لہو رنگ فلسطین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کو ماضی کے تناظر میں پیش کرنے کے لئے ”لہو رنگ فلسطین“ سلمیٰ اعوان کی بہترین کاوش کے طور پر پڑھی جانے اور یادر کھے جانے کے لائق ہے۔ ان کے معتدل مزاج قلم نے انتہائی ذمہ داری سے یہودیوں اور مسلمانوں کے تاریخی جھگڑوں، اسباب اور نتائج کا بہ نظر غائر جائز ہ لیا ہے اوردونو ں کے انتہاپسند اور اعتدال پسند نظریات کو مہارت سے پیش کیا ہے۔ یہ ناول فلسطینی قوم کے درد، اس کے ملال، اس کے زخموں، اذیتوں، محرومیوں، مایوسیوں اور ایک خطے کی تقسیم کے دکھوں کی تجسیم کرتا ہے۔

کچھ اس انداز میں کہ ایک عام آدمی کا فہم اس احساس میں خود کو شریک سمجھ سکے کہ جو اپناوطن، گھر بار غاصبانہ قبضے میں دیکھ کر ہر فلسطینی کے دل میں رستے ہوئے زخم کی طرح جاگزیں ہے! وہیں اس کا یہ پہلو بھی چونکانے والا ہے کہ یہ ایسے یہودی خاندانوں کی بھی نشان دہی کرتا ہے جو ظلم کو ظلم سمجھتے ہوئے اسرائیلی مظالم سے نہ صرف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اپنی حد تک ان مظالم کی مزاحمت بھی کرتے ہیں۔

اکیس ابواب پر مشتمل یہ کہانی تین نسلوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا احاطہ کرتی ہے۔ موضوع کی حساسیت اور اس کی گہرائی کو مصنفہ نے کمال چا بک دستی سے ہینڈل کیاہے کہ کہیں گرفت ڈھیلی پڑنے کا احساس نہیں ملتا۔ کہانی، اس کے واقعات اور کردار گو ایک اجنبی ماحول اور اجنبی تہذیب کے نمائندوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں مگر یہ بیگانگی اجنیت کا احساس نہیں ہونے دیتی کہ یائل اور منصور کے بچپن سے شروع ہونے والی اس کہانی کا انجام ان کے بچو ں میں منتقل ہونے والی وطن پرستی، مشکل مگر امید بھرے راستے پر چلتے رہنے کی دھن کی شکل میں ایک خوب صورت پیغام چھوڑتی ہے!

جرمنی سے نکالے جانے کے بعد فلسطین میں یہودی آباد کاری کے نتیجے میں آنے والی ایموس ہیروئن یائل کی نانی جو حادثات میں اپنے پیاروں کو کھو چکی ہے۔ یوسف ضیا، منصورکے داداسے وی آنا میں ان کے قیام کے زمانے سے پرانی سلام دعا رکھتی ہے۔ اس ممتاز فلسطینی خاندان کی مصیبت کے وقت کام آنے کی عادت نے رواداری اور محبت و یگانگت کو پنپتے رہنے کا موقع دیا اور قدرتی طور پر یائل اور منصور ان کہے، ان دیکھے تعلق میں بندھتے چلے گئے، مگر یہ کہانی ذہنی غلامی سے مبرا، آزاد ذہنوں کی فکر نوک کی کہانی ہے۔ جنہوں نے اپنے وطن، اپنے لوگوں کی محبت میں اپنی انتہائی ذاتی خوشیوں کو بھی خوشی خوشی قربان کر دیا۔

”تمہاری میری شادی تو ایک دھماکا ہوگی۔ سو، پچاس، دو سو یاتین سو یا ممکن ہے اس سے بھی زیادہ فلسطینی جانوں کے نذرانے پر؟ کیا ہم اسے ہضم کر سکیں گے۔ اگر ہم باہر چلے جاتے ہیں تو میرا اور تمہارا فلسطین آنا بین ہو جائے گا۔ کیا میں اسے برداشت کر سکوں گا؟ نہیں۔ ۔ ۔ محبت کی اتنی بڑی قیمت دے کر میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔ فلسطین لہو کی طرح میری رگوں میں گردش کرتا ہے۔“

یہ اس معاشرتی شعور کا بہت خوب صورت پہلو ہے کہ ہمارے ہاں شادی اور خواہشات سے دستبرداری چونکہ جبر کا نتیجہ ہوتی ہے، لہٰذا وہ برگشتگی اور انتشار کو جنم دیتی ہے، مگر وہاں شعوری فہم نے توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا!

دیکھیے منصور کا حساس شعور۔

”ہم فلسطینی تو بڑی بے خانماں سی قوم بن چکے ہیں۔ ہم کسی کی ترجیح نہیں۔ اب یہ لڑائی تو خود ہمیں لڑنی ہے۔ ہاتھوں میں امن کے جھنڈے پکڑ کر یا بندوقیں اٹھا کر۔ وقت کا انتظار کہ شاید اس کے دامن سے ہمارے لئے محبت اور امن کے پھول گر جائیں۔ تمہیں میں نے اسی لئے بلایا تھا کہ اس کرب سے نکلیں۔“

منصور اور یائل کے خیالات سے آگاہی ہمیں ان کے خطوط کے ذریعے بھی ملتی ہے، جو وہ باقاعدگی سے ایک دوسر ے کو لکھتے ہیں۔

پڑھتے ہیں یائل کا ایک خط۔ ۔ ۔

”انسانی رویوں کے تضادات اب بھی ہمیشہ کی طرح مجھے بہت متاثر کرتے ہیں اور میں اپنے بچپن کی طرح اب بھی مماکے سمجھانے کے باوجود خاموش رہنے کے بجائے ان پر خوب بولتی ہوں۔ گزشتہ دنوں میری پھوپھی پولینڈ سے یہاں شفٹ ہوئی ہیں۔ مغربی یروشلم کی مامیلا کالونی میں انہیں گھر ملا ہے۔ وہی مامیلا جہاں یروشلم کے مسلمانوں کا قدیمی تاریخی قبرستان تھا۔ بے شمار علماء اور صوفیاء سے بھرا ہوا۔ جن پر بلڈوزر چلے اور شان دار بستی تعمیر ہو گئی۔

ممی ڈیڈی تو خیر بڑے لبرل اور سیکولر لوگ ہیں۔ پر ہماری پھوپھی جن کا ایمان اس بات کے بغیر مکمل نہیں ہوتا کہ دنیا بھر کے یہودیوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ارض موعود پر یورش کریں۔ یہ ان کے باپ دادا کی میراث ہے اور جب میں نے ان سے بحث کرنا چاہی تو انہوں نے تین ہزار سال پرانی تاریخ کا میرے سامنے ڈھیر لگا دیا۔ ”

اب دیکھیے انتہا پسند یہودی موقف کی ایک تصویر۔

”ارے یہ فلسطین کب ہے؟ یہ تو کنعان ہے۔ ہم اسرائیلی جنہیں یہ فلسطینی عبرانی کہتے ہیں، یہ تو مسیح سے بھی کہیں پہلے آکر آباد ہوئے تھے۔ کتنا دربدر پھر ے ہم۔ کس کس قوم نے ہماری نسل کشی نہیں کی؟ صدیوں پر پھیلی تاریخ کھول کر دیکھ لو۔ ہنری دوم اور سوم نے ہم سے لاکھوں پونڈ بھی لئے اور ہمارے ماتھے پر شناخت کا ٹیکا لگوا کر ہمارا عام لوگوں کے ہاتھوں پٹڑہ بھی کروایا۔ یہی اس کمینے فرانس کے شاہ فلپ نے بھی کیا۔ یہودیوں کو جیلوں میں بھی ٹھونسا، ان سے پیسہ لیا اور انہیں دیس بدر بھی کیا۔ جرمنوں نے سب ہی کو مات دے دی۔ ان کے عیسائی پادری حلفاًیہ اقرار کرواتے۔

”میں نجس یہودی ہوں۔ میرے آباء نے سچے مسیح کو صلیب پر چڑھایا۔“
اب سنیے وہ امتیازات جن کی بنا پر یہودی خود کو افضل سمجھنے کا حق فائق سمجھتے ہیں۔

”کاروباری فراست ہماری قوم کو قدرت نے ودیعت کی ہے۔ جو ڑ توڑ اس کی گھٹی میں ہے غیر معمولی ذہانت وفطانت یہودی قوم کے انعام ہیں۔ من و سلویٰ جیسا تحفہ بھی یہودی قوم کے لئے ہی آسمانوں سے اترا۔ اب قومیں جلتی ہیں تو بھئی جلو۔ سچ تو پھر یہی ہے کہ ہم ہیں ہی خدا کے لاڈلے۔“

تمام خوبیاں سچ ہیں۔ مگر ان پر اترانے کا فعل یہودیوں کا پسندیدہ اور قدیم شوق ہے!
اور اب یائل جیسی سچی اور بے باک لڑکی بھی وہ سب کچھ کہہ دیتی ہے جو بڑی کڑوی حقیقت ہے۔

” یہ یروشلم تو نہ آپ کا ہے اور نہ مسلمانوں کا۔ ہاں آپ اسے عیسائیوں کا کہہ سکتی ہیں۔ یہودیت نے صحرائے سینا میں جنم لیا۔ اب کوہ صیہون کیسے معتبر ہوگیا؟ کوہ سینا کیوں نہیں جہاں کتا ب ملی اور خدا سے کلام بھی ہوا۔ مسلمانوں کاتو براہ راست تعلق حجاز سے ہے۔ بس ایک یاد کا واسطہ ضرورہے۔ البتہ عیسائیت یہاں پیدا ہوئی۔

منصور! مجھے تو دکھ کے ساتھ ہنسی بھی آتی ہے۔ تین مذاہب کے پیروکار جن کے دین انہیں پہلا سبق انسان سے محبت کا دیتے ہیں اور وہ ہیں کہ ایک دوسر ے کا گلا کاٹنے اور ایک دوسرے کا تخم مارنے میں جی جان سے مصرو ف ہیں۔ ”

یائل کے جوابی دلائل نے پھپھی کو مشتعل کر دیا، دہریہ قرار دے کر انہوں نے سارا الزام ماں کی تربیت پر ڈال دیا۔

پڑھیے منصور کا ایک خط!

”صرف ایک اعلان، فوری قانون اور مسلم علاقہ بلڈوزروں کی نذر۔ ۔ ۔ حر م شریف کی املاک، البراق کا مغربی محلہ اورباب سلسلہ کے سامنے کا علاقہ اسی زورزبردستی کی بھینٹ چڑھ گیا۔

ان کا اہم ترین ٹارگٹ یروشلم کے چہرے سے عرب خدوخال کو نو چ ڈالنا اور اسے نئی صورت دینا ہے۔ انسان کتنا وحشی ہے۔ اس کے ہاتھ میں طاقت آ جائے تو یہ آپنے آپ میں ہی نہیں رہتا۔ کیا یہ اس ردعمل کا نتیجہ ہے کہ زمانوں کی تپسیا اور ظلم وستم کا نشانہ بننے کے بعد کہیں غالب آنے اور اسی تاریخ کو دوہرانے کا موقع تو ملا ہے۔ شہرپناہ کے اس دروازے سے منہ زور فوجیوں کا ایک اور دوسری جانب باب دمشق سے دوسرا ریلا بندوقیں لہراتا ہوا اندر داخل ہوا ہے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہے۔ آخر کیوں نہ ہو۔ 2000 سال بعد یہ وقت انہیں نصیب ہوا۔ ”

”دراصل انسانی فطرت کایہی المیہ ہے کہ لمحہ موجود میں جو کامیابی اس کے حصے آتی ہے اس کے خیال میں وہ صرف اسی کا مقدر ہے۔ یائل مجھے تو اس کی بھی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ چلو غلبے کی جبلت انسانی فطرت میں ہے لیکن کیا غالب آنے والوں کے لئے بربریت اور وحشی پن کے مظاہرے ضروری ہیں؟

ہاں ایک بات اور بھی ہے کہ بہرحال اس کامیابی کے لئے محنت کی گئی۔ بہترین تربیت، بہترین منصوبہ بندی، سخت جفاکشی اور دعائیں۔ ۔ ۔ قدرت کے فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں۔ انفرادی معاملات میں اس کی عنایات مل سکتی ہیں، مگر اجتماعی معاملات میں نہیں۔

اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نما سینائی، غزہ کی پٹی، شام سے گولان کی پہاڑیاں، اردن سے ویسٹ بینک اور مشرقی یروشلم سب اپنے قبضے میں لے کر تقریباً ساڑھے تین لاکھ لوگوں کو پنا ہ گزین بنا دیا ہے۔ ”

ان ہی خطوط میں تاریخ کے اوراق کھلتے ہیں اور حقائق بتائے جاتے ہیں!

یائل اور منصور کے علاوہ ابراہیم ایلان جو پیشے کے اعتبار سے دیانت دار صحافی اور سیکولر یہودی تھا، کے ذریعے ہم اس ایشو پر سیاسی محاذ آرائیوں، جنرلز اور راہنماؤں کی

حقیقت جانتے ہیں۔ صحافی تجزیہ کر سکتے ہیں، صورت حال کو قابو کرنا یا غلطی سے روکنا ان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ۔ ۔

یائل اور ابراہم ایلان کی شادی فقط پندرہ سال کا سفر طے کرسکی۔ ۔ ۔ کہ بے باک اور بہادر صحافیوں کو قتل کروانا دنیا بھر میں رائج ہے!

فلسطینی تہذیب میں رچے بسے منظر، شادی کی رسوم، کھانے اور ان کی دریا دلی کہاں کہاں آپ کی آنکھیں نم کرتی ہے۔ ۔ ۔ یہ صرف آپ کوپڑھنے پر ہی احساس ہوتا ہے۔

یائل کے گھرانے سے روز مرہ کی مذہبی رسومات، شادی کے طور طریقے ہمیں یہودی کلچرسے آگاہ کرتے ہیں مقدس مقامات، رسومات اور ان کی تاریخ کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں!

ناول نگار کو اس بابت نہایت تحقیق اور جستجو کرنا پڑی ہوگی، جس کے لئے وہ لائق تحسین ہیں!
دکھاتے ہیں آپ کو ایک سجا ہو ا فلسطینی دسترخوان۔

”پیتل کی بڑی پلیٹ میں گو بھی کے پھول، بینگن کے قتلے، گاجروں کی قاشیں، توریوں کی پھانکیں عمدگی سے فرائی ہو کر سجی تھیں۔ پودینے اور سلاد کے پتوں کے ساتھ ہر سبزی اپنی اصلی رنگت کے ساتھ بہار دکھاتی تھی۔ دوسری پلیٹ میں سبزیاں اچار میں بنائی گئی تھیں۔ چاندی کی بڑی سی ڈش جس کی کندہ کاری بغدادی کاریگروں کی مرہون منت تھی۔ مقلوبے سے سجی تھی۔ پتیلے کی صورت لئے چاولوں اور گوشت کا یہ چوکورپہاڑ بھی اپنی صورت گری میں ایک انفرادیت لئے ہوئے تھا۔ سب سینی کے گرد بیٹھے تھے۔“

اپنے وطن میں رہ کر اپنے گھر بار، اپنے شہروں سے دستبرداری کیسا تجربہ ہے؟ کیسا درد والم ہے جو فلسطینیوں کے مقدر میں ٹھہرے ہوئے وقت کی طرح لکھ دیا گیا ہے؟ منصور کی دادی سارہ اپنے علاقے حیفہ کو دیکھ کر افسردہ ہو رہی ہیں۔

”یہ میرا حیفہ ہے یہ میرے پرکھوں کا حیفہ۔ یہ صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں فتح یاب ہونے والا خوبصورت شہر، صدیوں سے عر ب تہذیب وتمدن کا عکاس۔ اس نے کیسے ہم سے آنکھیں پھیر لی ہیں؟ یہ کیسے غیروں کا بن گیا ہے؟ ہمارا تو اب یہاں رہنا ایسے ہی ہے جیسے بھوکے خونخوار بھیڑیوں کے سامنے لاغر، بے بس اور مریل سے بھیڑ بکریوں کے بچے جن پر وہ بہانے بہانے سے جھپٹتے ہیں۔“

وقت نے بدلنے کا عہد کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ ۔ نہ ٹھہرنے کا ضرور کر رکھا ہے۔ ۔ ۔ سو وقت گزرتا گیا اور منصور کامیاب ہارٹ سرجن بن کر اسپتالوں کے ساتھ اپنے کٹے پھٹے ہم

وطنوں کی خدمت میں حاضر رہا۔ ۔ ۔ اوریائل نے بھی ابراہم کے قتل کے بعد امریکا سے وطن واپسی اختیار کی۔

ڈاکٹر منصور کی بیٹی ایمان نوعمری کے جذبات کی یورش سے مغلوب لیلیٰ خالد کی طرح فدائی بننا چاہتی تھی۔ ایسے میں اپنے والد کی وساطت سے اس کی ملاقات شہرہ آفاق شاعر محمود درویش سے ہوتی ہے۔ وہ اس نوجوان لڑکی کے جو شیلے جذبات کو محسوس کرتے ہوئے وہ اس کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اورہم ان کی خوب صورت نظموں اور خیالات تک رسائی پاتے ہیں۔

”لفظ لکھو فلسطینیوں کے متحد ہونے کے لیے ۔ ۔ ۔ ہر نظرئیے اور ہر سوچ سے اوپر اٹھانے کے لئے۔ لفظ لکھو دنیا کو بتانے کے لئے۔ ان کا سویا ہوا ضمیر جگانے کے لئے۔ لفظ لکھوذہنوں کو متاثر کرنے کے لئے۔ تمہارا بس یہی کام ہے۔“

اور ایمان نے اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ کا سفر اختیار کر لیا۔ جہاں اس نے تحقیق اور فلسطینوں سے رابطہ رکھنے، چندہ جمع کرنے، مضامین لکھنے، احتجاج کرنے اور اپنی تعلیمی استعداد کو بڑھانے میں پانچ سال کا وقت گزارا۔

ڈاکٹریشار البشر سے ملاقات بھی ان ہی مصروفیات کے دورا ن ہوئی۔ جو تارک وطن، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خداداد مسیحائی طاقت سے سرفراز تھا۔ کوئی فلسطینی ایسا ہوگا کہ جس کا دل آبلہ پائی کے سفر کا گواہ نہ ہو؟ مہذب، سادہ دل یشار کو بھی کسی لاپروا اسرائیلی کی گولی کا نشانہ بنا دیا گیا جبکہ ایمان کے ساتھ اس کی شادی کو چند ماہ ہی گزر ے تھے۔

مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھرنا انسان کو قدرتی سا عمل لگتا ہے۔ مگر دوام کسی چیز کو نہیں۔

یائل کا بیٹاشامیش ابراہم۔ ۔ ۔ جو یہودی رسمی تعلیم پانے کے دوران انتہا پسندنظریات کا حامل ہو چکا تھا۔ مگر نانا، نانی اور ماں باپ کے ذہنی ورثے نے خود بخود اسے دوسرا راستہ بھی دکھا دیا اور وہ بہترین راستے پر چپ چاپ گامزن ہوگیا۔ ۔ ۔ ایمان کے

ساتھ وابستگی کو سب سے چھپائے ہوئے۔ ۔ !

زندگی کو سمجھوتوں کے ساتھ بسر کرنا، نظام کو روا ں دواں رکھنے کے لئے ضرور ی ہو جاتا ہے۔ سو پھر یائل نے ایمان کی زندگی کو غم کے گہرے اندھیرے سے نکالنے کے لئے۔ ۔ ۔ شامیش کو اس کا شریک سفر بنانے کے لئے قائل کر لیا۔

ناول کا اہم پہلو کہانی کا وہ ردھم ہے جو تمام تر لوازمات اور واقعات کی ترتیب

کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ کہانی پھیلتی سمٹتی ایک ایسے انجام کی طرف بڑھتی ہے جہاں آہیں گمان، یقین، ہجر وصال اور بہار و خزاں اپنے تمام تر معانی و مفاہیم کے ساتھ اپنے ہونے کا ابلاغ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آمنہ زریں کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *