کرکٹ کی گیند پر تھوک لگانے پر پابندی کا امکان

فراز ہاشمی - بی بی سی اردو سروس لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ

Getty Images

کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم آئی سی سی جلد ہی کھیل کے دوران کھلاڑیوں اور خاص طور پر گیندبازوں کی طرف سے گیند پر تھوک لگانے پر مستقل پابندی عائد کرنے کا اعلان کر سکتی ہے۔

آئی سی سی کی طرف سے جمعہ کو کرکٹ کا کھیل بحال کرنے کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز جاری کی گئی ہے جس میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ حفظان صحت کے پیش نظر گیند پر تھوک لگانے پر مکمل پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

کورونا وائرس کے باعث دنیا کے اکثر ملکوں میں گزشتہ کئی ماہ سے لاگو حفاظتی پابندیوں میں نرمی شروع کیے جانے کے اعلانات کے ساتھ ہی کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی مختلف سطحوں پر کرکٹ کا کھیل بحال کیے جانے کے بارے میں تفصیلی ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے:

کرکٹ میں انقلابی تبدیلیاں، آئی سی سی کا اپریل فول؟

کورونا کہیں کرکٹ کو بھی غریب نہ کر جائے

کرکٹ کے نئے ’دی 100 ٹورنامنٹ‘ کا انعقاد موجودہ حالات میں ممکن ہے؟

کورونا: ’بند سٹیڈیم میں کرکٹ ممکن مگر کھلاڑیوں کی حفاظت مقدم ہے‘

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث کرکٹ بھی دوسری انسانی سرگرمیوں کی طرح کئی ماہ سے بند ہے۔ وبا کے شروع ہونے کے باعث پاکستان میں پی ایس ایل کے آخری مرحلے کے میچ بھی منسوخ کر دیے گئے تھے اور اسی طرح انڈیا میں آئی پی ایل شروع ہی نہیں ہو سکی تھی۔ اس کے علاوہ اس سال جون میں پاکستان کی ٹیم کو انگلینڈ کا دورہ کرنا ہے جس کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی اعلان نہیں ہوا ہے۔

آئی سی سی کی طبی مشاوارت کی کمیٹی کی طرف سے اس تفصیلی دستاویز کو جسے ‘آئی سی سی بیک ٹو کرکٹ گائیڈ لائن ‘ کا نام دیا گیا ہے کرکٹ کھیلنے والے رکن ملکوں کےطبی ماہرین سے مشاوارت کے بعد ترتیب دیا گیا ہے۔

کرکٹ کا کھیل بحال کرنے کے بارے میں اس ہدایت نامے میں کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا اور یہ فیصلہ اس نے کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی حکومتوں پر چھوڑ دیا گیا تاہم اس میں وہ قواعد و ضوابط یا شرائط درج ہیں جن کی پاسداری کرتے ہوئے کورونا وائرس کی وباء کے دوران کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے کھیل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

اس ہدایت نامے میں پریکٹس اور میچوں کے دوران علیحدہ علیحدہ شرائط وضع کی گئیں ہیں تاکہ کھیل کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔ میچوں کا انعقاد کرنے کے لیے مقامی حکومتوں کو بھی کچھ مشورے دیے گئے ہیں جن میں تماشائیوں کی تعداد کو محدود رکھنے، میچ کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت نہ کرنے اور ہر مرحلے پر سماجی فاصلے برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے۔

کھیل کے دوران کھلاڑیوں کے لیے کافی تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں جن میں میچوں کے دوران ہر مرتبہ گیند چھونے کے بعد ‘ہینڈ سینیٹائزر’ کا استعمال لازمی کر دیا گیا ہے۔

کھیل کے دوران گیند پر تھوک لگانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایمپائروں کے لیے دستانے پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کھلاڑیوں کو کھیل کے دوران پرجوش لمحات میں ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے اور ہاتھوں پر ہاتھ مارنے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔ کھلاڑیوں کو اپنی چیزوں مثلاً ٹوپی، چشمہ، جرسی، تولیا یا رومال وغیرہ یا اور کوئی چیز ایمپائر کو دینے کی اجازت بھی نہیں ہو گی اور انھیں ان اشیا کو اپنے پاس ہی رکھنا پڑے گا۔

کھلاڑیوں کے لیے سفری ہدایات بھی دی گئی ہیں اور یہ کہا گیا کہ جس حد تک ممکن ہو سکے وہ میچ کھیلنے کے لیے اکیلے اکیلے آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 13519 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp