دنیا پیتل دی او یار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت میں تین الجھنوں کا شکار ہوں۔پہلی الجھن یہ ہے کہ مجھے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی باتیں یاد آرہی ہیں جو میری موجودہ حالت پر پوری اترتی ہیں۔ دوسری الجھن یہ ہے کہ میری بیوی میری موجودہ حالت پر خوش ہے۔ اس کے مطابق میری سوشل میڈیا پر درست ٹھکائی ہو رہی ہے۔ اس کی برسوں پہلے کی گئی پیشگوئی درست نکلی ہے۔ تیسری الجھن یہ ہے کہ کالم نگار دوست نے برسوں پہلے مشورہ دیا تھا‘ کالموں میں ذاتی مسائل یا ایشو  لے کر نہ بیٹھ جانا۔ قاری کو آپ کے ذاتی مسائل سے دلچسپی نہیں ہوتی۔
تینوں کی باتیں نہیں مانیں اور پوری دنیا میں تماشہ بن گیا ہوں۔ جب آپ پبلک فیس ہوں اور آپ پر کیچڑ اچھالا جارہا ہو تو پھر آپ فقیر، سادھو، ولی نہیں ہیں کہ آنکھیں موندے بے پروا بیٹھے رہیں۔ آپ نے اسی معاشرے میں رہنا ہوتا ہے اور آپ لوگوں کو جوابدہ ہوتے ہیں‘ چاہے ایشو خاندان کا ہی کیوں نہ ہو۔
بریگیڈیئر اعجاز شاہ سے میری پہلی ملاقات دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد اسحاق خاکوانی ساتھ ہوئی تھی۔ وہ ننکانہ سے الیکشن ہار کر بیٹھے تھے اور بہت افسردہ تھے۔ وہ جنرل مشرف دور میں پنجاب میں ہوم سیکرٹری اور پھر اسلام آباد ڈی جی آئی بی رہے۔ انہوں نے ان برسوں میں رج کے اپنے علاقے کے لوگوں کے کام کیے۔ نوکریاں دیں، ترقیاتی کام کرائے، ضلع بنوایا۔ مجال ہے کوئی بندہ آیا اور انہوں نے کام نہ کیا ہو۔ انہیں یقین تھا وہ الیکشن لڑنے جائیں گے تو پورا علاقہ انہیں سر پر بٹھائے گا لیکن وہ الیکشن ہار گئے۔
وہ بار بار مجھے دیکھتے اور کہتے: دنیا پیتل دی او یار‘ دنیا پیتل دی او یار۔ اتنا کچھ علاقے کے لوگوں کے لیے کیا‘ شاید تاریخ میں کسی نے نہ کیا ہوگا۔ ان کے مقابلے جو جیتا ہے اس نے ٹکے کا کام بھی نہیں کیا ہوگا۔ وہ بولے: دنیا بڑی ظالم ہے‘ آپ اس کا کچھ بھی کر لو کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سب پیتل کی دنیا ہے۔
دوسری طرف میری بیوی مجھے کہتی تم گاؤں کے جن دو تین اپنے رشتہ داروں کا بہت کرتے ہو‘ ان میں سے ایک تمہیں ڈنک مارے گا۔ اس نے ایک کا نام بتایا کہ یہ مارے گا۔ میں نے کہا: تم کیسے کہہ سکتی ہو وہ تو میرا بہت احترام کرتا ہے۔ وہ بولی: ایک تو تم نے اس لڑکے کا بڑی مشکل سے سفارش پر داخلہ کرایا ہے، پھر اس کے ماں باپ کے رونے دھونے پر دہشت گردی کے مقدمے میں اس کی ضمانت کرائی اور تیسرے یہ تمہیں ہمیشہ جھک کر ملتا ہے۔ یہ میسنا سازشی لگتا ہے۔ اس سے خبردار رہنا یہ تمہیں ڈسے گا۔ حضرت علی کا قول سناتی کہ جس کم ظرف پر احسان کرو اس کے شر سے ڈرو۔ میں اس سے لڑ پڑا تھا کہ تم غلط بات کرتی ہو۔
تیسرا وہ بولتی‘ تم سرائیکی وسیب کے چاچے مامے بن لو انہیں موقع ملا تو یہی تمہارے اوپر توپیں اور گنیں تان کر کھڑے ہوں گے۔ وہ کہتی: تم سرائیکیوں کے حقوق کی بات کرتے ہو یہی سرائیکی ایک دن تمہیں نبٹ لیں گے۔ میں ہنس کر کہتا: تم خود پنجابی ہو اس لیے تمہارے اندر روایتی سرائیکیوں بارے بغض ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ گائوں میں میرے دو عزیروں کے درمیان زمین کا بیس سال سے ایشو چل رہا تھا۔ پچیس مئی کو گائوں کے لوگوں کی مداخلت سے وہ معاملہ حل ہو گیا اور ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو وہ زمین ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی موجودگی میں حوالے کر دی۔ یہ سب قانونی طور پر ہوا۔ ابھی یہ عمل مکمل ہوئے کچھ دیر ہوئی تھی کہ ایک اور گروپ چالیس پچاس مسلح افراد کو لے کر آ گیا‘ اسلحہ کے زور پر اسی زمین پر قبضہ کر لیا اور اس کے مالک کو مارنے اور قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔
وہ پڑھا لکھا عزیز سمجھدار نکلا اور لڑنے اور قتل ہونے یا قتل کرنے کی بجائے جیسے زمینوں پر ہوتا ہے اس نے تھانے میں درخواست دے دی۔ پولیس کو پتہ چلا کہ لڑائی یا ہنگامہ ہو سکتا ہے تو فوراً ضلعی انتظامیہ کو اطلاع دی گئی۔ انہوں نے فوراً پولیس کو موقع پر پہنچنے کا کہا اور اسسٹنٹ کمشنر بھیج دیا کہ وہ زمین دیکھے کس کی ہے۔ جب پولیس پہنچی تو اس قبضہ گروپ نے وہاں افسران کے ساتھ بدتمیزی کی۔ یوں ایف آئی آر کی روشنی میں آٹھ لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دو مفرور ہیں۔
اب یہ سب قانونی ہو رہا تھا بلکہ اچھا ہوا کوئی بندہ نہیں مرا اور قانون کی مدد لی گئی ورنہ گائوں میں ایسے موقعوں پر لاشیں پولیس آ کر اٹھاتی ہے۔ لیکن ملزم پارٹی نے فوراً میرے نام سے سوشل میڈیا پر الزامات کی بھرمار کر دی کہ یہ ڈان ہے، قبضہ گروپ ہے، لفافہ ہے، بدمعاش ہے، سرائیکوں کا دشمن ہے۔ وسیب کا غدار ہے۔ اور جس نے میرے خلاف یہ غلیظ مہم شروع کی وہ میرا اپنا وہی عزیز ہے جس کا سفارش پر داخلہ کرایا تھا، جس کی دہشت گردی مقدمے سے ضمانت کرائی تھی اور جو جھک کر ملتا تھا اور جس کے بارے میں میری بیوی نے پیش گوئی کی تھی۔
گاؤں کے اس لڑکے نے شاید درست لکھا کہ میرا جیسا ایک ڈان ہی کسی کو سفارش پر داخلہ دلوا سکتا ہے یا بڑے جرم پر ضمانت پر رہا کرا سکتا ہے اور اپنے بھانجے کو اس کا عدالت میں ضامن بنا سکتا ہے۔
جس نوجوان بارے میری بیوی نے پیش گوئی کی تھی اس نے ہی میرے خلاف پہلی پوسٹ فیس بک پر لکھی اور دنیا جہاں کا گند مجھ پر اچھال دیا۔ میری بیوی نے ہی وہ سکرین شاٹ مجھے بھیجا۔ خیر اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دوستوں نے گالی گلوچ شروع کی کیونکہ ان کا خیال تھا پیپلز پارٹی حکومت کے خلاف سکینڈل فائل کا سکور سیٹل کرنے کا نادر موقع ہے۔ پھر لیّہ شہر کے مہربانوں نے حصہ ڈالا۔ پھر ڈیرہ اور تونسہ کے بلوچ بھائی کودے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں میں ان کے بلوچ بھائی زرداری پر سکینڈل فائل کرتا رہا ہوں۔ اس کے بعد مزے کا کام یہ ہوا کہ میرے سرائیکی قوم پرست (سب نہیں) اس میں کودے اور انہوں نے مجھے رنجیت سنگھ سے ملا دیا۔
قصور یہ تھا کہ ایک خاندانی زمین کے تنازع میں ایک پارٹی نے خود قتل ہونے یا کرنے کی بجائے قانون کی مدد مانگ لی تھی۔ مطلب‘ تھانے کیوں گئے؟ خود ایک دوسرے کی لاشیں گراتے تو پورے سرائیکی وسیب کے دلوں میں ٹھنڈ پڑ جاتی۔ اس ملزم پارٹی کا مقصد یہ تھا میں اپنے یتیم بھانجے منصور پر دبائو ڈالوں کہ وہ اپنی لاکھوں کی آبائی جائیداد چپ چاپ حوالے کر دے ورنہ رؤف کلاسرا کی سوشل میڈیا پر خیر نہیں۔
میری بیوی مجھے کہتی ہے: تم سے تمہارے گائوں کے یہ چند بلیک میلرز زیادہ سمارٹ ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ تمہیں کیسے بلیک میل کرنا ہے۔ تم ان سے نقصان اٹھا لیتے ہو لیکن جوابی قانونی کارروائی تک نہیں کرتے کیونکہ ڈرتے ہو لوگ کیا کہیں گے۔ سب کہیں گے‘ رؤف کا قصور ہے۔ اپنے امیج کے چکر میں تم خاندان کو لے ڈوبے ہو۔ گائوں میں تمہارے بڑے بھائی کی پانچ کنال پر اسی قبضہ گروپ نے قبضہ کر لیا لیکن تم نے بھائی کو منع کر دیا‘ کہہ دیا کارروائی نہ کرنا کہ لوگ کیا کہیں گے۔
وہ تمہارے باپ کی لاکھوں کی جائیداد لے اڑے اور تم اچھا بننے اور اپنا امیج بنانے کے چکر میں رہے۔ اب بھی انہوں نے یہی کچھ کیا ہے کہ جھگڑا رؤف کے عزیز کے ساتھ ہے، نہ تم مدعی نہ ملزم لیکن تمہیں انہوں نے گھسیٹ لیا تاکہ تم اپنے یتتم بھانجوں کو اس طرح مجبور کرو جیسے بھائی کو کیا تھاکہ یار انہیں زمین دے دو لوگ کیا کہیں گے کہ رئوف کلاسرا علاقے کا ڈان ہے۔ زمین کسی اور کی، مدعی کوئی اور، ملزم کوئی اور لوگ ہیں لیکن پوری دنیا میں مجرم تم بنا دیے گئے ہو۔
اس کا ہنس ہنس کر آج کل برا حال ہے اور کہتی ہے: یار تم کس چکر میں پڑ گئے ہو؟ تم کن لوگوں کو خوش کررہے ہو؟ انسان خدا کا ناشکرا ہے جس نے ہزاروں نعمتیں دیں اور تم سمجھ بیٹھے ہو تم ان کے کام آئو گے اور اچھے رہو گے تو یہ تمہاری عزت خراب نہیں کریں گے؟
ان کے ہاتھ تمہاری کمزوری آ گئی ہے کہ تم حکمرانوں سے دوستی نہیں رکھتے، علاقے میں کسی سے زیادتی نہیں کرتے، تھانے اٹھوا کر پٹواتے نہیں ہو، ایس ایچ او مرضی کا نہیں لگواتے، ضلع کے ڈی سی، ڈی پی او سے ملنے نہیں جاتے۔ وہ بولی: اگر تم نے بھی تھانہ کہچری کی ہوتی، مرضی کا ایک آدھ ایس ایچ او لگواتے اور گائوں آتے جاتے رہتے تو تمہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
خیر کہنا یہ تھا‘ جن پنجابی بھائیوں سے ہم نے سرائیکی صوبہ لینا تھا انہوں نے میرے دفاع میں لکھا اور جنہیں جانتا تک نہیں تھا انہوں نے لکھا۔ جن سرائیکی بھائیوں کے حقوق کے لیے یہاں لڑتا رہا اور دشمنیاں پالیں انہوں نے دو پارٹیوں کے زمین پر جھگڑ پر مجھے خوب ننگا کیا ہے۔ دوستوں نے حق میں بھی بہت لکھا۔ جن سے کبھی نہ ملا تھا انہوں نے میرے حق میں گواہیاں دیں۔ بہت شکر گزار ہوں۔ دشمنوں نے بھی خوب لکھا اور ان کا لکھنا بھی بنتا تھا۔
باقی سب کچھ سہہ گیا ہوں لیکن بیوی کی خوشی اور جیت نہیں سہی جارہی کہ اس کی باتیں کیسے سچی نکلی ہیں کہ تمہیں ڈنک ماریں گے اور اپنے ماریں گے اور وہی میسنا لڑکا مارے گا‘ جس پر تمہارے احسانات ہیں اور وہ تمہیں جھک کر ملتا ہے۔
بریگیڈیئر اعجاز شاہ کی بات یاد آرہی ہے‘ دنیا پیتل دی او یار!
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *