رفیعہ ارشد: برطانیہ میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون جج ’مشعل راہ‘ بننے کے لیے پُرامید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی خاتون عدالت کی جج مقرر ہوئی ہیں جو حجاب پہنتی ہیں۔ انھیں امید ہے کہ وہ ’مشعل راہ‘ کا کردار ادا کریں گی۔

رفیعہ ارشد ناٹنگھم میں سینٹ میری چیمبرز کی رکن ہیں۔ انھیں گذشتہ ہفتے مڈلینڈز سرکٹ میں جج تعینات کیا گیا ہے۔

40 سالہ رفیعہ کہتی ہیں کہ ’میں اسے محض انفرادی کامیابی نہیں بلکہ اس سے بڑی بات سمجھتی ہوں۔‘

سینٹ میری چیمبرز کے مشترکہ سربراہان نے کہا ہے کہ انھوں نے اس اقدام سے مسلمان خواتین کی قانون کے شعبے میں کامیابی کے لیے راہ ہموار کی ہے۔

جج رفیعہ ارشد کا کہنا ہے کہ ’مجھے تقریباً یہ لگتا ہے کہ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ اس بارے میں ہے کہ آیا میں کسی کے پس منظر سے قطع نظر انھیں متاثر کر سکوں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے

’حجاب نہ پہننا آزادی ہے تو حجاب پہننا بھی آزادی ہے‘

برطانیہ کے ہسپتال میں ’ڈسپوزیبل‘ حجاب متعارف

بغیر حجاب کے تصویر: شطرنج ریفری ایران جانے سے خوفزدہ

مسلم لڑکیوں کا آنچل بنا پرچم، کیا ہیں اس کے معنی؟

’یہاں پہنچنے میں کچھ وقت لگا ہے پر مجھے بہت خوشی ہے۔ یہ محض انفرادی کامیابی نہیں ہے۔ یہ اس ہر شخص کے لیے کامیابی ہے جس کا تعلق مختلف پس منظر سے ہے۔‘

جج رفیعہ ارشد اپنے خاندان میں وہ پہلی شخص تھیں جو کالج میں پڑھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سماج میں غلط العام رویوں کو مسترد کیا ہے، جس طرح زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جج ایک مخصوص انداز میں نظر آتے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہیں کہ کسی بھی شعبے سے قطع نظر وہ ’اپنے ارادے بلند رکھیں۔‘

’یہ فکر نہ کریں کہ آپ کیسے دکھتے ہیں۔ یہ فکر نہ کریں کہ آیا آپ موجودہ ڈھانچے کے اندر سما سکیں گے۔ اس ڈھانچے کو مسترد کریں اور وہ کریں جو آپ اصل میں کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کے تین بچے ہیں اور وہ 17 برس سے زیادہ عرصے سے فیملی لا کی وکیل رہ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی مقروض ہیں جنھوں نے ان کی ’بے حد حمایت کی‘ اور انھیں ’موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے شوق سے کام کر سکیں۔‘

جج رفیعہ ارشد اسلامی فیملی لا کی ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتیں اور تعیناتی کا کمیشن اپنی صلاحیت کے مطابق کام کر رہے ہیں لیکن عدالتی نظام میں مختلف پس منظر سے آنے والے لوگوں کی کمی ہے۔

سینٹ میری چیمبرز کے سربراہان ویکی ہاجز اور جوڈی کلیکسٹن نے کہا ہے کہ وہ اس تعیناتی پر خوش ہیں جو میرٹ کے عین مطابق ہے اور رفیعہ ارشد مستحق امیدوار تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14066 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp