EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈونلڈ کی کامیابی۔ ایک امریکی ماں کی دہائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ali

بیٹسی کارور ایک سینتالیس سالہ طلاق یافتہ خاتون ہے جو ایک نوجوان نیوی کے سپاہی بیٹے کی ماں بھی ہے۔ امریکہ کی ریاست کینٹکی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں حجام کا کام کرتی ہیں۔ وہ ایک عام شہری کی طرح زندگی گزارتی ہیں جس میں ہفتے میں پانچ دن کام کے بعد دو دن آرام کرنا یا سیر سپاےٹے پر نکلنا ایک معمول ہے۔ ان کی دوکان میں قصبے کے دیگر لوگ حجامت بنوانے اور بال سنوارنے کے لئے آتے ہیں جہاں ان کے ساتھ وہ گپ شپ بھی جاری رکھتی ہیں اس لئے وہ اپنے قصباتی معاملات میں بھی خاصی باخبر ہیں۔

امریکہ میں حالیہ انتخابات کے دوران وہ ڈولنڈ ٹرمپ کی کامیابی کے لئے کافی متحرک رہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بیٹسی کو شک تھا کہ امریکی سی ائی اے اور ایف بی ائی سمیت سب ریاستی ایجنسیاں مل کر ہیلری کلنٹن کی حمایت کرتی ہیں اور ان کے پسندیدہ امید وار ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے روایتی بحث و مباحثوں کے دوران بھی وہ ڈونلڈ کے ساتھ بقول ان کے ہونے والے امتیازی سلوک کی طرف بھی توجہ دلاتی رہیں کہ کیسے ان کو اپنے موقف بھر پور انداز میں بپیش کرنے سے روکا جارہا تھا یا کیسے ان کو کیمرے میں دکھایا جاتا تھا کہ ان کی شخصیت کا اچھا پہلو ناظرین کی نظروں سے اوجھل رہے۔

\"betsy-carver\"

انتخابات کے دن ان کو پورا یقین تھا کہ امریکہ کی کسی ریاست میں ہنگامہ کرکے پورے ملک میں نہیں تو کم از کم کچھ ریاستوں میں انتخابات چرا لیے جائیں گے تاکہ ہیلری کی جیت یقینی ہو جائے۔ اس دن جب ایک پولنگ سٹیشن کے باہر فائرنگ کا واقع رونما ہوا تو انھوں نے اپنے شک کا بھر پور اعلان بھی کیا۔ خدا خدا کر کے انتخابات کا وقت ختم ہو گیا اور کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تو ان کو گمان تھا کہ سازش کی نوعیت بدل گئی ہے اب شاید بیلٹ باکس کے اندر سے ٹرمپ غائب ہو جائے گا۔ جوں جوں نتائج آنے شروع ہوے ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ٹرمپ صاحب واقع میں جیت رہے ہیں۔ اخیر تک ان کو یہ بھی ایک سازش ہی لگی کہ باقی تمام ریاستوں میں ٹرمپ کو جتوا کر شاید فلوریڈا میں ہیلری کا حساب برابر کر دیا جائے گا۔ جب فلوریڈا کا بھی نتیجہ آیا اور ٹرمپ جیت گئے تو ان کو یقین ہوا کہ ووٹ کی حد تک ٹرمپ کامیاب رہے ہیں۔

مگر بیٹسی کو اب بھی یقین نہیں ہے کہ امریکہ کے سفید گھر یا اس کے دفتر میں میں بیٹھا سیاہ فام ان کے ہر دل عزیز ٹرمپ کو وہاں گھسنے دے گا۔ بیٹسی کارور کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی دفعہ امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ اپنے بیٹے کو مشرق وسطیٰ کے ریگستانوں میں کسی اور کی جنگ لڑنے کے لئے جانے سے روکنے کے لئے لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہیلری اور اوباما نے عربوں سے ان کی جنگ لڑنے کے لئے پیسے لیے ہیں جس کے لئے وہ ان کے بیٹے کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں جس کی وہ مخالف ہیں۔ وہ ہیلری کو ایک چڑیل سمجھتی ہیں جو نوجوانوں کو کھانے کے درپے ہیں اور وہ ان کو ایسا نہیں کرنے دیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیلری نے پورے انتخابی مہم کے دوران ایک بار بھی جنگ نہ لڑنے کا اعادہ نہیں کیا اور وہ کرتی بھی کیسے کیونکہ جنگ ہی اس کا کاروبار ہے۔

\"obama-trump\"

عورت کی سیاست میں آنے کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ گھر چلانے کی حد تک بات ٹھیک ہے مگر وہ عورتوں کی ریاست چلانے اور چرچ چلانے کے وہ حق میں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مرد کی مثال جسم میں ہڈی کی جیسی ہے جو مضبوظ ہوتی اور جسم کو کھڑا رکھتی ہے جبکہ عورت گوشت کی طرح نرم ہوتی ہے جو ہڈیوں کو اکھٹا تو کرسکتی ہے مگر کھڑا نہیں رکھ سکتی۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عورتیں حکومت کرنے کے اس لئے بھی اہل نہیں ہیں کہ ان کو بہت سارے رنگ نظر آتے ہیں جبکہ حکمرانوں کے لئے صرف دو رنگ یعنی کالے اور سفید میں ہی دنیا کو دیکھنا لازمی ہے۔ عورتیں بقول ان کے اگر حکومتیں چلانے لگیں تو دنیا میں کنفیوژن بڑھ جائے گا لہذا ان کو گھر پر ہی رہنا چاہیے۔

اس امریکی خاتون کا اپنے حکمرانوں سے یہ بھی شکوہ ہے کہ انھوں نے مشرق وسطیٰ کے ان حکمرانوں اور بادشاہوں کے تحفظ کے لئے ان کے بیٹوں کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے جو اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ غلاموں سے بد تر سلوک کرتے ہیں۔ ان کے بیٹے اپنے ملک کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن دوسرے ممالک میں غیر جمہوری حکمرانوں کے اقتدار کے دوام کے لئے خطرات میں ڈالنا ان کے لئے نا قابل قبول ہے۔ اس امریکی ماں کو اپنے بیٹے کے علاوہ اپنے ملک کے شہریوں کی بھی فکر ہے جو اپنے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام کے لوگوں کی نفرت کا شکار ہیں۔ اس نے یہ سوال بھی کیا کہ سالانہ ایک ارب ڈالر کی امداد کے باوجود پاکستان کے لوگ امریکیوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کی امداد کرنے والا امریکہ خود بیس کھرب ڈالر کا مقروض ہے جو ان کی اگلی نسلیں اپنی جیب سے ادا کریں گی جس کا نتیجہ مزید مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں نکلے گا۔

\"donald-trump-smiling\"

امریکہ میں حالیہ انتخابات کے دوران اٹھنے والی نسل پرستی کی لہر کے بارے میں بیٹسی کا کہنا ہے کہ اس میں میڈیا کا ہاتھ ہے جس نے دیگر باتوں کو چھپا کر ڈونلڈ ٹرمپ کے صرف متنازع بیانات کو ہی اچھالا۔ جن کو دنیا سفید فام نسل پرست سمجھتی ہے وہ دراصل امریکہ کے اصلی باشندے ہیں جن کا کوئی دوسرا وطن نہیں رہا اور وہ امریکہ کو ہی اپنا آشیانہ سمجھتے ہیں جس کا دفاع وہ ایک شاہین کی طرح ہر صورت کریں گے۔ ’ہم کسی کے خلاف نہیں اور نہ ہی ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے ملک یا ہمارے لوگوں کے خلاف کام کرے‘ ان کا مزید کہنا تھا۔ صدارتی انتخابات میں امریکہ کے تیس سال سے کم عمر کے نوجوان آگے آگے تھے جو اپنی زندگی میں پہلی بار حق رائے دہی کا استعمال کر ہے تھے۔ ان نوجوانوں کے بارے میں بیٹسی کا خیال تھا کہ وہ اپنے ملک کو اپنے لئے محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

\"iraq-war\"

بیٹسی کارور نے کہا کہ ان کے بیٹے کسی کی اور کی جنگ لڑنے کے لئے نہیں بلکہ اپنے ملک کی حفاظت اور خدمت کے لئے پیدا ہوے ہیں۔ انتخابات کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں اور مظاہروں میں شریک نوجوانوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کو نہیں پتہ کہ وہ کیوں یہ سب کچھ کر رہے ہیں اور کس کے اشاروں پر ایسا کر رہے ہیں۔ ان ہنگاموں کے دوران کچھ لوگوں کے امریکہ کے جھنڈے کو جلانے پر وہ دکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے سینے پر کسی نے گولی کھا کر وطن کا دفاع کیا ہو تا تو اس جھنڈے کی قدر و قیمت کا احساس ہو تا ان لوگوں کو بیٹھے بیٹھائے ایک ملک ملا ہے جس میں وہ عیاشی کر رہے ہیں ان کو کیا معلوم کہ وطن سے محبت کیا ہوتی ہے۔

بیٹسی نے کہا کہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ امریکی حکمران ہیں جو ان کے اوپر جنگ مسلط کرتے ہیں نہ کہ امریکی عوام۔ اس امریکی ماں کا کہنا ہے کہ ’پہلی بار امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا ہے اس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں نہ کہ تنقید کے‘۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 243 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے