کچھ مزید باتیں جون ایلیا کی

وہ شام جون ایلیا کے نام تھی اور آب حیات پینے کے بعد جون نے حیات نو پالی تھی۔ اس کے منحنی لاغر چہرے پر تمازت آ گئی تھی۔ موسم اگرچہ گرم تھا مگر اس شام ہلکی آندھی آئی تھی جو مشاعرہ شروع ہونے تک متوازن قسم کی ہوا میں بدل چکی تھی۔ مشاعرے کے لئے کالج کے وسیع لان میں فرشی نشست کا اہتمام تھا۔ چاروں طرف پنکھے لگائے گئے تھے۔ کالج کے اردگرد کی زمین ریتلے ٹیلوں پر مشتمل تھی اس لیے رات بتدریج ٹھنڈی ہوتی جا رہی تھی۔ خواتین و حضرات کی ایک بڑی تعداد مشاعرہ سننے پہنچ چکی تھی مگر نظم و نسق میں کوئی خلل نہیں آیا۔

پروگرام کے پہلے مختصر حصے میں قمر رضا شہزاد کے علاوہ دو اور شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔ پہلے حصے کے اختتام پر اسلم انصاری غزل سرا ہوئے تو سماں بندھ گیا۔ سامعین کے پرزور اثرار پر انصاری صاحب نے اپنی مشہور نظم ”گوتم بدھ کا آخری وعظ“ پڑھی تو سامعین کے ساتھ جون صاحب بھی مسرور ہوئے اور اسلم انصاری کو کھڑے ہو کر داد دی۔ اس کے بعد چائے کا وقفہ تھا۔ چائے کے وقفے کے بعد جون ایلیا کے ساتھ شام کا آغاز انیق احمد کے مضمون سے ہوا۔

انیق احمد نے جون کے فن شاعری پر گفتگو کی۔ ان کے خیال میں جون ایلیا اردو کا سب سے بڑا شاعر تھا۔ غالب اور میر، فارسی شعرا کو فالو کرتے اور ان کی زمینوں میں اپنے سخن کو پروان چڑھاتے رہے مگر جون ہمیشہ اپنی زمین کو کام میں لاتا ہے۔ انیق احمد کے بعد جون ایلیا مائیک پر تشریف لائے اور اپنی غزل سے آغاز کیا، جس کے بعد جون ایلیا رات گئے سامعین کو اپنے ساتھ ڈانس کرنے پر مجبور کرتے رہے۔ سامعین پر ان کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ جون ایلیا کی ہر حرکت کو فالو کرتے۔ ایسے لگا جیسے جون ایلیا ایک ایک سامع کے دل و دماغ میں سرایت کر گیا ہو اور وہ اس کا ہر حکم ماننے کے پابند ہوں۔ مجمع پوری طرح ہپناٹائز ہو چکا تھا۔ رات گئے چاند بھی نکل آیا تھا۔ یوں لگتا تھا کوئی شہزادہ پریوں کے دیس میں بیٹھا اپنی داستان سنا رہا ہے اور پورے ماحول پر سحر طاری کر رہا ہے۔

جون کے ایک ایک شعر میں کئی معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایک شعر کو جب وہ کئی انداز سے پڑھتا ہے تو ہر بار شعر کے معنی بدل جاتے ہیں۔ وہ شعر کی کیفیات اپنے جسم پر طاری کر لیتا ہے اور یوں خود بھی شعر کا لطف اٹھاتا ہے۔ وہ بہت بڑا اداکار ہے۔ عملی طور پر تھیٹر سے وابستہ رہا ہے۔ وہ ایک تھیٹر کمپنی کا مالک تھا۔ اس کی کمپنی کے ڈرامے تاریخ و ادب سے متعلق ہوتے تھے۔ وہ مسلمانوں کا ماضی اجاگر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ وہ تاریخی کرداروں سے باتیں کرتا رہا ہے، ایسے کردار جو تاریخ کا رخ موڑ دیتے تھے۔ ادبی طور پر البتًہ وہ ڈرامے کو دوسرے درجے کی صنف قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے خیال کو کردار میں نہیں ڈھالا جا سکتا، اس طرح خیال کی روح کو نقصان پہنچتا ہے۔

میں حیران تھا، ایک کمزور، ناتواں شخص، اتنا ہلکا پھلکا کہ تیز ہوا میں اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے، عرفان کی باتیں کیسے سوچتا ہے۔ ایسا شخص جو بیماری کی اس سٹیج پر ہو، جب انسان زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگے، جس کا سب سے بڑا مسئلہ بیماری سے نجات ہو، علم و ادب کا سرچشمہ کیسے بنا ہوا ہے۔ وہ برسوں شدید قسم کے ڈپریشن کا شکار رہا تھا اور بے خوابی کے اذیت ناک عمل سے گزرا تھا مگر اس کا بیدار اور اپ ٹو ڈیٹ دماغ اپنے اندر بے شمار زندہ اور متحرک علوم لیے پھرتا ہے۔

جون ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، علم و ادب جس کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ادب اس کی گھٹی میں ڈالا گیا تھا۔ جون کے بابا سید شفیق حسن ایلیا بہت بڑے عالم تھے۔ وہ اردو کے علاوہ بہت سی زبانوں کے عالم سمجھے جاتے تھے۔ جون نے جب ہوش کی آنکھیں کھولیں تو اپنے گھر میں شاعری، تاریخ، مذاہب عالم اور فلسفے کا دفتر کھلا دیکھا۔ اس کے گھر میں انہی علوم پر بحث مباحثہ کا بازار گرم رہتا۔ جون نے کئی زبانیں سیکھنے کے علاوہ عربی فلسفے اور منطق کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ اس نے شاعری کی ابتدا اپنی عمر کے آٹھویں سال سے شروع کی اور زندگی میں ہزاروں شعر کہے۔ جون کا لڑکپن برصغیر کی تقسیم اور تحریک آزادی کا دور تھا۔ اس نے آزادی کے عمل اور اس کے اثرات کا بغور مطالعہ کیا۔ اس زمانے میں کمیونزم کی تحریک زوروں پر تھی۔ ہر طرف سرخ انقلاب کی باتیں ہو رہی تھیں، مزدوروں کے حقوق پر بحث ہو رہی تھی۔ جون اشتراکیت کی طرف مائل ہو گیا۔

جون مادری زبان کو اہمیت نہیں دیتا۔ اس کی نظر میں بچے کو ماں کی طرف سے سو پچاس لفظ ہی ملتے ہیں اور اتنا قلیل ورثہ کسی کو عالم نہیں بنا سکتا۔ وہ کہتا ہے علم اور زبان سیکھنی پڑتی ہے۔ وہ خیال کو بھی اہمیت نہیں دیتا۔ اس کی نظر میں اچھا خیال اچھے الفاظ کا مرہون منت ہے۔ اگر کسی کے پاس اچھا خیال ہے اور الفاظ نہیں تو اچھا خیال اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے خیال میں شاعری الہام نہیں بلکہ احساس، تخیل، تعقل اور جذبے کی جامع ہوتی ہے۔ شاعری ایک واقعے کو چار آنکھوں سے دیکھنے، محسوس کرنے اور اظہار کا نام ہے۔ آئیں جون کو اس کی شاعری کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ جون اپنے ہم خیال اور اپنی کتابوں کے بارے کہتا ہے ؛

ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔
ان میں اک رمز ہے، جس رمز کا مارا ہوا ذہن۔
مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا۔
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا۔

اسے اپنے علم اور فلسفہ زندگی سے آگہی پر غرور بھی بہت ہے۔ کہتا ہے کس کو فرصت ہے کہ مجھ سے بحث کرے اور ثابت کرے کہ میرا وجود زندگی کے لیے ضروری ہے۔ وہ حسن سے متاثر تو ہے مگر حسن کے سامنے گھٹنے ٹیکنا اسے گوارا نہیں۔

نہ کرو بحث ہار جاؤ گی
حسن اتنی بڑی دلیل نہیں
وہ حسن کی حقیقت اور حسن کی دولت سے روایتی وابستگی سے بھی واقف ہے۔
کون سود و زیاں کی دنیا میں
درد غربت کا ساتھ دیتا ہے
جب مقابل ہوں عشق و دولت
حسن دولت کا ساتھ دیتا ہے

جب محبوب مل جاتا ہے پھر بھی وہ مکمل نہیں ہوتا۔ احساس تشنگی اس کے اندر موجود ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے بیان کرنا انتہائی مشکل ہے مگر جون نے اسے خوبصورتی سے ادا کیا ہے۔

سر میں تکمیل کا تھا اک سودا
ذات میں اپنی تھا ادھورا میں
کہوں تم سے کتنا نادم ہوں
تم سے مل کر ہوا نہ پورا میں

جون کے کلام میں جو سادگی و پرکاری پائی جاتی ہے، وہ میر کے علاوہ شاید ہی کسی اور کے حصے میں آئی ہو۔ وہ چھوٹی بحروں میں اتنے خوبصورت اور بامعنی شعر کہتا ہے کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔

مجھ کو گہرائی میں اترنا ہے
میں گہرائی سطح پر چاہوں

جون کے اندر کا انسان ایک اذیت ناک کرب سے دوچار ہے۔ جانے وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے جو کر نہیں پایا۔ وہ جس ماحول میں رہتا ہے، نہ تواس ماحول کو اپنے اوپر طاری کر سکا نہ بدل سکا۔ یہی احساس ناکامی اس کی اندر کی توڑ پھوڑ میں مصروف کار ہے، جس کے ردعمل نے اسے دق و دمہ سے دوچار کئیے رکھا۔ وہ کہتا ہے۔

یہ میرے کرب ذات کے آثار
شوق تعمیر کے خرابے ہیں
ان خرابوں میں جان کنی نے مری
خون تھوکا ہے، زخم چابے ہیں
وقت کے جسم کی خراش ہوں میں
اپنے اندر سے پاش پاش ہوں میں

جون ایلیا تقریباً چھتیس گھنٹے ہمارے مہمان رہے۔ مشاعرے کی رات کا باقی حصہ بالکل نہیں سوئے۔ صبح ہمارے دوست باؤ نسیم کے فارم پر ناشتے کا اہتمام تھا جہاں کچھ لوکل شعرا بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جون کے علاوہ سب نے ناشتہ کیا۔ جون بھائی بمشکل جوس کا ایک گلاس پی سکے۔ مقامی شعرا کا کلام سنتے اور انہیں مشورے دیتے رہے اور دوزخ کا پانی بالکل نہیں پیا۔ آب حیات کی چسکیاں لیتے رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words