نظام کی شکست اور دیوانے کے خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت علی کا قول ہے کہ کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ حضرت عمر نے بھی تو دریائے فرات کے کنارے اوارہ کتے کی موت پر خود کو اللہ کے حضور جوابدہ ٹھہرانے کا وعدہ کیا تھا۔ قائد نے کہا تھا کہ اپ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے ازاد ہیں۔ بھٹو بھی ”طاقت کا سرچشمہ عوام“ کی سوچ لے کر ائے تھے۔ میرے محبوب لیڈر کا نعرہ بھی نظام کی تبدیلی اور انصاف کی فراہمی ہے جو میرے علاوہ بہت سوں کے دل کی اواز ہے۔

میرا لیڈر ریاست مدینہ کی بھی تو بات کرتے ہیں، جو مجھے بڑا خوش کن لگتا ہے۔ کئی بار تو میں چشم تصور سے دشت امکاں میں حکمران کو عام شہری کے سامنے جوابدہ، لاچاروں کو انصاف ملتے اور ظالموں کو کٹہرے میں سر جھکائے کھڑا دیکھ چکا ہوں۔ یہی نہیں قاتل کو سولی پر لٹکتے اور کمسن بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنانے والے کو قانون کے ہاتھ نشان عبرت بنے کا منظر دیکھا ہے۔ مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے اجرت ملنے، کسان اور وڈیرے کے بچے کو ایک ہی بینچ میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے، میونسپل ورکر کی بیوی کا علاج عزت کے ساتھ ہونے، غریب باپ کابیٹی کی شادی بغیر جہیز کے کرانے کے بعد سکھ کا سانس لینے سمیت کئی ایسے مناظر بھی نظر کے سامنے سے گزرے جو یقیناً بہت ہی سہانے تھے۔

لیکن ہر خوبصورت خواب کے بعد میں ہڑبڑا کے جاگ جاتا ہوں اور خود کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہوں جہاں ظلم کے سائے گہرے اور انصاف کے تقاضے مشکل ترہیں۔ ایک ایسے ہی خوبصورت خواب سے جاگا ہی تھا تو پتہ چلا کہ ماڈل عظمی خان کے گھر ایک بہت بڑے رئیل اسٹیٹ ٹائکون کی بیٹیوں نے گارڈ سمیت دھاوا بولا۔ چادر اور چاردیورای کے علاوہ ان سب اقدار کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا گیا جو ایک مہذب معاشرے کا خاصہ ہیں۔ ایک طرف غرور، گھمنڈ اور ظلم کا اوردوسری طرف بے بسی اور لاچاری کا جو عالم دیکھنے کو ملا اس پر تبصرہ کرنا بذات خود ایک مشکل کام ہے۔

قطع نظر اس کے کہ عظمی خان قصوروار تھیں یا نہیں، خواتین کا خواتین کے ساتھ ایسا رویہ شدید ذہنی پستی کی بے مثال عکاسی ہے۔ اس افسوسناک واقعے پر سوشل میڈیا میں ایک طوفان برپا ہوگیا۔ ٹویٹر پر ”“ ٹھییکیدار کی بیٹی ”ٹرینڈ کر گیا۔ لیکن مین اسٹریم میڈیا حسب معمول اس سارے معاملے سے لا تعلق ہی رہا۔ بالکل ایسے ہی جیسے 28 اپریل 2017 کو ایک نجی ٹی وی چینل کے شو کی ریکارڈنگ کے دوران ہال گرنے کے نتیجے میں ایک قیمتی جان کے جانے اور پولیس کے مطابق 134 جبکہ اسلام آباد انتظامیہ کے مطابق 94 افراد کے رخمی ہونے پر لا تعلق رہا تھا۔

اس خاموشی کے پیچھے کوئی طوفان نہیں تھا بلکہ وہ اشتہارات تھے اور ہیں جن کے دم سے نجی چینلز کی سانسیں چلتی ہیں۔ ہمارا“ آزاد ”میڈیا جس کو جمہوریت کا چوتھا ستون بھی کہا جاتا ہے، کے ساتھ“ طاقتور ”وہ سلوک کریں جو کتا ستون کے ساتھ کرتا ہے، تب بھی کوئی“ اف ”تک نہیں کرتا، لیکن“ عام آدمی ”پر دھاوا بھولنے کا موقع مل جائے تو آستینیں چڑھاکر لوگوں کے بیڈ رومز تک گھسنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔

اب اتے ہیں واپس عظمی خان کیس کی طرف۔ دو دن پہلے تک عظمی خان اور اس کی بہن چٹان کی طرح کھڑی تھیں۔ وہ اور ان کی وکیل انصاف کے حصول تک پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کرچکی تھیں۔ لیکن جب انصاف کے کٹہرے میں ظلم کا پلڑا بھاری ہونے کا اندیشہ ہو اور مظلوم کو رہی سہی عزت کے ساتھ جان بچانے کا آپشن مل جائے تو اللہ قسم قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ دو دنوں کے اندر ہی عظمی خان نے کیس ”غلط فہمی کا نتیجہ“ قرار دے کر واپس لے لیا ہے۔

چشم فلک حیران ہے کہ یہ کیسی غلط فہمی تھی جو ویڈیو کیمرے تک کو ہوئی۔ کیس کے تصفیہ کی خبر انے پر عظمی خان کی وکیل خدیجہ صدیقی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”یہ ان کی موکلہ کی نہیں بلکہ نظام کی شکست ہے“ ۔ بے شک عظمی خان کی پسپائی اس نظام کی عبرتناک شکستوں میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ نظام کی آخری شکست نہیں بلکہ اس ملک میں ظالم کا ترکش تیروں سے بھرا پڑا ہے اور جگر ازمانے کے لئے مظلوموں کی بھی کمی نہیں۔ دل تھام کے رکھیئے کھیل ابھی جاری ہے میرے دوست۔

ایک اور دریاکا سامنا تھا منیر مجھ کو، کے مصداق میں نے بھی عظمی خان کیس کو پیچھے چھوڑ کر کچھ اورسہانے خواب بننے شروع کیے ہی تھے کہ پرندوں کی پھڑپھڑہٹ سے ہڑبڑا کر جاگ گیا۔ تب تک قفس کھل چکا تھا۔ دو قیمتی پرندے ازاد ہوچکے تھے اور ایک سستے پرندے کو دو خونخوار کتوں نے نوچ ڈالا تھا۔ سوشل میڈیا پر ایک اور ہیش ٹیگ ”جسٹس فار زہرہ شاہ“ ٹرینڈ کر رہا تھا۔ ایک اورممکنہ پسپائی۔ ایک اور عبرتناک شکست۔ میری، اپ کی اور اس نظام کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مراد اکبر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply