سرکاری یونیورسٹیاں : بنیادیں لرز رہی ہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم اور ترقی کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ انسانی تاریخ میں وہی اقوام نمایاں ہوئیں جنہوں نے تعلیم اور علم وفن کی پرورش کا سامان کیا۔ آنے والے وقت میں تعلیم کا قومی ترقی میں کردار اور بھی اہم ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ زندہ اقوام اپنے شہریوں کو علم وفن سے روشناس کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دور حاضر میں طاقت کا تصور روایتی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی سرمایہ سے جڑا ہوا ہے۔

علم وفن کی مہارتیں اب ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے مابین نقطہ امتیاز بن گئی ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ممالک میں شامل ہے کہ اس کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ملکی ترقی میں زیادہ موثر کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ یہ نوجوان جدید تعلیم اور علم وفن کی معاصر مہارتوں سے لیس ہوں۔

بدقسمتی سے پاکستان کے قیام سے اب تک عمومی طور پر تعلیم حکومتوں کی ترجیح کبھی نہیں رہی۔ اس کا اندازہ تعلیم کے لیے مختص بجٹوں سے کیا جا سکتا ہے، جو سالہا سال سے 2 فیصدکے لگ بھگ ہے اور اب دوسرے ممالک کے برعکس ہمارا یہ بجٹ ہر سال بڑھتی ہوئی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اوپر جانے کے بجائے نیچے آ رہا ہے۔ یہ بظاہر ایک ناقابل یقین لیکن تلخ حقیقت ہے۔ حکومتوں کے بلند بانگ دعوے ایک طرف لیکن زمینی حقیقت وہی رہی۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے بجٹ میں تعلیم کے لئے جی ڈی پی کا 4 فیصد مختص کرنے کا اعلان کیا گیا۔ پھر 2009 ء کی تعلیمی پالیسی میں یہ سفارش کی گئی کہ حکومت 2015 ء تک تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا 7 فیصد حصہ دے گی لیکن یہ وعدے کبھی وفا نہ ہوئے۔

یہ تو تھا قومی سطح پر عام تعلیم کے حوالے سے تعلیمی بجٹ کا جائزہ۔ آئیے اب ہم پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال دیکھتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اعلیٰ تعلیم کی اپنی اہمیت ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ملکی ترقی کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت یونیورسٹی آف ڈھاکہ اور یونیورسٹی آف پنجاب پہلے سے موجودہ تھیں۔ اسی سال یونیورسٹی آف سندھ کا آغاز بھی ہو رہا تھا۔ پاکستان بننے کے 73 سال بعد یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور اب ان کی تعداد 214 ہو گئی ہے۔

روز بروز تعلیمی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے لئے نئی یونیورسٹیوں کا قیام ناگزیر ہے۔ پہلے سے قائم یونیورسٹیوں میں تعلیم کی بہتری کے لئے مزید مالی وسائل کی بھی ضرورت ہے، خاص طور پر سرکاری یونیورسٹیوں، جہاں Subsidised ریٹس پر فیسیں لی جاتی ہیں، کو مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔ 2002 ء میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی ہائر ایجوکیشن میں تبدیلی ایک صائب اقدام تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ 9 / 11 کے بعد امریکہ نے پاکستان میں تعلیم اور تعلیمی معیار کے فروغ کے لئے خطیر رقم دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر عطا الرحمن ایچ ای سی کے لئے یہ خطیر رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، اور پھر آنے والے ادوار میں بھی ایچ ای سی کے فنڈز میں ہر سال اضافہ ہوتا گیا۔ یوں عرصے بعد اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک مثبت ارتعاش پیدا ہوا۔

آئیے پچھلے کچھ سالوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے Recurring بجٹ میں اضافے پر نظر ڈالتے ہیں۔ 2014۔ 15 ء میں یہ بجٹ 46.05 بلین روپے، 2015۔ 16 ء میں 54.5 بلین روپے، 2016۔ 17 ء میں 58.20 بلین روپے، 2017۔ 18 ء میں 63.18 بلین روپے اور 2018۔ 19 ء میں 65.02 روپے تھا۔ یہ خوش آئند اور صحت مند رجحان تھا لیکن 2019۔ 20 ء کے بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے Recurring Budget اچانک کم ہو کر 64.10 بلین پر آ گیا جو یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے لئے ایک شدید دھچکا تھا۔

یک لخت اس کٹوتی سے یونیورسٹیوں کے پروجیکٹس بری طرح متاثر ہوئے۔ اس سال ملکی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ایچ ای سی نے حکومت سے 104.789 بلین روپے مانگے تھے، جس پر بحث و تمحیص کے بعد ایچ ای سی کو تحریری طور پر بتایاگیا کہ انہیں اگلے بجٹ میں 70 بلین روپے ملیں گے لیکن جب 2020۔ 21 ء کے بجٹ کا اعلان کیا گیا تو پتہ چلا کہ 70 بلین روپے کے بجائے صرف 64.1 بلین روپے ملیں گے۔ یہ رقم 2018۔

19 ء کے بجٹ میں مختص 65.0 بلین روپے سے بھی کم ہے جبکہ پچھلے دو سالوں میں یونیورسٹیوں، طلبائی، اساتذہ اور سٹاف کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے تین برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے فنڈز کا جائزہ لیں تو اس میں مسلسل انحطاط نظر آتا ہے۔ 2018۔ 19 میں ایچ ای سی کو دی جانے والی گرا نٹ جی ڈی پی کا 0.25 فیصد تھی۔ 2019۔ 20 میں یہ کم ہو کر 0.23 فیصد ہو گئی اور اس سال 2020۔ 21 کے بجٹ میں یہ مزید کم ہو کر 0.17 فیصد رہ گئی ہے۔

ایچ ای سی کے قیام کے بعد اٹھارہ سالوں میں یہ کم ترین شرح ہے۔ فنڈز میں یہ کمی اور بھی نمایاں نظر آتی ہے جب ہم دوسرے دو نکات کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلا نکتہ روپے کی قدر میں کمی کا ہے، ڈالر جو آج سے تین سال پہلے 102 روپے کا تھا آج یہ 167.95 روپے کا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ افراط زر کی شرح میں نمایاں اضافہ ہے۔ افراط زر کی شرح جو تین سال پہلے 3 سے 4 فیصد کے درمیان تھی، جنوری 2020 ء میں اس کی شرح 14.58 فیصد ہو گئی۔

یوں یونیورسٹیوں کے فنڈز میں کمی کو ان دو نکات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ جامعات کس قدر شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ اس دوران تعلیمی ضروریات میں اضافہ ہوا اور اساتذہ کی تنخواہیں بڑھی ہیں۔ چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اور روپے کی قدر میں کمی آئی ہے۔ یہ ساری صورتحال پالیسی سازوں کے لئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔ آئیے دیکھتے ہیں اعلیٰ تعلیم کے لئے فنڈز میں کمی کے اعلان سے اعلیٰ تعلیم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

1۔ ملک میں نئی یونیورسٹیوں کا قیام ناممکن ہو جائے گا۔
2۔ پہلے سے قائم یونیورسٹیوں میں سے کئی کورونا کے منفی اثرات کا شکار ہیں، وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ مزید مسائل میں گھر جائیں گی۔
3۔ یونیورسٹیاں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے طلباء کی فیسوں میں اضافے پر مجبور ہوں گی، جس کے نتیجے میں بہت سے طلبا بھاری فیسوں کی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔

4۔ کچھ یونیورسٹیاں آمدنی میں اضافے کے لئے ویک اینڈ یا شام کے پروگرام شروع کر سکتی ہیں، جو اعلیٰ تعلیم کے معیار پر سوالیہ نشان ہوں گے۔
5۔ بعض یونیورسٹیاں پراویڈنٹ فنڈ کی رقم سے تنخواہیں دینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں جو ایک غیر قانونی اقدام ہو گا۔
6۔ کچھ یونیورسٹیاں کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے لیے رابطہ کر رہی ہیں لیکن یہ بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔

اعلٰی تعلیم کے لئے فنڈز میں کمی پر ایک طر ف یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبا اور دوسری طرف ایچ ای سی کمیشن کے افراد نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کے ممبران نے اپنی 36 ویں میٹنگ میں متفقہ طور پر اعلیٰ تعلیم کے لئے بجٹ میں کمی پر غم وغصہ کا اظہار کیا۔ ایچ ای سی کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ فنڈز میں اس قدر کمی سے ملک میں اعلیٰ تعلیم کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ جامعات پہلے ہی مالی مشکلات اور پھر کورونا کے منفی اثرات کے طوفان کے مقابل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھیں، حالیہ بجٹ میں فنڈز میں مزید کمی سے ان کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جامعات جنہوں نے مستقبل کے معمار پیدا کرنے ہیں، اب ان کی اپنی عمارتیں لرز رہی ہیں اور کسی وقت بھی یہ عمارتیں پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے نظام کے ساتھ زمین بوس ہو سکتی ہیں۔
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 215 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *