‘ہمارے اداروں کا سب سے بڑا مسئلہ: ‘احساسِ بیگانگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمارے نجی اور سرکاری اداروں میں بالعموم عہد گزشتہ کے صنعتی دور کا انداز بندوبست مسلط ہے۔ عہد صنعت کا امتیازی نشان یہ تھا کہ اس میں فیکٹری کا مال بڑے پیمانے پر مشین کے ذریعے تیار ہوتا تھا۔ مشین کو چلانے والے میکانکی انداز میں صرف اپنے حصے کا کام جانتے تھے اور مصنوعات کی جامع تصویر ان کے نظروں سے اوجھل رہتی تھی۔ فیکڑی کے مالک و انتظامیہ بھی اپنے کاریگروں کو مشین کے کل پرزے ہی سمجھتے تھے۔ ان سے صرف کام کی بات کرتے تھے اور انہیں زیادہ منہ لگانے کا تکلف نہیں کیا کرتے تھے۔

رفتہ رفتہ ان کے کاریگر اس انتظام و انصرام کے طریقے کی وجہ سے اپنی انسانی حیثیت کھو بیٹھتے تھے اور اشیا میں تبدیل ہو جاتے تھے۔ اشیا کو استعمال کیا جاتا ہے جب کہ انسان عزت اور شفقت کے حقدار ہوتے ہیں۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ مالکان و منتظمین پہلے اپنے کاریگروں کی انسانی حیثیت کی نفی کرتے تھے اور پھر انہیں اشیا کی طرح استعمال کرتے اور ناکارہ ہونے پر ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا کرتے تھے۔

آج معیشت صنعتی عہد سے نکل کر نالج اکانومی میں داخل ہو چکی ہے۔ نالج اکانومی زرخیز اذہان کی عطا ہے جو بغیر کسی قسم کے ذہنی تحفظات کے سوچتے ہیں۔ وہ خیالات کے آزادانہ تال میل پر یقین رکھتے ہیں اور مل کر نت نئی مصنوعات کو تخلیق کرتے ہیں تاکہ انسانی ضروریات کی تشفی ہو سکے اور انسانی خواہشات کو مہمیز بھی دی جا سکے۔ ہاں البتہ، ان اداروں کے منتظمین جہاں پر نالج اکانومی پروان چڑھتی ہے، ابھی تک عہد صنعت کے انداز بندوبست کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ اپنے ہنر مندوں سے مکمل اطاعت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ان کے دربار میں حاضر و موجود پر سوال اٹھانے والے ناپسندیدہ قرار پاتے ہیں۔ عہد صنعت کے یہ متروک منتظمین نالج اکانومی کے ہنرمندوں سے صرف وہ خدمات چاہتے ہیں جو ان کے عقل کل کے حامل ذہن کی پیداوار ہوں۔ اس سے ہمارے اداروں میں قابل و ذہین لوگوں کے اندر ”احساس بیگانگی“ جنم لیتا ہے۔ حکم کے بندے دل سے نہیں, بیزاری سے کام کرتے ہیں۔ وہ اپنی معاشی بیڑیوں کے سبب میکانکی انداز میں اپنے ذمے لگا ہوا کام تو ضرور کرتے ہیں لیکن اپنے ادارے کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تجاویز دینے سے احتراز برتنا شروع کر دیتے ہیں۔

چونکہ ان اداروں کے فیصلہ سازوں نے اپنے اداروں میں سچ سننے اور سچ کہنے پر غیر علانیہ پابندی لگائی ہوتی ہے، اس لیے ان اداروں میں فیصلہ سازوں اور طاقت کے مراکز کی خوشنودی کا حصول عین مطلوب بن جاتا ہے۔ جب ہر انسان اپنی تعریف سے پھولے نہیں سماتا اور اپنی تنقید سے دل گرفتہ ہو جاتا ہے تو پھر فیصلہ ساز بھی انسان ہونے کے سبب اپنے قریب صرف اپنی مداحین ہی کو کرتے ہیں۔ اپنی آزاد سوچ رکھنے والے نالج ورکرز یا ہنر مند اپنی خودی کو بلند کرتے رہتے ہیں جب کہ جھکنے والے عظمتیں پا لیتے ہیں۔ وہ تمام ادارے جہاں شاہ کے مصاحب شاہ کے بلاشرکت غیرے کان اور آنکھ بن جاتے ہیں، وہاں پر روشنی سے گھبرانے والی چمگادڑیں خوب پنپتی ہیں اور یوں ایسے ادارے اپنے فیصلہ سازوں کی خود پرستی کے سبب اپنے زوال کی طرف سفر کا آغاز کر دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *