لاک ڈاؤن کے دنوں میں خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات کی کارروائیاں، شکاری سوشل میڈیا سے خود شکار ہو گئے

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کووڈ 19 کے پیشِ نظر جاری لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان کے کچھ علاقوں میں شکار میں زبردست اضافہ دیکھا گیا جس کے باعث محکمہ جنگلی حیات کو بھی حرکت میں آنا پڑا۔

صوبہ خیر پختونخوا میں نقل و حرکت محدود ہونے سے جنگلی حیات انسانوں کی آبادی میں کھل کر سامنے آئی ہے تو وہیں شکاریوں نے چڑیوں، تیتروں اور چکوروں سے لے کر بڑے جانوروں تک کے بے دریغ شکار کیے ہیں۔

نایاب جانوروں کے شکار کے لیے محکمہ وائلڈ لائف سے اجازت لینا لازم ہوتا ہے۔ جبکہ محکمہ شکار کے حوالے سے کچھ اصول طے کرتا ہے۔ ایسے میں بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کے ذریعے حکام نے قانون کی خلاف ورزی پر بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں اور سزا کے طور پر متعلقہ افراد پر جرمانے بھی عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا تیندوے اسلام آباد کے گنجان آباد علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں؟

چترال میں مارخور کے قانونی شکار پر تنازع کیوں ہوا؟

شیر اور چیتے کی افزائش نسل: شوق بھی، کاروبار بھی

نایاب کھالیں پاکستان میں کیسے بک رہی ہیں؟

لاک ڈاؤن میں شکار اور اسے فخر سے سوشل میڈیا پر پیش کرنا

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات نے ایسے افراد کے خلاف بھی کارروائی کی ہے جنھوں نے غیر قانونی طور پر نایاب جانوروں کے شکار میں حصہ لیا اور پھر اپنے شکار کے ساتھ تصاویر یا ویڈیوز فخریہ انداز میں سوشل میڈیا پر جاری کیں۔

ان پرندوں اور جانوروں کے شکار کے ایک نمایاں واقعے میں ایک نایاب کونج، جسے ہوڈڈ کرین بھی کہا جاتا ہے، کا بھی شکار کیا گیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ پہلی مرتبہ پاکستان میں داخل ہوئی تھی۔

نایاب جانوروں کے شکار کے علاوہ بعض افراد نے عام شکار میں بھی حدود سے تجاوز کیا۔ جیسے ایک شخص نے ’ساڑھے نو سو یوریشین چڑیوں کا شکار کیا‘، کسی نے غیر قانونی طور پر گھر میں ہی شیر پال لیا اور تو اور کسی نے ریچھ اور مادہ مارخور کے بچے کا شکار کر دیا۔ اسی طرح ایک شخص نے 60 سے زیادہ تیتروں اور چکوروں کو مار دیا تھا۔

شکاریوں کی جانب سے یہ سب سوشل میڈیا پر فخریہ انداز میں پیش کیا جا رہا تھا جس پر حکام نے کارروائی کی۔

خیبر پختونخوا کے محکمہ جنگلی حیات کے مطابق انھوں نے صرف ان چند ماہ میں 300 کے لگ بھگ ایسے افراد کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

یاد رہے کہ صوبے میں سماجی فاصلے کی ہدایات کے تحت لوگوں کو گھروں تک محدود کی تلقین کی گئی تھی۔

موسم بہار میں بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے پرندے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آتے ہیں اور یہاں سے گزرتے ہیں۔ اس مرتبہ چونکہ کورونا وائرس کے وجہ سے لاک ڈاؤن رہا اور لوگ گھروں میں فارغ تھے تو ایسے میں انھوں نے پرندوں اور جانوروں کے شکار شروع کیے اور سوشل میڈیا کے پیجز پر ڈال دیے۔

ہوڈڈ کرین یا کونج

ملاکنڈ ڈویژن کے ایک علاقے میں چند دوست شکار کے لیے نکلے اور انھیں ایک نایاب پرندہ نظر آیا جسے انھوں نے اپنی بندوق کی گولی سے ہلاک کر دیا۔

ان دوستوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں جس میں تینوں دوست اس پرندے کے ساتھ سیلفی لیتے رہے۔ محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا کے مطابق یہ ہوڈڈ کرین یا کونج تھی جو پہلی مرتبہ پاکستان میں دیکھی گئی ہے۔

یہ کونج نایاب ہے اور یہ جسامت میں دیگر کونجوں سے چھوٹی ہوتی ہے لیکن پھر بھی لگ بھگ یہ ایک میٹر تک ہوتی ہے۔ یہ پرندہ سائبیریا کا ہے لیکن اس کی بڑی تعداد جاپان میں پائی جاتی ہے۔

ملاکنڈ ڈویژن کے ضلعی فارسٹ حکام نے بتایا کہ نوجوان شکاریوں نے سوشل میڈیا پر تصاویر لگائیں جس پر متعلقہ اہلکاروں نے شکاریوں کی نشاندہی کی اور مقدمہ درج کر دیا ہے۔ لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے عدالتی کارروائی میں اب تک پیشرفت نہیں ہو سکی۔

965 چڑی مار

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نوجوان نے لگ بھگ 965 یوریشین چڑیوں کا شکار کیا اور تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں۔

واقعہ گذشتہ ماہ ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب کلاچی میں پیش آیا تھا جب شکاری محمد ساجد نے فیس بک پر ذبح شدی چڑیوں کی تصاویر پوسٹ کر دی تھیں۔ حیران کن طور پر اتنی بڑی تعداد میں ان معصوم پرندوں کا شکار کیا گیا اور پھر کڑھائی میں ڈال کر اس ان کا کھانا بنایا گیا۔

فارسٹ آفس کے اہلکاروں کے مطابق شکاری نے اپنی شہرت اور اپنا کمال دکھانے کے لیے تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں جو وائرل ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے ٹیم تشکیل دی اور مذکورہ نوجوان کی تلاش شروع کر دی اور جلد ہی ان کے ٹھکانے کی نشاندہی ہو گئی تھی۔

اہلکاروں کے مطابق پولیس کی مدد سے شکاری کو تلاش کیا گیا لیکن وہ اپنے گھر پر موجود نہیں تھا جس کے بعد خود ہی دفتر پہنچ گیا تھا۔ ملزم کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی لیکن ملزم نے جرمانہ ادا کرنے کی استدعا کی جس پر انھیں ایک لاکھ 15 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور قریبی ضلع ٹانک کے علاقے ہجرت کرنے والے پرندوں کا اہم فضائی راستہ ہے اور ان علاقوں میں شکار بھی کیے جاتے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کے بعد سے اب تک محکمہ جنگلی حیات نے لگ بھگ ڈھائی سو کیس رجسٹر کیے ہیں اور ان افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔

ایمبولینس میں کونجیں (ڈیموزل کرین)

خیبر پختونخوا کے جنوبی لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور پھر آگے بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقوں میں کونجوں کا شکار کیا جاتا ہے لیکن کچھ عرصہ پہلے اس پر مقامی اضلاع کی جانب سے پابندیاں بھی لگائی جا چکی ہیں۔

بلوچستان کے کچھ علاقوں میں ڈیموزل کونجوں کا شکار کیا گیا اور انھیں خیبر پختونخوا اور پنجاب لایا جا رہا تھا۔ ان پرندوں کو ایمبولینس میں چھپایا گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں درابن کے مقام سے کوئی 67 کونجیں برآمد ہوئیں جن میں سے دو ہلاک ہو چکی تھیں۔ ملزمان کو گرفتار کیا گیا جس کے بعد ملزمان نے عدالتی کارروائی کے بجائے جرمانہ ادا کرنے کی حامی بھری جس پر انھیں تین لاکھ پانچ ہزار روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیر کی تشہیر

خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ایک زیر تعمیر آئل ریفائنری میں شیر رکھا گیا تھا۔

یہ شیر غیر قانونی طور پر رکھا گیا جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالی گئی تھیں۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق انھیں اس بارے میں اطلاع تھی لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو رہی تھی تاہم سوشل میڈیا پر آنے کے بعد انھوں نے کارروائی کرتے ہوئے اس مقام کی نشاندہی کی اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے شیر کو دفتر لایا گیا جہاں ویٹرنری ڈاکٹروں نے معائنہ کیا اور پھر شیر کو پشاور چڑیا گھر منتقل کردیا گیا جہاں وہ بہتر حالت میں ہے۔

کسی رہائش یا نجی مقام پر شیر رکھنے کے جرم میں محکمے نے کارروائی کی ہے لیکن اب تک اس میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔

چترال کے مارخور (آئبیکس)

پاکستان کے مختلف علاقوں میں نایاب جانور پائے جاتے ہیں جن میں مارخور شامل ہیں اور یہ مارخور چترال، گلگت بلتستان اور ادھر جنوبی خیبر پختونخوا میں کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں پائے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں یہ بڑے سینگھوں والے جنگلی بکرے عام طور پر بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تحصیل تورکہو کے گاؤں بوزند میں ایک شکاری اور ان کے تین ساتھی بندوق سے شکار کی غرض سے نکلے تھے۔ ان افراد نے آئبیکس کا شکار غیر قانونی طور پر کیا جس پر جنگلی حیات کے محکمے کے اہلکاروں نے ان کے خلاف کارروائی کی اور ان کے قبضے سے بندوق اور ذبح شدہ جانور برآمد کیا ہے۔

ان افراد میں ایک میر غازی بھی شامل تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ اس علاقے میں چیتے اور دیگر جانور بھی ہیں تو وہ اپنے ساتھ بندوق لے گئے تھے۔ وہاں دریا کے کنارے یہ جنگلی بکری کا بچہ موجود تھا جس پر ان کے ایک ساتھی نے فائر کیا اور اسے مار دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ واپسی پر اہلکاروں نے انھیں روکا اور ان سے ذبح شدہ جنگلی بکری کا بچہ برآمد کیا۔ اس پر انھیں دو لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔

میر غازی نے بتایا کہ وہ غریب لوگ ہیں شکار وغیرہ نہیں کرتے یہ جنگلی بکری کے بچے کا شکار ایک حادثہ تھا۔

تیتر اور چکور کا بے دریغ شکار

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں محمد رشید نامی ایک شخص نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شکار کیے گئے تیتروں اور چکوروں کی تصاویر اپ لوڈ کیں۔ اس پر محکمہ جنگلی حیات کے حکام ان کے گھر پہنچ گئے۔

اہلکاروں نے بتایا کہ انھیں سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ کوئی 40 عدد خاکی تیتر، 8 عدد کالے تیتر، 10 عدد چکور اور اور 6 عدد سسیاں شکار کی گئی ہیں۔ اہلکاروں نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان پر جرمانہ عائذ کیا۔

بی بی سی کے رابطہ کرنے پر محمد رشید نے بتایا کہ اتنے زیادہ پرندے نہیں تھے جتنے رپورٹ میں درج کیے گئے ہیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے جرمانہ ادا کیا ہے۔

کیا شکار کرنا غیر قانونی ہے؟

ملک میں شکار جرم نہیں ہے اور ناں ہی غیر قانونی ہے اگر اس کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں اور اس کے لیے متعلقہ حکام سے لائسنس حاصل کر لیا جائے۔

محکمہ جنگلی حیات کے اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو قانون کا احترام نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو جنگلی جانوروں یا پرندوں کا شکار بغیر کسی شوٹنگ لائسنس کے کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ یعنی ایسے افراد جو حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

’کیونکہ لائسنس میں مقررہ بیگ کی تعداد متعین کی جاتی ہے کہ ایک بندوق سے دن میں کتنے فائر کیے جا سکتے ہیں اور کتنی تعداد میں پرندوں کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ شکار کی اجازت شکار کے لیے مخصوص موسم میں ہوتا ہے اس سے ہٹ کر شکار نہیں کیا جا سکتا اور اس کے علاوہ جن پرندوں کے شکار پر پابندی عائد ہے ان کا شکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہوتی ہے جو زیادہ ظلم سے شکار کرتے ہیں یا ان کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا شیر پالنا جرم ہے تو انھوں نے کہا کہ ہاں شیر گھروں میں نہیں پالا جا سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14149 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp