روپوشی بھی سیاسی حکمت عملی ہوتی ہے !

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ جو محاورہ ہے ”ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ بھی چوکھا آئے‘‘ تو شہبازشریف 2 جون کو گرفتار بھی نہ ہوئے، اگلے روز 17 جون تک ضمانت قبل از گرفتاری بھی حاصل کرلی اور اس دوران میڈیا پر سب سے بڑی خبر بھی بنے رہے۔ ایک سیاسی لیڈر کو اور کیا چاہئے ہوتا ہے؟ اس کے حوالے سے کوئی بڑا ”ایونٹ‘‘ جو تبصروں اورتجزیوں کا موضوع بن جائے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ ایونٹ اس کے چاہنے والوں میں فتح وکامرانی کا احساس اور مخالفین میں مایوسی کا باعث بن جائے۔
ذرا تصور فرمائیں کہ 2 جون کی سہ پہر شہبازشریف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زیادہ اثاثوں کے نئے کیس میں تفتیش کے سلسلے میں احتسابی ہیڈ کوارٹر پہنچتے اور حسبِ روایت دھر لئے جاتے، یا اس سہ پہر ماڈل ٹائون میں اپنی رہائش گاہ سے وکٹری کا نشان بنائے باہر نکلتے اور خود کو حوالۂ پولیس کردیتے۔ یہ بھی ایک بڑی خبر ہوتی، اس کے ساتھ کارکنوں کا احتجاج اور مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بیانات۔ ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیے، جن میں ”فرزند لال حویلی‘‘ فخرومسرت سے بھرپور لہجے میں، سینے پر ہاتھ مار کر کہہ رہا ہوتا، میں نہ کہتا تھا‘ عید کے بعد ”ٹارزن‘‘ سرگرم عمل ہوگا اور 31 جولائی تک جھاڑو پھر جائے گا۔
شہباز گل سے لیکر فیاض الحسن تک سرکاری اور جماعتی ترجمانوں کی خوشی بھی دیدنی ہوتی، ”آخر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی، اسے چھری کے نیچے آنا ہی تھا اور وہ آ گئی‘‘ لیکن 2 جون کی شام ادھر مایوسی کے ڈیرے تھے اور طعنوں کے ساتھ دل کی بھڑاس۔ شہبازشریف نے اپنے حالیہ انٹرویوز میں کہا تھا ”میں لندن سے خود آیا ہوں، میں کورونا سے لڑنے آیا تھا، اب ان سے لڑوں گا، یہیں رہوں گا، یہیں جیئوں گا، یہیں مروں گا‘‘۔ اب ان کے گرفتاری سے بچ نکلنے پر، شیخ رشید فقرے کسنے میں مہارت رکھتے ہیں لیکن اس روز وہ شہبازشریف کی نقل اتار رہے تھے ”تم تو سینے پر ہاتھ مار کر بڑے دعوے کرتے تھے، بھاگ کیوں گئے؟‘‘ اور میڈیا کیلئے موصوف کی ”خبر‘‘ تھی کہ شہباز کو پتہ تھا؛ چنانچہ وہ صبح ہی گھر سے نکل گیا۔
احتسابی ادارے نے نئے کیس میں شہبازشریف کو 2جون کو تفتیش کے لیے طلب کیا تھا۔ گزشتہ تجربات کی روشنی میں انہیں یقین تھا کہ اس بار بھی واپسی نہیں ہو گی۔ وہ 5 اکتوبر 2018 کو صاف پانی کیس میں حاضر ہوئے اور آشیانہ ہائوسنگ سکیم میں گرفتار کرلئے گئے تھے۔ پھر رمضان شوگر ملز بھی آ گئی۔ اس دوران وہ 63 دن زیر حراست رہے۔
اس بار حفظ ماتقدم کے طور پر انہوں نے 2 جون سے ایک روز قبل ہائی کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دیدی تھی۔ 2 جون کو جسٹس (ر) شبیر حسین بخاری کے انتقال پر عدالت عالیہ کی کارروائی معطل ہوگئی؛ چنانچہ شہباز صاحب کی درخواست بھی اگلے روز پر ملتوی ہوگئی۔ 2 جون کوعدم پیشی پر نیب حکام پولیس کے ساتھ شہبازشریف کی رہائش گاہ 96-Hماڈل ٹائون پہنچ گئے اور یوں ایک بڑے پولیٹیکل سین کا آغاز ہوا۔ پاکستان کے تمام نیوز چینل ”بال ٹو بال‘‘ کمنٹری کررہے تھے۔ شہباز صاحب کے گھر کی طرف آنے والے راستے بیریئر لگا کر بند کردیئے گئے تھے۔
ادھر مختلف علاقوں سے کارکن ماڈل ٹائون کا رخ کررہے تھے، جہاں مزاحمت کا سامنا ہوا، وہیں احتجاجی مظاہرہ بن گیا۔ پولیس سے مڈبھیڑ بھی ہوئی جو ہلکی پھلکی ہاتھا پائی سے آگے نہ بڑھی۔ مسلم لیگی قائدین بھی موقع پر پہنچ گئے تھے۔ حکام ”ملزم‘‘ کی گرفتاری میں تعاون کی درخواست کر رہے تھے جس کیلئے وہ (28 مئی کی تاریخ والا) وارنٹ گرفتاری بھی دکھا رہے تھے۔ بالآخر انہیں اندر آنے کی اجازت مل گئی، لیڈیز پولیس، خواتین والے حصے میں بھی ہو آئی لیکن ”ملزم‘‘ کا سراغ نہ ملا۔
اس دوران ملک کے اندر اور باہر مسلم لیگ کے حامی (اور مخالف بھی) ٹی وی چینلز کے سامنے بیٹھے رہے۔ بالآخر پولیس کی ناکام واپسی کا ”اعلان‘‘ ہوگیا۔ اب اس کا رخ جاتی امرا کی طرف تھا۔ اسی شب پاک بھارت سرحدی علاقے میں مسلم لیگی رکن اسمبلی سہیل شوکت بٹ کے ڈیرے پر بھی پولیس نے چھاپہ مارا۔ ڈیفنس میں شہباز صاحب کے دوسرے گھر پر بھی ریڈ ہوئی۔ اگلی صبح پولیس کی ساری توجہ ہائیکورٹ کی طرف آنے والے راستوں پر تھی۔
ٹی وی سکرینوں پر پھر پولیس اور سیاسی کارکنوں میں کشمکش کے مناظر تھے۔ ریگل چوک میں رانا ثنااللہ اپنی گاڑی کی تلاشی کے لیے میڈیا کی موجودگی پر اصرار کررہے تھے۔ ہائیکورٹ میں کئی اور کیس بھی تھے، لیکن کسی کو ہائیکورٹ تک رسائی کی اجازت نہ تھی۔ ہائیکورٹ بار کے صدر نصراللہ وڑائچ، عالی مرتبت چیف جسٹس کے نوٹس میں یہ بات لائے تو انہوں نے رجسٹرار کے ذریعے آئی جی پولیس کو ہائیکورٹ کی طرف آنے والے راستے کھولنے کی ہدایت جاری کردی۔ شہباز صاحب بھی ہائیکورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں انیس بیس گھنٹے تک روپوشی ایک معمہ تھی۔ پیپلز پارٹی کے سردار نبیل گبول کا کہنا تھا:پولیس 96-H ماڈل ٹائون کے سرونٹ کوارٹرز کی تلاشی تک محدود رہی اور شربت وغیرہ پی کر چلی گئی۔ ایک انگریزی اخبار کا دعویٰ تھا کہ شہباز بدھ کی صبح ماڈل ٹائون والے گھر سے ہی ہائیکورٹ کیلئے روانہ ہوئے تھے۔ اسی ”سورس‘‘ کے مطابق شہباز منگل کی سہ پہر بھی یہیں تھے جب کچھ ”کوارٹرز‘‘ کی طرف سے واپسی کیلئے کہا گیا۔
یاد آیا، گزشتہ اکتوبر میں نیب کی حراست میں نوازشریف صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تو شہبازشریف نے ٹی وی انٹرویو ز میں کہا تھا کہ یہ خدا کا خوف رکھنے والے لوگ تھے، جن کے کہنے پر میاں صاحب کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تو کیا اب بھی وہی God Fearing لوگ بروئے کار آئے تھے؟ 2 جون کی اس شام، تبصروں اور تجزیوں میں ایک رائے یہ تھی کہ شہباز صاحب کو روپوشی کی بجائے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کردینا چاہیے تھا۔ لیکن ایک دوسری رائے بھی تھی۔ سیاسی لیڈر اور جماعتیں‘ دونوں اپنی سیاسی حکمت عملی، حالات اور ضروریات کے مطابق بناتے ہیں۔
گرفتاری کی طرح روپوشی بھی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے۔ اس کیلئے خود وزیر اعظم عمران خان کی مثالیں موجود ہیں۔ 2007 کی چیف جسٹس موومنٹ کے دوران، پولیس ان کی گرفتاری کیلئے زمان پارک پہنچی تو (خود خان صاحب بڑے فخر سے بتاتے ہیں) کہ وہ گھر کی پچھلی دیوار پھلانگ کر غائب ہوگئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں طلبہ ریلی میں گرفتاری سے پہلے بھی، وہ ایک رات روپوش رہے (یہ رات یونیورسٹی سٹاف کالونی میں گزاری تھی) 15مارچ 2009 کو نوازشریف لاہور سے لانگ مارچ لے کر نکلے تو عمران خان اور شہباز شریف، طے شدہ پروگرام کے تحت راولپنڈی میں زیر زمین تھے۔
اس حوالے سے شامی صاحب کی حکایت بھی دلچسپ ہے۔ چار اپریل 1972 کی شب وہ ممتاز مسلم لیگی رہنما سردار شوکت حیات (مرحوم) کے ہاں ڈنر پر تھے۔ ان کے ہمدم دیرینہ امتیاز انور بھی ساتھ تھے کہ اطلاع ملی، پولیس ان کی گرفتاری کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ شامی صاحب نے وہ شب امتیاز انور کے ہاں گزاری کہ اگلی صبح ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری کی کوشش کریں گے۔ صبح معلوم ہوا کہ گرفتاری کا یہ حکم مارشل لا کے تحت ہے اور ضمانت ممکن نہیں (تب یحییٰ خاں سے بھٹو صاحب کو منتقل ہونے والا مارشل لاء جاری تھا) چنانچہ وہ ٹرنر روڈ پر جناب ایم اے رحمن ایڈووکیٹ کے دفتر پہنچے اور پولیس کو فون پر اطلاع کر دی۔
تھوڑی دیر بعد، ڈی ایس پی سول لائنز گرفتاری کے لیے پہنچ گیا (اور پوچھا، آپ میں سے شامی صاحب کون ہیں؟) جناب الطاف حسن قریشی، ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اسی کیس میں گرفتار ہوئے۔ حسین نقی اور مظفر قادر پر بھی مارشل لاء کے تحت (ایک اور) کیس تھا۔ خصوصی عدالت نے انہیں ایک، ایک سال قید اور تین تین لاکھ روپے جرمانے کی قید بامشقت سنا دی تھی، ”مشقت‘‘ میں جیل سپرنٹنڈنٹ کے بنگلے کے لان کی گھاس کاٹنا بھی تھا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *