ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر: کیا کھدائی کے دوران ملنے والے باقیات کا بدھ مت سے کوئی تعلق ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں بابری مسجد رام مندر کے تنازعے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ اترپردیش کے ایودھیا میں سری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کھدائی کے دوران اس جگہ کے احاطے میں پرانے مندر کی تمام باقیات ملی ہیں۔

جبکہ سوشل میڈیا پر ان باقیات کی تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں اور ان کے بدھ مت سے منسلک ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔

ٹرسٹ نے ضلع مجسٹریٹ یعنی کلکٹر کی اجازت سے 11 مئی سے وہاں زمین کو ہموار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں کا بڑا ہجوم منتشر

بابری مسجد مقدمہ: ہندو فتح کے، مسلمان انصاف کے منتظر

مسجد کے لیے مجوزہ زمین پر مسلمانوں کو اعتراض کیوں؟

ٹرسٹ کے جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ زمین کو کھود کر سطح برابر کرنے کے دوران بڑی تعداد میں دیوی دیوتاؤں کے ٹوٹے ہوئے مجسمے، گل کڑیاں، آملک اور دوسرے نوادرات سامنے آئے ہیں۔

ٹرسٹ کے سکریٹری چمپت رائے نے میڈیا کو بتایا: ’اب تک سات بلیک ٹچ سٹون کے ستون، چھ ریڈ سینڈ یعنی سرخ رنگ کے پتھر کے کالم، پانچ فٹ کے نقش و نگار والے شولنگ اور محراب کے پتھر برآمد ہوئے ہیں۔ جبکہ مسطح کرنے کا کام جاری ہے۔‘

ٹرسٹ کی جانب سے مندر کے نوادرات کو وہاں رام مندر کے وجود کے مستند حقائق کے طور پر بیان کیا جارہا ہے۔ مسطح کرنے کا کام رام جنم بھومی میں اس جگہ پر کیا جارہا ہے جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے رام کی مورتی رکھی تھی۔

کب سے ہو رہا ہے کام؟

ٹرسٹ کی جانب سے وہاں تک جانے کے لیے بنائے گئے گیلری نما راستے کو صاف کیا جا رہا ہے تاکہ مندر کے تعمیر کے کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔

چمپت رائے نے بتایا کہ سطح ہموار کرنے کے کام میں تین جے سی بی، ایک کرین، دو ٹریکٹر اور دس مزدور تعینات کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ سارے کام کورونا وائرس کے حوالے سے حفاظتی معیار، ماسک اور معاشرتی دوری وغیرہ پر سختی سے عمل کرتے ہوئے ہو رہے ہیں۔

ایودھیا کے ضلعی مجسٹریٹ انوج کمارجھا کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران تعمیراتی کام کا آغاز کرنے کی اجازت مانگی تھی جو منظور کرلی گئی ہے اور وہاں معیار کے تحت کام جاری ہے۔

وہاں پائے جانے والی باقیات کے بارے میں ڈی ایم انوج کمار جھا نے کہا: ’جو کچھ بھی باقیات وہاں پائی گئیں ہیں وہ ٹرسٹ کی نگرانی میں رکھی گئیں ہیں اور ان کی صاف صفائی کی گئی ہے۔

’ان کی ابھی تک آثار قدیمہ کے نقطہ نظر سے جانچ نہیں کی گئی ہے اور ایسا کرنا جلد ممکن نہیں ہے۔‘

مسطح کرنے کے دوران جو چیزیں ملی ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس طرح کے باقیات پہلے بھی مل چکے ہیں۔

اس سے پہلے بھی باقیات ملے ہیں

مقامی صحافی مہیندر ترپاٹھی کا کہنا ہے کہ ’پرانے مندر کی باقیات پہلے بھی مل چکے ہیں۔ ابھی جو چیزیں مل رہی ہیں وہ انھیں سے متعلقہ ہیں۔

’چاہے وہاں شولنگ، کلش یا مجسمے ہوں۔ چونکہ اس جگہ پر فوری طور پر حکومت نے قبضہ کر کے رام لالا کی مورتی وہاں رکھوا دی تھی لہٰذا اس وقت یہاں کے سامان محفوظ نہیں کیے گئے تھے۔ اب وہی چیزیں مل رہی ہیں۔‘

لیکن بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر اور سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے ان باقیات کی دریافت پر سوال اٹھایا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’سپریم کورٹ نے اے ایس آئی کے شواہد کے مطابق کہا تھا کہ 13ویں صدی میں وہاں کوئی مندر نہیں تھا، ایسے میں باقیات کے ملنے کا معاملہ پروپیگینڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔‘

رام جنم بھومی کے سربراہ پجاری آچاریہ ستیندر داس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل محکمہ آثار قدیمہ نے اس جگہ کی کھدائی کی تھی اور کھدائی میں مندر کے شواہد ملے تھے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ستیندر داس نے کہا کہ ‘کھدائی میں پائے گئے شواہد کی بنیاد پر ہی سپریم کورٹ نے رام للا کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔ اب ایک بار پھر رام مندر سے متعلق ایسے شواہد ملے ہیں جس میں کمل دل، شنکھ، چکر اور دھنوش۔

’یہ ساری چیزیں سناتن دھرم سے وابستہ ہیں اور اشارہ کرتے ہیں کہ یہاں پہلے ہی ایک مندر تھا۔‘

بدھ مت کو ماننے والے کیا دعویٰ کرتے ہیں؟

دریں اثنا کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ کھدائی میں پائی جانے والی تمام باقیات کا تعلق شو لنگ یا مندر سے نہیں ہیں بلکہ وہ بدھ مت کے ستون ہیں اور ان کا تعلق بدھ مت سے ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگ ہیش ٹیگ ’بدھ ستھل ایودھیا‘ کے نام سے کھدائی میں پائی جانے والی باقیات کی تصاویر بھی شیئر کر رہے ہیں۔

پچھلے سال رام مندر کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مندر کو دیے جانے والے علاقے میں مندر کی تعمیر کا عمل شروع ہوا۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ کام دو ماہ تک شروع نہیں ہو سکا لیکن لاک ڈاؤن میں نرمی دیے جانے کے بعد یہ کام دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ ایودھیا کے رام جنم بھومی نیاس ورکشاپ میں کنندہ پتھروں کی صفائی کا کام بھی شروع ہو چکا ہے۔

گذشتہ سال نو نومبر کو سپریم کورٹ نے اس تنازع سے متعلق 2.77 ایکڑ اراضی رام للا کے حوالے کر دی تھی۔

عدالت نے مرکزی حکومت سے مندر کی تعمیر اور انتظام کے لیے ایک ٹرسٹ تشکیل دینے کو کہا تھا۔

سپریم کورٹ نے ایودھیا میں ہی مسجد کی تعمیر کے لیے ایک فریق سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ اراضی دینے کا حکم دیا تھا جو حکومت نے انھیں دے دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16052 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp