ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیج کو پودا، پودے کو درخت بننے میں خاصا وقت اور اچھی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے۔ ایک خاص عمر کے بعد اس درخت کی جسامت پر کسی خزاں اور بہار کا کوئی اثر نہیں ہوتا سوائے پتوں کے جو خزاں میں گر جاتے ہیں اور بہا ر میں نئے نکل آتے ہیں۔ بعض درخت جن کی عمریں لمبی اور چھاوں بھی گھنی ہو تی ہے۔ وہ سب کے لیے خیر اور مل بیٹھنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔ افسانوی دنیا میں ناصر عباس نیر وہ جوان درخت بن کر سامنے آئے ہیں۔ جن کی جوانی دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ یہ درخت لمبی عمر اور گھنی چھاوں والا درخت بنے گا۔

یہ نہیں کہ وہ ادب کی سر زمین پر جنم لینے والا بالکل نیا پودا ہے، وہ اردو تنقید نگاری میں گھنے اور تناور درخت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ناصر عباس نیئر کے اب تک تین افسانوی مجموعے چھپ چکے ہیں : ”خاک کی مہک،“ فرشتہ نہیں آیا ”اور راکھ سے لکھی گئی کتاب۔ بڑا مصنف وہوتا ہے جو اپنی تحریر یا تخلیق کے ساتھ مخلص اور سچا ہو۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیئر ان ہی میں سے ایک ہیں۔ وہ لکھتے ہوئے خوف زدہ نہیں ہوتے۔ وہ اپنے افسانوں میں وہ باتیں بھی بیان کر جاتے ہیں جہاں اردو کاعام مصنف ابھی پہنچا ہی نہیں یا وہ باتیں کہنے سے خوف کھاتا ہے۔ افسانہ“ خاک کی مہک میں ”سے یہ اقتباس پڑھیے :“ آپ اس دنیا کو اپنے مدرسے کی لائبریری میں بدلنے پر کیوں تلے ہیں ”۔

”کتابوں کی جنگ میں کتاب ہی ہتھیار ہونی چاہیے۔ ایک بات عرض کروں حضرت! کیا ہماری کتاب اس جنگ کی اجازت دیتی ہے؟ وہ تو چل پھر کر غور کرنے کا حکم دیتی ہے“ ۔

”خیال آتا ہے کہ اگر کسی دن گدھیوں نے انسانی سر والے یا انسانی دھڑ والے بچوں کو جنم دینا شروع کر دیا تو؟“ ۔

ناصر ذہن کی آزادی کو ہی جنت سے تشبیہ دیتے ہوئے نئی دریافتوں کی وجہ گردانتے ہیں۔ آزادی کو ان دو چیزوں سے جوڑ دینا بڑے دماغ کا ہی کام ہے۔ بڑے دماغ سے نئے خیالات (جو پرانوں سے زیادہ طاقت ور اور قابل قبول ہوتے ہیں ) جنم لیتے ہیں۔ جو سچ میں ترقی کا پہیہ رواں رکھتے ہیں۔ مثلاً یہ اقتباس دیکھیں : ”میرے لیے جنت ذہن کو کسی بھی طرف جانے کی آزادی میں ہے۔ یہ ظالم اگر آزاد ہو جائے تو وہاں وہاں جاتا ہے، جہاں کے بارے میں اب تک لکھی گئی سب کتابیں اور سنے ہوئے سب قصے چپ ہیں۔ میں تو یہی سمجھا ہوں کہ میں جب بھی اسے خوف کے بغیر کہیں بھی جانے دیتا ہوں، یہ کچھ نہ کچھ نیا دریافت کر کے لاتا ہے“ ۔

لفظ کی اہمیت کو صرف وہ ہی پہچان سکتا ہے جو لفظ کی دل سے عزت کرتا ہے۔ لفظ کی اہمیت اور طاقت کا احساس ناصر عباس نیر کے افسانوں میں کھل کر سامنے آتا ہے اور ہمارے جیسے قاری سوچ میں پڑھ جاتے ہیں کہ لفظ بھی کسی کی تقدیر کو الٹ سکتے ہیں۔ مثلاً یہ اقتباس پڑھیے :

”ماسٹر ظہور نے بیٹی کو گھر بٹھا دیا ہے۔ اس کی بیٹی نہیں پوچھ سکی کہ کس حیثیت میں اس کی ذاتی کاپی کو کھولا گیا، اور کیا نمبر لکھنے کا وہی مطلب ہے، جو ذاتی تحریر پڑھنے والے نے لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے لکھے ہوئے لفظ کی طاقت کو بھی دریافت کیا ہے۔ ایک لفظ، صرف ایک لفظ کسی کی تقدیر الٹا سکتا ہے! ایک سکول کی طالبہ کو گھر بٹھا سکتا ہے۔ میں تو اس طاقت سے ڈر گیا ہوں۔ خالی صفحے پر لکھنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچتا ہوں“ ۔

ادب میں حقیقی انسان کی تلاش جاری تھی، ہے اور رہے گی۔ ہر بڑے ادب کا محور بھی اسی انسان کی تلاش کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ افسانہ ”ہاں، یہ بھی روشنی ہے!“ میں سے چند سطریں : ”ایک بے چینی ایسی بھی ہے جو صرف یاد دلانے کے لیے ہے کہ وہ اب بھی آدمی ہے۔ آدمی ہونا ایک بات ہے، اور آدمی رہنا دوسری بات ہے۔ رفیق خاص نے عرض کی، آدمی رہنا بڑی بات ہے“ ۔

ناصر کے افسانہ میں فیمینزم بھی نظر آتاہے۔ مرد کا اپنی ذات سے ایک طرفا لگاؤ جس میں وہ عورت کی خوشی اور خواہشات کی پرواہ نہیں کرتا کا نوحہ گاتا ہے اور مرد کو عورت کے استحصال سے روکتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں : ”اس کے دل میں ساری دنیا کے بھید، ساری رمزیں جاننے کا جنون ہوتا ہے، نہیں ہوتا تو عورت کے دل کو جاننے کا جنون“ ۔

”مردوں کے ہوتے ہوئے، عورت کیسے غیرت مند ہو سکتی ہے؟ کسی نے کہا۔ جب مرد نامرد ہو جائیں تو عورتیں مرد بن جاتی ہیں“ ۔

”تمھیں خیال آیا کہ جس سفر پر تم نکلے تھے، اس کی آرزو مجھے نہیں ہو سکتی تھی؟ تم بھی یہ سوچتے تھے کہ عورت میں آتما نہیں ہوتی؟ کیا تنہائی میں عورت پر اس بات کی یلغار نہیں ہوتی کہ دنیا میں دکھ کیوں ہے، بڑھاپا کیوں ہے، موت کیوں ہے؟ تم اپنی کھوپڑی کو میری کھوپڑی سے بڑا سمجھتے ہو گے، مگر تمھارا دل، میرے دل سے بڑا نہیں ہے“ ۔

ناصرکے چندافسانوں کے کرداروں کو دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانا بالکل پسند نہیں۔ انسان دوسروں کے لیے اگر بھلائی نہیں کر سکتا تو نقصان کی بجائے خاموش رہے۔ دوسروں کے متعلق منفی سوچنے کی بجائے اگر وہ مثبت سوچ پر توجہ رکھے تو وہ خوشی کے ساتھ ساتھ اپنی ترقی کے لیے نئی راہیں تلاش کر سکتا ہے۔ مگر نہیں۔ ۔ ۔ ”انسان کا دماغ جتنا، دوسروں کی جواب طلبی میں چلتا ہے، اتناکسی اور بات میں نہیں“ ۔

چالاک کیسے بھیس بدل کر معصوم دیہاتیوں کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور آخر میں میں ان کے ہیرو بھی یہ چالاک لوگ بنتے ہیں۔ اس موضوع کو جتنی خوب صورتی اور دل چسپ انداز سے مصنف نے افسانے ”جھوٹ کا فیسٹول“ میں لکھا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ افسانہ جنم بھومی سے محبت، شہری اور دیہاتی زندگی میں بنیادی فرق، عقل و فہم کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی، اور اس افسانے میں جو جھوٹ بولے گئے وہ معاشرے کے اتنے بڑے سچ ہیں جن سے آنکھیں چرا کر معاشرہ حقیقت میں اپنا نقصان کیے جا رہا ہے۔

مٹی کو ماں کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ دونوں میں پیدا کرنے کی صلاحیت اللہ پاک نے رکھی ہے۔ اس لیے ان دونوں سے محبت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ بل کہ جیسے جیسے انسان عمر رسیدہ ہوتا ہے مٹی سے محبت میں مسلسل اضافہ ہو تا جاتا ہے۔ اس احساس کی اہمیت کو ناصر احسن طریقے سے بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ اس محبت کو مقدس مقامات کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں۔ مٹی سے محبت پیدا ہونے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ محبت کسی لوبھ لالچ کے بغیر اسی مٹی کی ثقافت میں سے پروان چڑھتی ہے۔

اس لیے اس کا پھر کوئی نعم البدل نہیں بن پاتا۔ مثلا: ”کوئی گھاؤ ایسا بھی ہوتا ہے، جو اپنی خاک کے اس ٹکڑے سے بچھڑنے کا پیدا کردہ ہوتا ہے، اور وہ ٹکڑا آدمی کو دنیا کے سب سے، مقدس مقامات سے بھی زیادہ مقدس محسوس ہو سکتا ہے، اور جہاں کے پرندے، درخت، لوگ، بولی، ماہیے، دوہڑے، اور یہ جھومر ڈانس، قصے دنیا کے سب سے عظیم فن پاروں سے زیادہ عزیز محسوس ہوتے ہیں، کیوں کہ وہ آدمی کی روح کے اس گوشے میں ارتعاش پیدا کرتے ہیں، جو وجود میں سب سے دور افتاد ہ ہوتا ہے، اور جس سے تعارف زندگی کا سب سے یادگار واقعہ ہوتا ہے“ ۔

رشتوں کی احساسیت اور برداشت کو ناصر کے ہاں بہت اہمیت دی گئی ہے۔ وہ افسوس کرتا نظر آتا ہے کہ کس طرح یہ آہستہ آہستہ اپنا وجود کھوتی جا رہی ہیں۔ معاشرہ ان قدروں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ دوری تنہائی کے ساتھ مل کر ایک ایسی زندگی کو جنم دیے جا رہی ہے جس میں کھوکھلا پن ہی ہر طرف نظر آتا ہے۔ کھوکھلا پن حقیقت میں زندگی سے دوری کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں کھوکھلی زندگی اور موت ایک برابر ہی ہیں۔ ناصر زندگی میں واپسی کی بات کرتے ہیں۔ مثلا: ”اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں، یار کیسے ایک لاش سے لپٹ کر کوئی اتنی دیر سو سکتا ہے؟ لاش تو ہماری دنیا کا حصہ نہیں۔ ہم اس دنیا کو کتنی دیر برداشت کر سکتے ہیں جو ہماری دنیا سے باہر کی دنیا ہے“ ۔

”سچی بات یہ ہے کہ جب تک جھوٹ موٹ کے قصوں کی لڑائیوں میں لوگ دل چسپی لیتے تھے، اصل لڑائیوں سے دور رہتے تھے۔ دوسروں کو لڑتے سن دیکھ کر ان کے لڑنے کی خواہش پوری ہو جاتی تھی“ ۔

ناصر کا افسانہ جس خوب صورتی اور ادبی انداز میں مذہبی انتہا پسندی، ریاستی مجبوری، ان پڑھ لوگوں پر مولوی کی اجارہ داری، انگریزی اور عربی زبانوں کا رعب اور فرقہ واریت کو بیان کرتا ہے اس کی مثال ڈھونڈنا اردو افسانے میں بہت مشکل ہے۔ نیچے دیے گئے اقتباس میری اس بات کی گواہی دیں گے : ”مولوی دیہاتیوں کے سامنے جب بڑے بڑے فقیہوں کی کتابوں سے عربی عبارتیں پڑھتا ہے تو سامنے بیٹھے غریب دیہاتیوں کو خاک سمجھ نہیں آتیں، مگر مولوی کا رعب بہت پڑتا ہے“ ۔

”اس وطن میں دو ہی زبانوں کا رعب ہے، انگریزی اور عربی کا۔ جسے یہ آتی ہیں، اس کولوگوں پر حکومت سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دونوں لوگوں کو سمجھ نہیں آتیں“ ۔

”دیہاتوں میں ابھی تک نام شیعہ سنی ہونے سے بچے ہوئے ہیں۔ ویسے ہر شے کو شیعہ سنی بنانے کی بہت کوشش ہوئی۔ ان کا بس چلے تو جگہوں، جانوروں، پرندوں، درختوں کو بھی شیعہ سنی بنائیں“ ۔

”دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جہاں بہتر فرقوں کے مولوی آپس میں کبھی نہیں لڑتے“ ۔

ناصر نے کلونیل دور کو بھی اپنے افسانے میں خوب صورتی کے ساتھ تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان افسانوں کا وہ ہی قاری لطف اٹھا پائیں گے جو انگریز دور کی تاریخ اور اس پر تنقید سے اچھی طرح واقف ہوں گے کہ کیسے ہماری مٹی کو پستی میں دھکیلاگیا، اسے اس کی زبان، کہانی، ادب سے دور کیا گیا اور برصغیر کے لوگوں نے اپنے آپ کوفتح کر نے کے لیے کیا کچھ نہیں قربان کیا۔ افسانہ نگار نے بڑے فنکارانہ انداز میں تاریخ کو اپنے افسانوی ادب کا حصہ بنایا: ”جھوٹ وہی آدمی بولتا ہے، جسے اپنی زبان اچھی طرح آتی ہو“ ۔

”انگریز کے زمانے میں بھی یہاں دیہات کی کہا نیاں جمع کی گئی تھیں۔ اس زمانے میں پٹواریوں کے ذمے لگایا گیا کہ وہ لوگوں سے کہانیاں سنیں، اور لکھ کر لائیں۔ شاید ٹمپل اس کا نام تھا۔ اس نے اپنے نام سے چھپوائیں۔ اسی طرح کی کہانیاں پڑھ کر انگریز نے کہا کہ یہاں ٹھگ، چور، جھوٹے، خوشامدی، غدار، حرام جانوروں کا گوشت کھانے والے رہتے ہیں۔ دفتروں کے چپراسیوں اور سانسیوں کو دیکھ کر انھوں نے سب کو ایسا کہہ دیا۔ ہو سکتا ہے، ان گوروں کو لگتا ہو کہ اب ہم کچھ بدل گئے ہیں، اور وہ ہم سے نئی کہانیاں سن کر ہمیں جاننا چاہتے ہوں“ ۔

ناصر عباس نیر نے معاشرے میں جو کچھ آنکھوں سے دیکھا اور اپنے مشاہدے میں لائے، اسے علم کی بنیاد پر بڑی خوب صورتی کے ساتھ کا غذ پر اتاردیا ہے۔ یہ افسانے عالمی و مقامی افسانے کے مطالعہ، تاریخ، مقامی عقل و دانش، ذاتی مشاہدے و تجربات اورعلم کے سنگم سے پروان چڑھنے والی شے ہیں۔ اس لیے ان افسانوں کو پڑھنے کے لیے قاری کی مذکورہ اشیاء سے واقفیت ہونا بہت ضروری ہے ورنہ وہ ان کے اصل معنی سمجھنے سے محروم رہ جائے گا۔ اس مذکورہ عمل میں کہیں کہیں فطری بہاؤ جو کسی تخلیق کار کو قدرت کی طرف سے نصیب ہوتا ہے۔ وہ اس کی وجہ سے متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

مصنف نے خاک کی مہک کتاب کے افسانوں کو اکثر جن خیالات کی مدد سے تحریر کیا، وہ بالکل ان کے اپنے اردگرد سے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دیس پنجاب کی لوک wisdom، پنجابی الفاظ کو جس طرح اپنے افسانوں میں برتا ہے وہ قابل تعریف چیز ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہ افسانے پڑھتے ہو ئے اپنائیت کا احساس اجاگر ہو تا ہے۔ جو تحریر پڑھنے والے کو ان رازوں سے ہم کلام

کروا دے جن کو وہ کسی سے بھی سانجھا نہیں کرنا چاہتا ایسی تحریر سچ میں بڑی ہوتی ہے اور ادب کا حقیقی مقصد صیحح معنوں میں پورا کرتی نظر آتی ہے۔ یہ افسانے جس طرح سے لفظ اور بولنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں اس کی اردو ادب میں کم مثالیں ملتی ہیں۔

ان میں بعض افسانوں کو پڑھ کر حقیقت میں قاری اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس نے واقعی افسانے پڑھے۔ جو سچ میں افسانے اور کہانی کے فرق کو قاری پر خود بخو واضح کر دیتی ہے۔ حالانکہ اس فرق کو کئی عالم فاضل لوگوں نے تنقیدی کتابوں میں بیان کیا ہے مگر وہ گنجلک ہونے کی وجہ سے قاری کے پلے نہیں پڑتا مگریہ افسانے پڑھتے جائیں اور خود بخود اس فرق کو سمجھتے جائیں۔

یہ آرٹیکل لکھنے پر مجھے ایک اردو کے استاد نے مجبور کیا۔ جب میں نے ناصر کے افسانے پڑھے تو ان صاحب کے سامنے تعریف کی تو انہوں نے کہا: وہ اچھے تنقید نگار ہیں مگر افسانہ نگار بس ایویں سے ہیں۔ جب میں نے ایویں کی وجہ پوچھی تو جواب میں کہنے لگے، میں نے ان کو سرسری سا پڑھا ہے۔ اس لیے اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ یعنی ہم سنی سنائی باتوں کو آگے تنقید میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم کسی کے فن پارے کو تسلیم کرنے سے کسی وجہ سے قاصر ہیں تو پھر ہمیں بلاوجہ اس کے کام کو سنی سنائی تنقید کا نشانہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ اگر آپ اختلاف کرنا چاہتے ہیں تواس تخلیق کو پہلے مکمل طور پر پڑھیں اور پھر اپنا موقف لکھ کر بیان کریں تاکہ آپ کا موقف واضح طور پر قاری کے سامنے آسکے۔

ہمارے معاشرے میں ایک بہت بری روش جنم لے چکی ہے کہ اگر کوئی تخلیق کا ر کسی ایک صنف میں اپنا نام پیدا کر لیتا ہے تو وہ کسی دوسری صنف ادب میں طبع آزمائی کر ے گا تو کوئی اس کی پہلی وجہ شہرت کو بنیاد بناکر اس کی دوسری صنف میں معیاری کام کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی کے فن کو ماننے سے انکاری ہیں تو وہ وجوہات ضرور بتانی چاہیں کہ کن بنیادوں پر اس کی تخلیق کو رد کیا جا رہا ہے یا اس کے قد کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہے۔

آج کی تنقید ذاتی تعلق پر انحصار کر رہی ہے۔ تخلیق کی بجائے مصنف کی ذات کے ساتھ ذاتی مراسم کی بنیاد پر تنقید کی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے بڑی سے بڑی تخلیق بھی چند لوگوں سے آگے کا سفر نہیں کر پاتی۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سچا تخلیق کار وہ حربے استعمال کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے جو آج شہرت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ سو تعصب کی عینک اتار کر سچی تخلیق کو پہچانیے اور پڑھیے اور اس پر اپنی سچی تنقید کیجیے۔ جس سے بڑی تخلیق عوامی سوچ کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

  • 30/05/2020 at 2:56 pm
    Permalink

    I like the sentences that are mentioned in this article,,,,plz send me the new coming article regarding to literature.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *