جمہوریت اور موروثیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"khursheed-nadeem\"

کیا یہ بات کسی آسمانی صحیفے میں لکھی ہے کہ نوازشریف صاحب کی سیاسی وراثت مریم نواز کو منتقل ہونی چاہیے؟ کیا یہ کوئی الہامی ہدایت ہے کہ بے نظیر بھٹو کا سیاسی وارث بلاول ہی ہو سکتا ہے؟ موروثیت کا جمہوریت سے کیا تعلق ہے؟
اسلام کی تعلیمات اور مسلمانوں کی تاریخ میںایک تفاوت رہا ہے۔ اسلام نے منصب کو اہلیت سے متعلق کیا ہے۔ سماج اور ریاست کے لیے قرآن مجید کی تعلیم یہی ہے کہ امانتیں ان کے اہل لوگوں کو سپرد کی جائیں، (النساء4:58) اسلام کے ابتدائی دور میں اسی تصور کی آبیاری کئی گئی۔ تاہم تیس سال بعد مسلمانوں میں جو روایت پروان چڑھی وہ اہلیت کے بجائے موروثیت پر مبنی تھی۔ اہلِ سنت میں خلافت کا منصب باپ کی وراثت قرار پایا۔ اہلِ تشیع کے ہاں بھی امامت ایک موروثی تصور ہے۔ اہلِ سنت نے اگر چہ اسے مذہبی جواز نہیں بخشا لیکن اسے غلط بھی نہیں کہا۔ اہلِ تشیع نے تو اس کا دینی جواز پیش کیا۔
سنی روایت میں خلافتِ عثمانیہ کے زوال تک خاندانی اقتدار کو قبول کیا گیا۔ عربوں اور ترکوں میں اس حوالے سے اگر اختلاف ہوا تو اس کی بنیادیں بھی نسلی برتری پر رکھی گئیں۔ ترکی میں کمال اتاترک نے اس روایت کا خاتمہ کر دیا جس کا اقبال نے خیر مقدم کیا۔ وہ کبھی احیائے خلافت کی تحریک کے حامی نہیں رہے۔ اقبال کے نزدیک خلافت کے مروجہ تصورنے \’عرب استعمار‘ (Arab Imperialism)کی صورت اختیار کر لی تھی جس کا اسلام کی تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اہلِ تشیع میں آخری امام کی غیبت ِ کبریٰ کے دور میں، ولایتِ فقیہ کی جو روایت مستحکم ہوئی، اس میں وراثت کا اصول ختم کر دیا گیا۔کبھی آیت اللہ خمینی نائبِ اما م تھے۔ آج
آیت اللہ خامنہ ای ہیں۔ دونوں میں کوئی موروثی تعلق نہیں۔
سعودی عرب میں سیاسی اقتدار کے لیے وراثت کے اصول کو قبول کیا گیا۔ اسی اصول پر،کم و بیش تین سو سال پہلے، ایک معاہدے کے تحت، آل سعود اور آل ِشیخ محمد بن عبدالوہاب میں سیاسی اور مذہبی قیادت منقسم ہوگئی ۔ شام اور اردن میں بھی خاندانی بادشاہت ہے۔ جہاں جمہوریت کو کچھ مو قع ملا، وہاں موروثیت کا اصول برقرار نہیں رہا۔ مصر میں فوجی آمریت تو رہی لیکن سیاست میں خاندانی وراثت کا اصول نہیں اپنا یا گیا۔ جمہوریت اصلاً اہلیت کے اصول پر آگے بڑھتی ہے، اس لیے جب جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے اہلِ سیاست جب وراثت کے اصول کو اپناتے ہیں تو جمہوریت کے ساتھ ان کی وابستگی مشکوک ہو جا تی ہے۔
مسلمانوں میں موروثیت کی روایت صرف سیاسی اداروں تک محدود نہیں رہی، اس نے دیگر شعبوں میں بھی ظہور کیا۔ آج مدرسہ اورخانقاہ، دونوں روایتی ادارے موروثیت کے اصول پر قائم ہیں۔ میں ملک کے ایک بڑے مدرسے سے واقف ہوں، جس کے بانی ایک نامور عالم تھے۔ ان کے ایک بیٹے کو ان کے قائم کردہ ایک مدرسے کا مہتمم بنایا گیا، حالانکہ وہ ذہنی طور ایک غیر متوازن آدمی تھا۔ اس ملک میں شاید ہی کوئی خانقاہ ہو جہاں موروثیت کے اصول کا اطلاق نہ ہوتا ہو۔ اب شاہ محمود قریشی یا فیصل صالح حیات کو روحانیت سے جتنا تعلق ہے، ساری دنیا جانتی ہے، اس کے باوجود اسی موروثی اصول پر دونوں سجادہ نشین ہیں۔
سیاست میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی میں موروثیت کے اصول کو اپنا یا گیا ہے۔ مسلم لیگ کی قیادت کو شریف خاندان میں رکھنے کی پوری شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔ یہی کچھ پیپلزپارٹی میں ہو رہا ہے۔ یہ رویہ جمہوریت کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔ جمہوریت میں اس بات کی نفی نہیں کی جا تی کہ ایک خاندان کی اگلی نسل سے کوئی سیاست میں نہیں آ سکتا۔ تاہم اس بات کو یقینی بنایا جا تا ہے کہ جوآ ئے، وہ کسی سیاسی عمل سے گزر کر آئے۔
کسی خاتون پر ظاہر ہے کہ یہ پابندی نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ اس وجہ سے سیاست میں حصہ نہ لیں کہ ان کے والد وزیراعظم ہیں۔ تاہم اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوں۔ مقامی، ضلعی اور صوبائی سطح پر خدمات سر انجام دیں اوراس کے بعد اگر ان کی اہلیت ثابت ہوتی ہے تو پارٹی کے اعلیٰ منصب تک بھی پہنچ جائیں۔ لیکن جب وہ اس سارے عمل سے گزرے بغیر، عملاً وزیراعظم کی جانشین بنا کر وزیر اعظم ہاؤس میں بٹھا دی جائیں گی تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔ یہی معاملہ بلاول کا بھی ہے۔
جمہوری کلچر کے فروغ میں بنیادی کردار سیاسی جماعتوں کا ہوتا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں جمہوری بنیادوں پر استوار نہ ہوں اور انہیں موروثیت کے اصول پر آگے بڑھایا جائے تو پھر ملک میں جمہوری کلچر پیدا نہیں ہو سکتا۔ جمہوریت کو صرف فوجی آمریت ہی سے خطرہ نہیں ہوتا، اسے بڑا خطرہ موروثیت سے ہے۔ مسلم سماج میں اگر جمہوری روایات پنپ نہیں سکیں تو اس کی وجہ سیاست کا وراثت کے اصول پر استوار ہونا ہے۔ فوجی آمریت تو بیسویں صدی کا عمل ہے۔ اس سے پہلے اگر جمہوری اقدار کو فروغ نہیں ملا تو اس کا سبب موروثیت کو سیاسی اصول کے طور پر قبول کرنا ہے۔
مسلم لیگ کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ساڑھے تین سال بعد ہوا۔ وہ بھی اُس وقت جب ایک سیاسی بحران نے ان کے حکومت کے دروازے پر دستک دی۔ جمہوریت کے ساتھ ایسی وابستگی رکھنے والوںکو، جمہوریت کا رونا رونا زیب نہیں دیتا۔ ملک میں جمہوری کلچر کو فروغ دینے کے لیے، سیاسی جماعتوںکو جمہوری روایات کی پاس داری کر ناہو گی، بصورتِ دیگر جمہوریت پر شب خون مارنے والوں کو روکنا مشکل ہو گا۔ جماعت اسلامی کے استثنا کے ساتھ، سیاسی جماعتیں فرد یا خاندان کی آمریت ہی کو فروغ دے رہی ہیں۔ جمہوریت کے ساتھ وابستگی کاتقاضا ہے کہ ہم ہر طرح کی آمریت کی نفی کریں۔
ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بر صغیر کا مزاج کچھ ایسا ہی ہے۔ بھارت میںکانگرس بھی اس کی ایک مثال ہے۔ یہ بات کچھ ایسی بے بنیاد نہیں۔ تاہم اگرکوئی غیر جمہوری روایت پہلے سے موجود ہے تو اسے بدلنے کی کوشش کر نی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو عوامی شعور کی تربیت کرنی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ اگر کسی خاندان کو سیاسی عصبیت حاصل ہو گئی ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے بچوں کو سیاسی عمل سے گزارے۔ اس کے بعد اگر عوام کا انتخاب وہی بنتے ہیں تو اسے موروثیت نہیں کہا جا ئے گا۔ تیسرا یہ کہ کانگرس کے سیاسی زوال کو بھی سامنے رکھناچاہیے۔ اگر وہ باصلاحیت لوگوں کو موقع دیتی تو آج اس کی یہ حالت نہ ہوتی۔
جمہوریت ایک سماجی قدر ہے۔ سیاست اس کا ایک پہلو ہے۔ اہلِ سیاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کاکام کریں۔ سیاسی جماعتوں میں جمہوری روایات کو فروغ دیں۔ پہلی ذمہ داری مسلم لیگ کی ہے۔ وزیراعظم کے بچوں کو اگر لیڈر بننا ہے تو یہ کام وزیراعظم ہاؤس میں نہیں، عوام میں بیٹھ کر ہوگا۔ ایک سیاسی عمل سے گزر کر ہوگا۔ اس اصول کی ترویج کے لیے سیاسی جماعتوں کی دوسری صف کے راہنماؤں کو بھی اپنے پیکرِ خاکی میںجان پیدا کرنا ہوگی۔ آج سیاسی جماعتوں کے راہنما جس طرح شریف خاندان یا بلاول بھٹو یا کسی دوسرے پارٹی قائد کا مقدمہ لڑتے ہیں تو ان پر سیاسی کارکن سے زیادہ ایک ذاتی ملازم کا گمان ہوتا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے جواب میں پیپلز پارٹی کے سفید بالوں والے راہنماؤں کے بیانات، اس کی بدترین مثال ہیں۔ میں ان کی گفتگو سن اور پڑھ کر شرمندہ ہوتا ہوں۔ کیا خود انہیں شرمندگی نہیں ہوتی ہوگی؟ سیاسی جماعتوں میں اپنی قیادت کا دفاع کرنا پڑتا ہے اور یہ بات معیوب نہیں لیکن یہ کام وقار کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کو فینز کلب (Fans\’ club) کے بجائے، ایک پارٹی بننا ہوگا۔پارٹی کسی منشور، نصب العین اور اصولوں سے وابستگی کا نام ہے۔ یہ موروثیت یا کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملازمت نہیں ہے۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •