ریحام خان، کرنل کی بیوی: خوشی کا سامان کہیں سے تو آئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تو ڈپریشن کا موسم، کچھ بیماری کی وجہ سے کچھ ہمارے حالات ہی ایسے ہیں۔ ادھار اور مانگے تانگے پہ گزارہ کرنے والا گھرانہ کبھی خوش وخرم ہو سکتا ہے؟ اور جس مملکت کی عادت بن چکی ہو مانگے تانگے پہ رہنے کی اس کا کیا حال ہوگا۔ دوسری بات یہ کہ ہم نے کچھ غیرضروری طور پہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔

اب یہی دیکھ لیجیے وہ مقابلے کا امتحان جو ریحام خان کے سامنے کسی ٹی وی اینکر نے رکھ دیا۔ داد دینی پڑتی ہے اس اینکر کو کہ سوال کیسا کیا اور کس بے دھڑک انداز سے۔ میرے جیسے آدمی کو ایسا سوال پوچھنا ہوتا تو گھوم پھر کے پتہ نہیں کہاں سے کہاں نکل جاتے اور مطلب پھر بھی سننے والے کے پلے نہ پڑتا۔

اس اینکر نما شخص نے سوال کیا پوچھا کلہاڑی اٹھائی اور دے ماری۔ ریحام خان بھی داد کی مستحق ہیں۔ کوئی اور خاتون ہوتی تو کم از کم کنفیوژن کا شکار ہو جاتی، لیکن ریحام کے لبوں پہ مسکراہٹ پھیلی، تھوڑا سا شرمائی ضرور کیونکہ سوال ہی ایسا تھا لیکن آنکھوں سے شرارت نہ گئی اور مسکراہٹ بھی قائم رہی۔ پھر شرمانے کے انداز میں جس طریقے سے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پہ لے گئیں وہ بھی کمال کا انداز تھا۔ سوال اگر بے دھڑک تھا تو جواب بھی اس سے کم نہ تھا۔ اول تو یہ ویڈیو سب نے دیکھ لیا ہوگا جنہوں نے نہیں دیکھا اور تجسس رکھتے ہیں یوٹیوب پہ جا کے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

ایسا انٹرویو امریکا میں کہیں آتا تووہاں کے ٹی وی اینکرخاص طور پہ وہ جو لیٹ نائٹ شو کرتے ہیں ہنس ہنس کے رل جاتے۔ انہوں نے ایسی ایسی باتیں نکالنی تھیں کہ خود تو محظوظ ہوتے پوری قوم کو بھی ہنسا کے رکھ دیتے۔ ہمارے لوگوں میں حس مزاح کی کمی نہیں لیکن معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے بہت کچھ جو ہم آپس میں کہتے ہیں اس کا برملا اظہار سرعام نہیں کر سکتے۔ خاص طور پہ ہم پنجابیوں کی آپس میں روزمرہ کی گفتگو نرالی ہوتی ہے۔

کون سے قریبی رشتے ہیں جن کو ہم بات کرتے ہوئے کھنگال کے نہیں رکھ دیتے لیکن ٹی وی وغیرہ پہ ایسے سنجیدہ چہرے رکھنے پڑتے ہیں اور ایک پوری فہرست ہے ایسے موضوعات کی جن کا سرعام ذکر شجر ممنوعہ ہے۔ اسی لیے ریحام خان کا مختصر سا تبصرہ (دوران مقابلے کے امتحان کے ) بہتوں نے سنا اور دیکھا ہوگا لیکن سرعام اس کے بارے میں کچھ کہنا آسان نہیں۔

دوسرا موضوع تفنن ان غصے میں آئی ہوئی بیگم صاحبہ کا ویڈیو ہے جب وہ اہلکاروں کی باز پرس کررہی تھیں، جنہوں نے ان کی کار روکنے کی جسارت کی۔ صنف نازک تو ایک عمومی سا لقب ہے۔ بیگم صاحبہ نے شاید نازک پہلو سب چھپا رکھے تھے۔ ویڈیو پہ کچھ تبصرے میں نے دیکھے ہیں جو بہت دلچسپ ہیں۔ کچھ میں تو لکھاہے کہ شوہر صاحب کسی تمغۂ استقامت کے مستحق ہیں کہ انہیں پتہ نہیں کیا کیا برداشت کرنا ہوتا ہو گا۔ بہرحال بیگم صاحبہ نے وہاں موجود اہلکاروں کا کیا بگاڑنا تھا، اپنے شوہر کی نوکری انہوں نے یقیناً متاثر کردی ہے۔ یہ قسمت کی باتیں ہیں۔ شریک حیات، مرد یا عورت، خالصتاً قسمت کا کھیل ہوتا ہے۔ کس کے حصے میں کیا آئے کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔

زیادہ تر لوگوں سے ایک رشتۂ ازدواج صحیح طور پہ ہینڈل نہیں ہوتا۔ قسمت اچھی ہو پھر تو کوئی بات نہیں لیکن سودا کھوٹا نکل آئے تو زیادہ تر لوگ، مرد ہوں یا خواتین، بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی کوئی ہوتاہے جو دھڑلے سے کام لے سکتا ہے۔ کئی خواتین جو ایک سے زیادہ رشتۂ ازدواج میں منسلک رہی ہوتی ہیں، ان میں کمال کا اعتماد ہوتا ہے۔ ایک خاص شخصیت کی مالک خاتون ہی ایسا کر سکتی ہے نہیں تو زیادہ تر اگر ان کے بھاگ اچھے نہ ہوں دب کے رہ جاتیں ہیں۔

کئی مرد بھی ایسے ہوتے ہیں جو ڈاڈھی زنانی کے سامنے بیچارے لگتے ہیں، لیکن ایسے مردوں کی کمی بھی نہیں جو ہرچیز ڈنکے کی چوٹ پہ کرتے ہیں۔ نام لینا تو مناسب نہیں لیکن کئی ایسے شہرت رکھنے والے مرد ہیں جو ایک سے زیادہ بار اس رشتے میں گئے اور کبھی اس حقیقت کو نہیں چھپایا۔ ہمارے ایک جاننے والے ہیں، اسلام آباد کے رہائشی ہیں۔ عمر 80 کے لگ بھگ ہوگی۔ بچے جوان ہیں اور سب کے نام اپنے حصے کی جائیدادیں ہیں۔ پہلی بیوی فوت ہوچکی ہے۔

حالیہ دنوں میں اپنے سے خاصی کم عمر دوشیزہ سے رشتہ کیا اور دھوم دھام سے ولیمے کا اہتمام کیا۔ بات توہوئی نا۔ نہیں تو کئی رنگین مزاج اشخاص اپنی ایسی حرکات کو خفیہ رکھنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ شہر میں چپکے سے ایک شادی کرلی وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں ادا اپنے جاننے والے کی اچھی لگی۔ کچھ کرو تو سہنے کا جگرا بھی رکھو۔

چینی سکینڈل کا ذکربھی ہو جائے۔ کیسے کیسے لمبے ہاتھ ان سب نے مارے ہیں۔ گنے کے کاشتکاروں کا استحصال تو پرانی بات ہے۔ اوپر سے حکومتیں مل والوں کو اضافی رقوم سبسڈی کے ضمن میں دیتی رہی ہیں۔ کیا مزے کی لوٹ مار۔ نرالی بات تو یہ ہے کہ شوگر مالکان کی نمائندگی تمام سیاسی پارٹیوں میں ہے۔ اسی لیے سکینڈل پہ جو کمیشن بیٹھا اس کی رپورٹ آئی تو تقریباً تمام پارٹیوں کے زعما نے اسے مستردکر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کچھ ہونا بھی ہے یا نہیں۔ اس ملک میں جن کے لمبے ہاتھ ہیں ان کے ساتھ کبھی کچھ ہوا ہے؟ کرپشن کا سن سن کے کان پک چکے ہیں۔ کرپشن کے نام پہ نعرے لگتے ہیں، تقریریں ہوتی ہیں، ہونا ہوانا کچھ نہیں۔ یہ بس باتیں ہیں عام لوگوں کو بہلانے کے لئے۔ عوام بھی ہیں کہ باآسانی بہل جاتے ہیں۔

یہ جو خبروں میں بات آئی ہے کہ اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں میں جو ایک مشہور ریستوران ہے اس نے اپنے توسیعی منصوبے کے تحت سینکڑوں درختوں کا قتل عام کر دیا۔ خبروں کے مطابق بغیر کسی باقاعدہ اجازت کے۔ وزیراعظم کے ماحولیات کے ایڈوائزر ملک امین اسلم حرکت میں آئے ہیں اور ریستوران کو سیل کر دیا گیا ہے۔ قانونی کارروائی بھی کئی اشخاص کے خلاف ہوئی ہے۔ لیکن درحقیقت کارروائی تو سی ڈی اے کے چیئرمین کے خلاف ہونی چاہیے۔

ریستوران جہاں واقع ہے کوئی خفیہ جگہ نہیں۔ سی ڈی اے کو نہیں پتہ چل رہا تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ بس ہمارے ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ وقتی کارروائی، لیپا پوچی کے لئے اور پھر حالات معمول پہ آ جاتے ہیں اور جس کی جو مرضی ہو ایسا ہی کرتا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ آپ با اثر ہوں۔ با اثر افراد کے لئے یہ دنیا کا آزاد ترین ملک ہے۔

عید کیسے گزرے گی؟ اس عید پہ کورونا کا اثر نمایاں ہے۔ بازار اور شاپنگ مال کھل گئے ہیں لیکن پھر بھی وہ بات نہیں جو نارمل حالات میں ایک روایت ہوا کرتی تھی۔ قوم کا مزاج کچھ بجھا بجھا سا ہے۔ جن طبقات نے معیشت کے بند ہونے سے نقصان اٹھایا ہے وہ تو ابھی تک نفع نقصان کا حساب لگا رہے ہیں۔ حساب مکمل ہوگا تو عید کی خوشیوں کی طرف لوگوں کا دھیان جائے گا۔

ایک اور بے ضرر طبقہ ہے، بدنام بہت لیکن کسی کو نقصان پہنچانے والا نہیں۔ اس طبقے کے افراد پہ بہت بری گزری ہے۔ بات کریں تو روتے ہوئے ملیں گے کہ فلاں چیز نہیں مل رہی، فلاں کی قیمتیں بہت اونچی پہنچ چکی ہیں۔ اس طبقے کا حال دیکھ کے دل میں ہمدردی اٹھتی ہے۔ مزاجاً یہ لوگ فقیر اور درویش قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔ اوپر سے یہ موضوع بھی ایسا ہے کہ کھل کے بات نہیں ہو سکتی۔ ظلم کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے کہ دل پہ زخم ہوں اور آپ کچھ کہہ بھی نہ سکیں۔

پس تحریر: پچھلے کالم میں غلطی ہو گئی۔ ایس ایچ او کلفٹن جو مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد پراسرار طور پہ مارے گئے، ان کا نام حق نواز سیال تھا، نوازش علی نہیں۔ اس غلطی کی معذرت۔ کالم کا جو موضوع تھا یعنی نواب شاہ کی خبریں ان کے بارے میں ملک کی سب سے باخبر شخصیت جن کا پراپرٹی کاروبار میں بڑا نام ہے سے رجوع کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ نواب شاہ کے مکینوں کے بارے میں جو افواہیں گردش کررہی ہیں یہ 2000 فیصد غلط ہیں۔ اور میں نے ان افواہوں پہ پورا کالم داغ ڈالا۔

بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ریحام خان، کرنل کی بیوی: خوشی کا سامان کہیں سے تو آئے

  • 23/05/2020 at 1:38 pm
    Permalink

    Thank you for writing a such good colom.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *