فری لانسنگ اور فراغت کے یہ دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب جوانی کے ایام میں اسلام آباد کے مسلم اخبار سے ہم منسلک تھے اور اداریہ نویسی کرتے تھے، ہمارے ایڈیٹر اے ٹی چوہدری ہوا کرتے تھے۔ اپنے زمانے کے بہت مشہور صحافی تھے۔ پروقار اور رعب دار شخصیت کے مالک تھے اور ہم جیسوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

گپ شپ بھی بہت عمدہ کرتے تھے اور شام کو ان کے دفتر میں یوں سمجھیے ایک محفل جمتی۔ جاننے والے ملنے کو آتے، چائے کے دور چل رہے ہوتے، گپ شپ ہوتی اور ساتھ ہی اخبار کا کام نمٹایا جاتا۔ اس زمانے میں ہم نے صحافت میں نئے نئے قدم رکھے تھے اور ظاہر ہے وہ تجربہ نہ تھا جس کا شاید آج ہم کلیم کر سکیں۔ ایک روز کا ذکر ہے، چوہدری صاحب نے ہمیں کہا، مزہ اخبارکی نوکری میں نہیں بلکہ فری لانسنگ میں ہے۔ یعنی آپ گھر بیٹھے مضمون نویسی کر رہے ہوں، یہ صحافت کا مزہ اور معراج ہے۔

مجھے یاد ہے، میں نے دل میں سوچا، خود تو ایڈیٹر بنے ہوئے ہیں اور ہمیں گھر بیٹھنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ لیکن جوں جوں زمانہ گزرا اور ہم نے اخبار کی باقاعدہ نوکری ترک کر کے فری لانسنگ شروع کی تب ان کی بات سمجھ میں آئی۔ کچھ زیادہ عمر نہ تھی جب گھر میں بیٹھ کے اخبار کے لئے کالم نویسی کا کام شروع کیا۔ پھر جوں جوں اس زندگی کا لطف آیا چوہدری صاحب یاد آیا کرتے تھے۔

یہ جو گاؤں یا چکوال میں لیٹے اپنے نکمے پن کا مزہ اڑا رہے ہوتے ہیں یہ صرف فری لانسنگ کی بدولت ہے۔ اپنے ٹائم کے خود ماسٹر۔ کسی دفتر نہیں جانا، کوئی دکان کا کاروبار نہیں سنبھالنا۔ صبح اٹھے، کافی پی، اخبار بینی میں کچھ وقت گزارا، کالم لکھنا ہوا تو لکھ ڈالا۔ دن کے باقی لمحات جیسے چاہیں گزار دیں، کتاب پڑھتے ہوئے، موسیقی سنتے ہوئے یا کوئی اور دل پسند جھک مارتے ہوئے۔ یہ سب فری لانسنگ کی وجہ سے ہے۔ انسان کا مزاج ویسے بھی تھوڑا سا آوارہ ہو (یہ لفظ موزوں نہیں لیکن ذہن میں اس کا متبادل نہیں آ رہا) اور دال روٹی کا وسیلہ گھر میں چل کے آ جائے تو ایسے انسان کو اور کیاچاہیے۔

البتہ ایک بات کا اضافہ ناگزیر ہے۔ محض فری لانسنگ سے کام نہ چلتا اگر انٹرنیٹ ایجاد نہ ہوتا۔ جس زمانے میں ہم نے صحافت شروع کی تب صحافت کے لوازمات کسی بڑے شہر میں قیام پذیر ہوکے ہی پورے ہوسکتے تھے۔ چکوال جیسے شہر سے قومی صحافت نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ اسلام آباد، لاہور یا کراچی رہیں۔ پشاور بھی صحافت کا ایک مرکزتھا لیکن ثانوی حیثیت کا ۔ یہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع انفارمیشن کا کمال ہے کہ آپ گاؤں میں کیا کسی پہاڑ کی چوٹی پہ ایک سادھو کی زندگی گزاررہے ہوں تو ساتھ ساتھ صحافت کے تقاضے بھی پورے کر سکتے ہوں۔

پہلے پہل ہم کالم بھیجتے تھے تو پاکستان انٹرنیشنل کی ڈاک کے سہارے۔ پی آئی اے صحافیوں کو رعایت دیتی تھی اور ڈیڑھ یا دو روپے میں ہمارا پیکٹ اسلام آباد سے لاہور یا کراچی پہنچ جاتا۔ پی آئی اے کا دفتر تب آبپارہ میں تھا۔ ہمارے لئے ضروری ہوتا کہ پیکٹ لے کر آبپارہ جاتے اور پھر دوسرے دن پیکٹ منزل مقصود پہ پہنچتا۔ ہم ٹائپ شدہ کاغذات بھیجتے تھے۔ اخبار کے دفتر میں وہ کاغذات کمپیوٹر کی لکھائی پہ چڑھتے۔ کئی غلطیاں بھی ہوتیں اور پھر جاکے کالم اخبارکی زینت بنتا۔

فون بھی کرنا پڑتا کہ کالم پہنچ گیا ہے، دوبارہ ٹائپنگ میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ یہ جو عیاشی ہے کہ کمپیوٹر سکرین پہ کالم کی تحریر مکمل کی اور پھر بٹن دباتے ہی یہاں سے وہاں کالم پہنچ گیا، اسے تو ایک عجوبہ ہی سمجھنا چاہیے۔ ہاں، یاد پڑتاہے کہ پیکٹ بھیجنے کے دنوں کے بعد فیکس مشین کی آمد ہوئی تھی۔ ہم جیسے آدمیوں کے لئے فیکس مشین کسی سائنسی انقلاب سے کم نہ تھی۔ میں ہمیشہ حیران ہوتا کہ کیسی مشین ہے، کا غذایک طرف ڈالا اور دور کسی دوسرے شہر مشین سے نکل آیا۔ انٹرنیٹ اور ای میل کا تو تصورتک نہ تھا۔ لہٰذا فری لانسنگ پلس انٹرنیٹ سے ہم جیسے فارغ انسانوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔

اوپر سے یہ زمانہ آ گیا ہے۔ جس سست روی کو برا سمجھا جاتاتھا اسی سست روی کی اب باقاعدہ تلقین ہو رہی ہے۔ یہ جوانی اور جوانمردی کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ نوجوان گھر سے باہر نکلیں اور کچھ کام کریں۔ زمانہ کیسا آیاہے کہ اب تلقین کی جا رہی ہے کہ گھروں پہ ہی رہو، کسی سے نہ ملو، فضول آمدورفت سے پرہیز کرو۔ اوروں پہ ایسی باتوں کا اثر کیا ہوگا ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے جیسوں کو اور کیا چاہیے۔ گھر بیٹھے ہوں، فراغت کے مزے لے رہے ہوں، فضول میل ملاقات سے جان چھوٹ گئی ہو۔

جی چاہا تو اپنے فون پہ ہی سپیکر لگا کر فلمیں دیکھ لیں۔ نیٹ فلیکس (Netflix) کو اگر آپ سبسکرائب کریں تو مہینے کے چودہ پندرہ سو روپے دینے پڑتے ہیں۔ آپ نے ایسا کر لیا تو چٹخارے کی فلمیں دیکھتے رہیے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اپنا وقت کیسے گزار رہے ہو کیونکہ اب تو رائج الوقت حکمت ہی یہی ہے کہ گھر پہ رہو اور لوگوں سے دور رہو۔ جو ویسے ہی خلوت پسند تھے وہ اور کیا چاہیں گے؟ نیٹ فلیکس سے یاد آیا، پورا پچھلا ہفتہ ایک سیریز دیکھتے گزر گیا جو کولمبیا کے منشیات کے سمگلروں کے بارے میں ہے۔

ایک حصہ ختم ہوتا تو دل چاہتا دوسرے پہ جائیں۔ ایسی بے شمار فلمیں ہیں جو آپ دیکھتے جائیں۔ البتہ یہ بات کہنی ضروری ہے کہ رات کے وقت ایسی فلمیں یا کوئی بھی فلم دیکھنے سے پرہیز کرنی چاہیے۔ نہیں تو نیند برباد ہوجاتی ہے اور ایساہو تو آنے والا دن بھاری لگتا ہے۔ خلوت کا مزہ بھی تب ہے کہ صحت برقرار رہے اور صحت بغیر اچھی نیند کے ممکن نہیں۔

اس دوران مختلف محکموں کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوگیا ہے۔ پہلے ہم محکمہ زراعت کی اہمیت کو بہت اونچا سمجھتے تھے لیکن ہرچیز کی بندش کی وجہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس میں محکمہ ایکسائز کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہو گیا ہے۔ ہماری بڑی فضول حکومتیں ہیں۔ جو محکمے صحیح کام کے ہیں ان کی افادیت کو سرے سے جانتی نہیں۔ محکمہ ایکسائز کے صحیح اہداف مقرر کیے جائیں اور محکمے کی اصل اہمیت کو سمجھاجائے تو پنجاب کا سارا بجٹ خسارہ پوراہو سکتا ہے۔

حالت یہ ہے کہ حکومت کی جیب میں کچھ نہیں جا رہا۔ صورتحال کا فائدہ کون اٹھارہے ہیں؟ ایک سے ایک دو نمبریا۔ ہر ملک میں محکمہ ایکسائز کے کارن حکومتیں فائدہ اٹھاتی ہیں، یہاں پہ کام الٹا ہے۔ اور سمجھنے والا کوئی نہیں۔ استدعا صرف اتنی ہے کہ جائز حدود میں رہ کر محکمہ ایکسائز کو کام کرنے دیاجائے۔ آخر حکومتوں کا محکمہ ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی کا نہیں۔ لیکن بیکار کی باتیں ہیں، کسی نے کیا سننا ہے۔

بات تو مارکیٹ کی ہوتی ہے یا جسے معاشی ماہرین سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کہتے ہیں۔ پچھلے ہفتے شام گاؤں بیٹھا تھا کہ یک دم احساس ہوا، مارکیٹ کی پوزیشن خراب ہو رہی ہے۔ فوراً ہی فون جا کھڑکایا۔ ایک جاننے والے ہیں محکمے میں، بھلا ہو ان کا ، گاؤں آئے اور ہماری تسلی ہو گئی۔ جس کیفیت کا ڈر تھا وہ ٹل گئی۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایک نارمل ملک بننے سے کیوں اتنے انکاری ہیں؟ ہمیں یہ کیا شوق ہے کہ ہم نے اپنا انداز نرالا ہی رکھناہے؟

حالت دیکھیں، انٹرنیٹ آ گیا، نیٹ فلیکس پہ ہم نے دنیا جہان کی فلمیں دیکھ لیں، لیکن مارکیٹ کا مسئلہ اٹھے تو ایکسائز کے کسی دوست کو فون کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے جو زندگی گزارنی ہے اس کا بیشتر حصہ گزار چکے۔ اوکھے سوکھے ہم نے اپنا کام چلا لیا لیکن مختلف پہلوؤں سے جو حالات اس ملک کے ہیں اور جو حالات بنا دیے گئے ہیں ایسا ہونا تو نہیں چاہیے۔ لوگوں کی زندگیوں کو اتنا مشکل نہ بنایا جائے۔ آسانیاں پیدا کی جائیں۔ ہنستا کھیلتا ملک ہوا کرتا تھا۔ منافقت کا لبادہ جو اب پاکستانی معاشرے نے اوڑھ رکھاہے ایسا ہمیشہ نہ تھا۔ لیکن جو چہرے مسند اقتدار کے اردگرد ہیں ان سے کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی۔
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *