فوربز میگزین: کائیلی جینر کا نام ’سیلف میڈ‘ ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کائیلی

Getty Images
مارچ 2019 میں فوربز میگزین نے کائیلی جینر کو دنیا کی عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی شخصیت قرار دیا تھا

بزنس میگزین فوربز نے امریکہ سے تعلق رکھنے والی خوبرو ٹی وی سٹار اور کاروباری شخصیت کائیلی جینر کو اپنی ارب پتی افراد کی فہرست سے نکال دیا ہے۔

فوربز نے کائیلی جینر کے خاندان، کارڈیشیئن فیملی، پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انھوں نے کائیلی کی میک اپ مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنی، کائیلی کاسمیٹکس، کی قدر و قیمت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔

فوربز نے الزام عائد کیا ہے کہ کارڈیشیئن خاندان نے اپنی کم عمر ترین رکن (کائیلی) کو اس سے زیادہ امیر کبیر ظاہر کیا جتنی کہ حقیقت میں وہ تھیں۔

یاد رہے کہ مارچ 2019 میں فوربز میگزین نے کائیلی جینر کو دنیا کی عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی شخصیت قرار دیا تھا۔

کائیلی نے یہ اعزاز فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو پیچھے چھوڑ کر حاصل کیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کائیلی جینر نے فوربز کے اس دعوی پر مبنی آرٹیکل کو ‘غلط بیانات اور ناقابل تصدیق مفروضوں’ پر مبنی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کائیلی جینر سب سے کم عمر ’سیلف میڈ‘ ارب پتی بن گئیں

کائیلی جینر 20 سال کی عمر میں کروڑ پتی کیسے ہو گئیں؟

سلیبریٹیز کو اپنی ہی تصاویر شیئر کرنے پر مقدموں کا سامنا

سلسلہ وار ٹویٹس میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اُن (فوربز) سے یہ اعزاز (دنیا کی کم عمر ارب پتی شخصیت) دینے کو نہیں کہا تھا اور نہ ہے میں نے ایسا کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا۔‘

’میرے پاس اس وقت کرنے کو سو کام اور ہیں، اس کی بجائے کہ میں یہ وضاحتیں دیتی پھروں کہ میرے پاس کتنی دولت ہے۔‘

جینر

Getty Images
‘میرے پاس اس وقت کرنے کو سو کام اور ہیں، اس کی بجائے کہ میں یہ وضاحتیں دیتی پھروں کہ میرے پاس کتنی دولت ہے’

سنہ 2019 میں فوربز کی جانب سے کائیلی کو کم عمر سیلف میڈ ارب پتی شخصیت قرار دینے کے بعد ایک نئے تنازعے نے جنم لیا تھا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ کائیلی مشہور کارڈیشیئن فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور اسی تعلق کے باعث انھیں ’سیلف میڈ‘ کیسے کہا جا سکتا ہے۔

فوربز میگزین کو اپنی ارب پتی افراد کی درجہ بندی کی وجہ سے کافی شہرت حاصل ہے اور عموماً بڑے پیمانے پر فوربز کی رینکنگ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

کائیلی کو سنہ 2015 میں شروع ہونے والی کائیلی کاسمیٹکس اور کائیلی سکن نامی میک اپ مصنوعات کی کمپنیاں چلانے پر ارب پتی افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

کائیلی نے گذشتہ برس اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی کمپنی کا 51 فیصد حصہ میک اپ مصنوعات بنانے والے ایک اور مشہور کمپنی ‘کوٹی’ کو 600 ملین ڈالر کے عوض فروخت کر رہی ہیں۔

فوربز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارڈیشیئن خاندان کے اکاؤنٹنٹ نے انھیں ٹیکس گوشوارے مہیا کیے تھے جن میں بتایا گیا تھا کہ اس فرم نے سنہ 2016 میں 300 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کی مصنوعات فروخت کی تھیں اور اگلے سال 330 ملین ڈالر کی فروخت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

فیملی

Getty Images
کارڈیشیئن خاندان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے کائیلی کی میک اپ مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنی کی قدر و قیمت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا

فوربز کا کہنا ہے کہ اب جو نئی معلومات ’کوٹی‘ نامی کمپنی نے فراہم کی ہیں وہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائیلی کی کمپنی اس سے کہیں کم منافع بخش اور چھوٹی سطح کی کمپنی ہے جتنی ظاہر کی گئی یا جتنی رقم کارڈیشیئن خاندان نے میڈیا، میک مصنوعات کی صنعت اور فوربز کو یہ یقین دلانے کے لیے استعمال کی کہ یہ کمپنی بہت ہی منافع بخش اور بڑی ہے۔

کوٹی کی جانب سے سرمایہ کاروں کو دی جانے والی ایک پریزینٹیشن یہ ظاہر کرتی ہے کہ کائیلی کی کمپنی نے سنہ 2018 میں صرف 125 ملین ڈالر کی مصنوعات فروخت کی تھیں۔

فوربز نے اپنے مضمون میں سوال کیا ہے کہ ’اگر سنہ 2018 میں ہونے والی فروخت کی مالیت 125 ملین ڈالر تھی تو سنہ 2016 میں یہ 307 ملین اور سنہ 2017 میں 330 ملین ڈالر کیسے ہو سکتی ہے؟‘

مگر فوربز کی جانب سے اس اقدام کے باوجود کائیلی کو کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔

فوربز کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے کاروبار کی فروخت سے 340 ملین ڈالر کما چکی ہیں۔ فوربز کے مطابق ان کے پاس اس وقت موجود دولت کی مالیت 900 ملین ڈالر سے کم ہے۔

فورنز اس سے پہلے دیگر افراد کو بھی اپنے کاروباروں کی مالیت بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام دے چکا ہے۔ ان شخصیات میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کے وزیر تجارت ویلبر راس بھی شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14149 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp