کورونا وائرس: کیا لاک ڈاؤن اور سماجی دوری نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Olivia Grant (R) hugs her grandmother, Mary Grace Sileo through a plastic drop cloth hung up on a homemade clothes line during Memorial Day Weekend on May 24, 2020 in Wantagh, New York

Getty Images

ہم دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، کووڈ 19 وبا کی وجہ سے زندگی ہر لحاظ سے بدل کر رہ گئی ہے۔ بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جارہی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں لوگوں کی زندگی کس حد تک بدلی ہے اور اب حالت کیسے ہیں۔

کلاس روم

A teacher reads a book to kindergarten children in a school garden. Municipality of Ivrea opens the gardens of two kindergarten schools as part of a pilot test to see how schools can reopen after COVID-19 coronavirus lockdown.

Getty Images

اساتزہ کے لیے سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے سکولوں کو دوبارہ کھولنا ایک بہت بڑا چیلینج ہے۔

بہت سی کلاسز میں اب تبدیلی آرہی ہے اور والدین خصوصاً اپنے چھوٹے بچوں کے لیے پریشان ہیں کہ انھیں سکول میں کیسے دوسرے بچوں سے دور رکھا جائے گا۔

آئوریا کے علاقے میں چھوٹے بچوں کے دو سکول ابتدائی طور پر کھولے گئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ یہ کتنے محفوظ ہیں اور لاک ڈاؤن کے بعد دیگر سکول کھولے جاسکتے ہیں یا نہیں۔

پارک

People sit in circles meant to encourage social distancing in Domino Park along the East River on May 18, 2020 in the Williamsburg neighborhood of the Brooklyn borough in New York City

Getty Images

آپ کو وہ دن یاد ہوں گے جب لوگ پارک میں چہل قدمی کررہے ہوتے تھے اور آپ کو آس پاس سائیکل اور دوڑ لگانے والے نظر آتے تھے لیکن اب، صورتحال بہت مختلف ہے۔

سیر و تفریح اور کھیل کود کی بہت سی جگہوں کو اب آہستہ آہستہ کھولا جارہا ہے۔

لیکن ساتھ ہی لوگوں کو سماجی دوری کا بھی خیال رکھنا ہے۔ بروکلن کے ڈومونو پارک میں لوگ گھاس پر پینٹ کی مدد سے بنائے گئے دائروں میں سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے پکنگ منا رہے ہیں۔

کام

People sitting in separate perspex cubicles react as they bid for flowers during an action inside the Multiflora warehouse in Johannesburg, on May 8, 2020. - Multiflora is a specialised flower auction space where some 300 million flower stems are auctioned and sold into the flower market in South Africa.

Getty Images

لاک ڈاؤن کے باعث جہاں زیادہ تر آبادی گھروں پر ہے وہیں لوگوں نے کام کرنے کے مختلف طریقے بھی نکالے ہیں: جیسا کہ ویڈیو کال۔ لیکن جیسے جیسے کاروبار کھل رہے ہیں ویسے ویسے لوگ عمارتوں کے اندر اپنے کام کرنے کے طریقے کار کو بھی تبدیل کررہے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ایک پھولوں کی نمائش کے دوران حکام نے بولی لگنے والوں کے بیچ میں پلاسٹک کی سکرینیں لگائیں۔

یہ جگہ ملٹی فلورا وئیر ہاؤس کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ یہ جگہ پھولوں کی نمائش کے حوالے سے بہت مشہور ہے اور تین سو ملین پھولوں کی شاخیں پائی جاتی ہیں۔

شاپنگ

A tailor at Suit-supply in the Netherlands pins a suit on a customer through plexiglass

Getty Images

شاپنگ کے طور طریقوں میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اس وبا کے دوران آن لائن شاپنگ کی طرف لوگوں کا رجہان بہت بڑھ گیا ہے۔

جو سپر مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں وہاں لوگوں کو اندر آنے سے پہلے قطار میں کھڑا کیا جارہا ہے تاکہ دکان کے اندر سماجی دوری کی پابندی کی جاسکے۔ ہالینڈ کے شہر راٹرڈیم میں سوٹ کی ایک دکان میں گراہک اور دکاندار کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لیے شیشے کی سکرین لگائی گی ہے۔

ریستوران

People eat lunch on tables partitioned by cardboard and plastic sheets in order to enforce social distancing in Bangkok, Thailand

EPA

ریستوران میں جا کر کھانا بھی اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا۔

تھائی لینڈ کے کھانے کے ہوٹلوں میں ٹیبلوں کے درمیان پلاسٹک کی شیٹ لگائی گئی ہیں تاکہ سماجی دوری کو برقرار رکھا جاسکے۔ زیادہ تر ہوٹلوں نے یا تو سیٹوں کے درمیان رکاوٹ لگائی ہے یا پھر ٹیبلوں کے درمیان سکرین لگائی ہیں۔

کنسرٹ

Cars are parked at a drive-in musical operation by Hyundai Motor at Stage X Drive-in Concert as South Koreans take measures to protect themselves against the spread of coronavirus

Getty Images

زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو موسیقی ایک ایسی چیز ہے جو اس میں آسانی نہیں تو آپ کے موڈ کو بہتر ضرور کردیتی ہے۔

جنوبی کوریا کے شہر گویانگ میں مشہور بینڈ کے- پاپ کے فنکاروں نے تین دن پر مشتمل ایک کانسرٹ منعقد کیا۔ لیکن سماجی دوری کی پابندی کرتے ہوئے شائقین نے یہ پورا کانسرٹ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر دیکھا۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14115 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp