کورونا کے شر میں خیر کا پہلو کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا نے مختلف لوگوں کو الگ الگ طریقوں سے متاثر کیا ہے۔ متاثرین میں سرفہرست وہ ہیں، جو اس وبا کا براہ راست شکار ہو کر علیل ہوئے۔ ان میں جو کم خوش قسمت تھے، وہ لقمہ اجل بن گئے۔ کم خوش قسمت سے مراد تقدیر کا لکھا نہیں، بلکہ وہ لوگ جن کی قوت مدافعت کمزور تھی یا جن کو مناسب علاج، خوراک اور وینٹی لیٹرز وغیرہ جیسی جدید سہولیات میسر نہیں تھیں۔ جوخوش قسمت تھے، وہ صحت یاب ہو کراپنے روزمرہ کے معمولات کی طرف لوٹ گئے۔

کورونا نے صرف جسمانی طور پر ہی نہیں، بہت لوگوں کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی متاثرکیا ہے۔ کئی لوگوں کو اپنے عزیزواقارب اور دوست احباب کی بیماری یا موت کے صدمے سے گزرنا پڑا۔ کچھ لوگ ڈپریشن کا شکار ہوئے۔ کئی ایک نے منشیات کے دامن میں پناہ لی۔ مغرب میں کورونا بحران کے دوران شراب اور دوسری نشہ آوراشیا کی خریدوفروخت میں خاصا اضافہ ہوا۔ یہ سب افسوسناک ہے، مگر کسی بڑی بیماری، قدرتی آفت یا وبا کی صورت میں ایسا ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ لوگوں کو ذہنی وجذباتی صدموں اور نفسیاتی الجھنوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ وباؤں کے بعد کے اثرات ہوتے ہیں۔ ان اثرات سے سماج کو لمبے عرصے تک لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔

کورونا کے جسمانی یا نفسیاتی اثرات بہت واضح ہیں، اور سب کو صاف دکھائی دیتے ہیں، مگر کورونا کے کچھ نادیدہ اور انتہائی گہرے اثرات بھی ہیں۔ یہ اثرات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گے۔ یہ وہ نادیدہ اثرات ہیں، جوکورونا کی وجہ سے انسانی نظریات وخیالات پر مرتب ہوئے ہیں۔ کورونا نے انسان کی نظریاتی دنیا کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا ہے۔ نظریاتی اعتبارسے انسان کی سوچ وفکرمیں تبدیلی آئی ہے۔ اس غیرمحسوس تبدیلی کا اظہارآنے والے برسوں میں ہوگا، مگرآج ہمیں جو کچھ اپنے اردگرد نظرآ رہا ہے، وہ بھی کم نہیں۔

کورونا نے روایتی معاشی وسماجی قدامت پرست نظریہ سازوں کو ذہنی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے یا یوں کہیے کہ ان کے نظریاتی دیوالیہ پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔ جولوگ نظام صحت میں ریاست کے کردارکو محدود بلکہ سرے سے ختم کرنے پر اصرار کرتے تھے، وہ خجل اور شرمندہ نظر آتے ہیں۔ جومعاشی وسماجی دانشورصحت عامہ کو انشورنس کمپنیوں اور پرائیویٹ کلینکس کے سپرد کر کے ریاست کو اس ”کاربے کار“ سے بری الذمہ قرار دلوانے کے پرچارک تھے، وہ لوگ آج کل پر اسرارخاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کو یہ سوال پریشان کیے جا رہا ہے کہ کیا ریاست کی پوری ذمہ داری اور ”مداخلت“ کے بغیرکورونا سے جنگ کرنا، اور انسانی زندگیاں بچانا ممکن تھا؟

امریکہ کی حالیہ سیاست میں جتنے انتخابی یا دانشورانہ مباحثے ہوتے رہے، ان میں سرفہرست یہ تھا کہ کیا سب امریکیوں کو میڈیکل کیئر، ہیلتھ کیئر یاعرف عام میں علاج معالجے کا حق اور سہولت ہونی چاہیے، اور اس حق کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے یا یہ کام انشورنس کمپنیوں اور نجی کاروباری اداروں کے سپرد کر دیا جائے؟ اس مباحثے میں کچھ لوگوں نے دماغ چکرا دینے والے دلائل دیے۔ ان میں بڑے اہم امریکی سماجی ومعاشی دانشور، اور سیاست کار شامل ہیں۔

اس موضوع پر اظہارخیال کرتے ہوئے روزنامہ وائرکے ایڈیٹر ان چیف بن شاپیرو نے 2017 میں ایک آرٹیکل لکھا تھا، جو امریکی حلقوں میں بڑی بحث کا موضوع رہا۔ آرٹیکل کا عنوان ہے ”ہیلتھ کیئر ایک تجارتی شے ہے حق نہیں“ ۔ شاپیرو لکھتا ہے ”اخلاقی اعتبار سے آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتاکہ آپ مجھ سے علاج معالجے کی سہولت کا تقاضا کریں۔ میں آپ کی ضرورت کو تسلیم کر سکتا ہوں، اور کچھ خیرات کی پیشکش کر سکتا ہوں۔ میں اور میرے دوست مل کرآپ کے علاج کی ضروریات کے لیے کچھ چندہ دے سکتے ہیں، لیکن اس سے بنیادی بات تبدیل نہیں ہوتی کہ میڈیکل کیئر ایک“ گڈ اینڈ سروس ”ہے۔

یہ ایک جنس، ضرورت یا تجارتی شے ہے، اور اسے کسی اور انداز سے دیکھنا بے وقوفی ہے۔ کسی بھی تجارتی شے کو سستا اور بہتربنانے کے لیے جس چیزکی ضرورت ہوتی ہے وہ منافع کی لالچ اور منافع کمانے کی آزادی ہے۔ حکومت صحت کی صنعت کو سرکاری ذمہ داری بنا کر منافع کے امکانات کو ختم کردیتی ہے۔ حکومت لاکھوں امریکیوں کے لیے علاج معالجے کے لیے سرکاری سطح پر اخراجات مہیا کرتی ہے، جس کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ہیلتھ انشورنس میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔

تو پھرغریب لوگوں کے لیے اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ بن شاپیرو یہ بنیادی سوال اٹھاتا ہے، اور پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس کا حل یہ نہیں کہ علاج معالجے کی سہولت کو غریب شہری کا بنیادی حق تسلیم کر لیا جائے۔ میڈیکل کیئر کے مسئلے کا حل بھی زندگی کے دوسرے مسائل کی طرح آزاد منڈیوں کے فلسفے میں پوشیدہ ہے۔ میڈیکل کیئرکو جنس تجارت کے طورپرماننے کا مطلب مارکیٹ میں اس کی تنگی اور قلت ضرور ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگوں کو یہ سہولت میسرنہیں ہو گی۔

مگر اس کا کوئی علاج نہیں۔ سرکار کی طرف سے سپانسر شدہ علاج معالجے کی سہولت کی اپروچ انفرادی آزادیوں کے خلاف ہے۔ آزادمنڈی کا فلسفہ علاج معالجے کی مانگ ہی کم کر دیتا ہے، کیونکہ آپ ان چیزوں کا کم استمال کرتے ہیں، جن کی آپ کو قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ بھاری قیمت ادا کرنے کے خوف سے لوگ چھوٹی موٹی تکالیف پر ہسپتالوں کے چکر کاٹنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ خیالات ایک امریکی لکھاری اور دانشور کے ہیں۔ یہ خیالات صرف دانشوروں تک ہی محدود نہیں، امریکا کے خوشحال اور خوش قسمت طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بہت بڑی تعداد ایسے ہی خیالات کی حامل ہے۔ قدامت پسند طبقات اور ان کے پیروکار بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ایک آزاد سماج میں ہیلتھ کیئر حکومت کا کام نہیں ہے۔

دوسری طرف بائیں بازو کے خیالات اس کے برعکس ہیں۔ بائیں بازو کے مختلف مکاتب فکر کا اس پر اپنا اپنا نقطہ نظرہے۔ اس حوالے سے فارلیفٹ سے لے کر مارکسسٹ لیننسٹ اور سوشلسٹ میڈیکل کیئرکو انسان کا بنیادی حق تصورکرتے ہیں، اور اس کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔ بائیں بازو کے لبرل اور آزاد خیال لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے صدر بارک اوبامہ نے 2008 کے صدارتی مباحثے میں کہا تھا ”میرا خیال ہے ہیلتھ کیئر ہرامریکی شہری کا حق ہونا چاہیے۔

ہمارے جیسے امیرملک میں یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کچھ لوگ اپنے علاج پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے دیوالیہ ہوجائیں۔ میری ماں تریپن سال کی عمرمیں کینسرسے چل بسی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری ایام ہسپتال کے کمرے میں انشورنس کمپنیوں سے لڑتے ہوئے گزارے تھے۔ انشورنس کمپنی کا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ انشورنس پالیسی لینے سے پہلے ہی کینسرکا شکاررہی ہوں، اس لیے وہ یہ بل ادا کرنے کے پابند نہیں۔ صدر اوبامہ سمیت کئی امریکی سیاست کاروں کی یہ رائے رہی ہے کہ امریکہ میں ایک نئی سول رائٹس موومنٹ کی ضرورت ہے۔

اور اب کی باراس تحریک کا مطالبہ سب کے لئے علاج معالجے کی سہولت کا حق ہونا چاہیے۔ علاج معالجے کی سہولت ایک جمہوری معاشرے کے ہرفرد کا حق ہے نہ کہ رعایت جو صرف ان لوگوں کو میسرہو، جو اس کے لئے قیمت ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بحث بہت پرانی ہے، اور امریکی ریاستوں کا ریاست ہائے متحدہ امریکہ بننے کے وقت سے جاری ہے۔ اس مباحثے میں کبھی دائیں بازو کے قدامت پرست لوگوں کا پلڑابھاری رہا ہے، اور کبھی یہ مباحثہ بائیں بازو کے آزاد خیال لوگوں کے حق میں رہا ہے اور شاید مستقبل میں بھی یہ مباحثہ جاری رہے۔

مگر ایک بات طے ہے کہ کورونا کے حملے نے اس بحث میں دائیں بازو کی قدامت پرست قوتوں کا مقدمہ بہت کمزورکر دیا ہے۔ کو رنا کی تباہی کا ایک سبق یہ ہے کہ صحت عامہ اور علاج معالجے جیسے نازک کام کلی طورپرنجی اداروں کے سپرد نہیں کیے جا سکتے۔ انسانی بہبود ہر جمہوری ریاست کا بنیادی فریضہ ہے اور صحت عامہ کی کلی ذمہ داری لیے بغیرکوئی ریاست اس فریضے کو سرانجام نہیں دے سکتی۔ اس بات میں اگرکسی کو شک تھا تو یہ شک کورونا بحران کے بعد دور ہوجانا چاہیے۔

کورونا بحران کا ایک واضح سبق یہ ہے کہ دنیا صحت عامہ کی نجکاری کے تصورات کو دفن کردے۔ کورونا کے تجربے نے یہ باب حتمی طورپربند کر دیا ہے۔ یہ اس شر سے خیر کا واحد پہلو ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا ہیلتھ کیئرکو ایک بنیادی انسانی حق تسلیم کرنے کا رسمی اعلان کرے۔ ہرریاست اس امرکو یقینی بنائے کہ اس کے ہر شہری کو مفت علاج معالجے کی سہولیات میسر ہوں۔
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *