہ مسئلہ مزید تعلیم حاصل کرنے سے حل ہو سکتا ہے؟ اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ تعلیم کو وسعت دینے سے عقلی نقطہ نظر پیدا ہو جائے گا اور پاکستان کو ترکی، ملائیشیا یا مراکش جیسے باشعور ممالک کے قریب لایا جائے گا۔ لیکن اگر تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ جو تدریسی مواد پڑھایا جا رہا ہے وہی پڑھانا ہے تو اس تعلیم سے کوئی تبدیلی آنا ممکن نہیں۔

عقلیت پسندی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے قومی نعرے یقین، اتحاد اور نظم و ضبط کی ایک مخصوص رنگ ڈھنگ سے کی گئی تعریف (ایمان، اتحاد، تنظیم) ہے، جو ضیا الحق کے دور میں رائج ہوئی اور اس کے بعد سے اب تک غالب ہے۔ صرف اور صرف عقیدہ کے ذریعہ قومی اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کر کے جو ہم نے قیمت ادا کی ہے وہ پاکستانی معاشرے میں عقلیت کے خد و خال اور دنیاوی اداروں پر یقین کا خاتمہ ہے۔ جس کے نتیجے میں گورننس کم ہوگئی۔ اس لیے عوام انسان کے بنائے ہوئے تمام ریاستی قوانین کو اعلیٰ اتھارٹی کے زیر نگرانی بنے ہوئے قواعد و ضوابط مانتی ہے۔

یہ ذہنیت زندگی کے ہر گوشے پر چھا رہی ہے۔ ان حالات میں تعلیم کی اصلاح اور ایک تنقیدی ذہنیت پیدا کرنا انتہائی مشکل عمل بن جاتا ہے۔ سائنس کے میدان میں ترقی (سائنسی فکر کے بغیر) بڑی بڑی رقوم لگانے کے باوجود نہیں ہوتی ہے۔ پاکستانی عوام بم، مشین اور دوائیں بنانے میں سائنس کی افادیت پر اعتراض نہیں کرتے ہیں، لیکن ثقافتی طور پر سائنسی فکر کہیں بھی نظر نہیں آتی ہے۔ اسکول میں سائنسی مضامین کا مطالعہ کرتے ہوئے چند ایک طلبا ہی سائنسی فکر سے روشناس ہوتے ہیں۔

ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا ہے کہ سائنس اور عقلیت پسندی کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھنے کے سبب ہمیں کووڈ 19 کی کتنی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ وبائی امراض اور وائرالوجی کے میدان میں طبعیات کی سی درستگی کا فقدان ہے، لہذا ہمارے بہترین ماہرین صرف اندازہ لگانے اور حکمت عملی طے کرنے کے بارے میں مشورہ دے سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں چونکہ سائنس کو کم سمجھا جاتا ہے اور اس کی قدر و منزلت بھی زیادہ نہیں ہے، اس لیے ان ماہرین کی ہدایات پر کوئی بھی عمل نہیں کرتا ہے۔

اگر قسمت اچھی ہوئی تو پاکستان میں اموات کی حتمی تعداد چند ہزار تک محدود رہے گی۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اس جہاز کا عملہ اور کپتان اسے سامنے موجود برفانی تودے سے دور ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *