رسول بخش پلیجو: کیسے اس کے گن گاٶں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے کبھی ان کے ماتھے پہ کوٸی شکن نہیں دیکھی۔ ہر بار، ہر وقت، ہر حال میں ان کو پرسکون اور باہمت ہی پایا۔ کٸی لوگوں کی طرح میں بھی استاد رسول بخش پلیجو کی مداح ہوں۔

وہ پرکشش اور عمدہ ذہانت کے مالک تھے۔ مجھ سمیت کوٸی بھی اگر ان سے ملاقات کرتا تو بار بار ان سے ملتے رہنے کی خواھش ہی کرتا۔ اگر کوٸی ان سے نظریاتی اختلاف بھی رکھتا تب بھی ان سے ملنے اور ان کے ساتھ چند گھڑیاں بتانے کا ہمیشہ خواہاں رہتا۔ ان کی چھوٹی مگر چمکیلی آنکھیں امید سے سرشار رہتی تھیں جو ان سے ملنے والوں میں بھی ہمت و حوصلے کا سبب ہوتی تھیں۔

ایک بار پلیجو صاحب کے ساتھ بیٹھنے کا اتفاق ہوا اس وقت میری عمر قریب چودہ پندره برس تھی۔ بات کرتے کرتے پوچھا کیا پڑھتی ہو؟ حسبِ معمول میں نے جواب دیا۔ پھر کہنے لگے کہ اس وقت تمہارے دماغ میں جو بھی سوال آٸے، وہ مجھ سے پوچھو میں ہر سوال کا جواب دے سکتا ہوں۔ میں بھی اپنی نادان عمری میں عجیب سوالات پوچھتی رہی اور یوں ہماری گفتگو جاری رہی۔

ان میں یہ بھرپورصلاحیت تھی کہ وہ ہر عمر کے لوگوں کے ساتھ ان کی ذہانت کے مطابق بات کرتے اور ان کو انکی خوبیوں اور خاصیتوں سے واقف کراتے جاتے۔

سوال کيسا بھی ہو۔ بات چاہے کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو وہ سوال کرنے والے کی بات غور اور مکمل توجہ سے سننے کے بعد ایسا اطمینان بخش جواب دیتے گویا صدیوں سے پیاسے کو کنواں مل گیا ہو۔ تاریخ میں ایسے انسان صدیوں بعد جنم لیتے ہیں جو ہم جیسے آلسی لوگوں کو جینے کے نٸے ڈھنگ سکھلاتے ہیں۔

عورتوں کے حقوق، عورتوں کا وجود، عورتوں کی آزادی، عورتوں کی غلامی سے نجات وغیرہ وغیرہ۔ وہ عورت کے انسانی پہلو کو اتنی باریکی سے جان چکے تھے کہ وہ عورت کو عورت سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتے تھے۔ ان کو اندازہ تھا کہ کوٸی بھی جدوجہد عورتوں میں سیاسی شعور لائے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ پلیجو صاحب کاٸنات میں عورت کے وجود کو سماجی تبدیلی کا وہ نشان سمجھتے تھے کہ جس کے بغیر سماجی تبدیلی ممکن ہی نہیں ۔

اس سیاسی دانشور نے سندھی سماج کی ان فرسودہ روایات سے محکوم عورت کو آزاد کرانے کی ٹھانی جو مشکل کام تھا۔ یہی وجہ رہی کہ پلیجو صاحب نے سماج کی فرسودگی کی پرواہ کیئے بغیر سندھیانی تحریک جیسے منظم محاذ کا آغاز کیا جس کا قائدانہ محاذ بھی سندھ کی عورتوں کے حوالے کیا اور یوں سندھیانی تحریک کا یہ قافلہ نہ صرف سندھ بلکہ ایشیا و دنیا کے کونے کونے تک پھیلتا گیا۔

پلیجو صاحب کو اگر ایک اچھا مدبر وکیل سمجھا جائے گا تو یہ ان کے سیاسی صلاحیتوں کی گہرائی سے ناانصافی ہوگی۔ اگر ان کو قابل تاریخ دان کہا جائے گا تو یہ ان کی دیگر صفات سے نا انصافی ہوگی۔ رسول بخش پلیجو صاحب بے بہا خوبیوں کے بے مثال قائد و رہنما تھے جو سندھ دھرتی کی بانجھ اور لوٹی گٸی شان و شوکت کو بحال کرنے اور سندھ ماتا کو لٹیروں سے نظریاتی بنیاد پر آزاد کرانے کے عزم سے مسلح شخصیت تھے۔

انہوں نے پوری زندگی مسلسل عملی جدوجہد میں گذاری اور خود کو اسی نظریاتی سانچے میں رہنے کو ترجیح دی۔ وہ نظریاتی عمل کی ایک ایسی تفسیر تھے جنہوں نے ہزاروں سندھ آدرشیوں کو اپنی جدوجہد اور نظریاتی پختگی سے متاثر کیا۔

ایک مسلسل تپش مری ہستی

موت بھی مجھ کو سازگار نہیں۔

اکثر اوقات خلوتِ شب میں

ایک پل بھی مجھے قرار نہیں۔

اک خلش سی ہے سعی لاحاصل

ہاۓ میں پھر بھی سوگوار نہیں۔ (شاه لطيف)

پلیجو صاحب کے ساتھ میں نے جتنی یادگار ملاقاتیں کیں یا عملی جدوجہد میں ان سے جو رہنماٸی حاصل کی وہ لکھنا مجھ پر نظریاتی قرض ہے لیکن وقت کی کمی اور تحریر کی طوالت سے گریز کرتے ہوۓ صرف اتنا ضرور بتاتی چلوں کہ آج رسول بخش پلیجو صاحب جسمانی طور پر ہمارے سنگ نہیں لیکن روحانی طرح ہمارے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ (يہ جملہ میں نے تحریر پوری کرنے کے لٸے روایت کی پیروی نہیں کی بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوٸی انکار کر ہی نہیں سکتا)

سندھی قوم کو پلیجو صاحب عوامی تحریک جیسی جماعت بطور تحفہ دے گئے ہیں جس پہ سندھی قوم ان کی شکر گزار رہےگی۔

پلیجو صاحب کی رہنماٸی و جدوجہد کا تسلسل یہ قوم آگے بڑھانے کی کوشش میں جیتی رہے گی۔

پلیجو صاحب آج سندھ کی ہر باشعور عورت اور جوان کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ہم نظریاتی پختگی کے باعث جانتے ہیں کہ آپ سندہ کے حقوق و آزادی کے لیۓ کی جانے والی ہر جدوجہد میں ہمارے ساتھ رہیں گے۔

سندھ میں ہر انقلاب میں آپکی جدوجہد کی خوشبو آتی رہے گی۔ آج اماں لاڈ باٸی زنده هوتی تو فخر کے ساتھ کہتی کہ دیکھو میں نے ایسے انمول ہیرے کو جنم دیا جو دھرتی پہ عمر وار کے ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گیا۔

زندہ ہے اب بھی زندہ ہے۔

اے سندھو دیس تری گلیوں میں

ان کھلتے خار و کلیوں میں

دنیا کے ہر اک قالب میں

یہ شاہ سچل اور غالب میں

یہ فیض و ایاز و جالب میں

زندہ ہے اب بھی زندہ ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
پرھ سومرو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply