کورونا کے بعد عوام کیا کرنے والے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ کے اسباق میں سب سے اہم ترین سبق یہ ہے کہ لوگ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ ایلڈوس ہیکسلے کا یہ قول ایک بڑا سچ ہے، اور عام لوگوں سے زیادہ حکمران اشرافیہ پرصادق آتا ہے۔

تاریخ سے جب ہم سبق کی بات کرتے ہیں تو مراد تاریخ کے بڑے بڑے واقعات ہوتے ہیں۔ وہ واقعات جو عموماً ملکوں اور قوموں کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سنگ میل اس لیے کہ اس خاص واقعے کے رونما ہونے کے بعد کی دنیا اس سے پہلے کی دنیا سے مختلف ہوتی ہے۔ تاریخ میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہوئے۔ کئی عالمی سطح کے واقعات تھے، جن سے کسی ایک قوم یا ملک کے بجائے کئی قوموں اور ملکوں کو واسطہ پڑا۔ اس کی ایک بڑی مثال پہلی جنگ عظیم ہے۔

چالیس ملین لوگ اس جنگ کا کسی نہ کسی طرح براہ راست شکار ہوئے۔ بیس ملین بدقسمت جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بیس ملین کے قریب زخمی ہوئے۔ مارے جانے والوں میں صرف فوجی نہیں دس ملین کے قریب سویلین بھی تھے۔ انسان کا عالمی سطح پراس نوعیت کایہ پہلا تجربہ تھا، اوریہ بہت ہی خوفنا ک تھا۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا انسان نے اس اتنے بڑے اور خوفناک تجربے سے کوئی سبق سیکھا؟ بے شک اس جنگ کے بعددنیا میں عالمی امن کی منظم تحریکیں شروع ہوئیں۔

کئی ملکوں اور قوموں نے جنگ وجدل ترک کر کے امن کاراستہ اختیارکیا۔ دنیا میں امن کے لئے اور جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پرادب تخلیق ہوا مگراس سب کے باوجود دنیا ایک بار پھر دوسری جنگ عظیم کے تلخ تجربے سے گزری، جوپہلی جنگ عظیم سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔ عالمی سطح پرمشترکہ تجربات کے علاوہ مختلف اقوام کے اپنے اپنے انفرادی تجربات ہیں۔ کچھ اقوام نے ان تجربات سے سبق سیکھا اورکامیاب رہیں۔ کچھ نے نظراندازکیا اورتباہی ان کا مقدر ٹھہری۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، شاید رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔

آج ہمارا واسطہ کورونا سے ہے۔ کورونا سے ہمیں ایک نیا تجربہ ہورہا ہے۔ اس وائرس کوطبی اعتبار سے ہم سپینش وائرس، سارس، ایچ آئی وی یا ایبولہ وغیرہ جیسے تجربات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ اسی تجربے کی روشنی میں کسی دوایا ویکسین کی امید باندھے بیٹھے ہیں۔ اگرہم تاریخ سے سبق سیکھ سکتے توشاید سپینش وائرس کے بعد ہم پھر کبھی کسی وائرس کے ہاتھوں اتنی خوفناک تباہی کا شکارنہ ہوتے۔ یہ وائرس بھی دوسری جنگ عظیم کے دوران پھیلا۔

جنگ اور فوجیوں کی نقل و حرکت کی وجہ سے یہ وائرس دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا۔ دنیا میں تقریباً پانچ سوملین لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے، جواس وقت کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ تھا۔ اگردنیا اس کو سنجیدہ لیتی، اس تجربے سے کوئی سبق سیکھتی تو وائرسز کے سدباب اورعلاج کے لیے مناسب وسائل مختص کیے جاتے۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں کو انسانی تباہی کے ہتھیار بنانے کا کام سونپنے کے بجائے انسانی زندگی بچانے پرلگایا جاتا، لیکن ایسا نہ ہوا؛ چنانچہ یکے بعد دیگرے کئی وائرسز کے ہاتھوں تباہی کے بعدآج دنیا کو کورونا کا سامنا ہے۔

کورونا کے ہمارے سماج پرجو معاشی، سیاسی وسماجی اثرات مرتب ہوں گے ابھی اس کی کوئی واضح تصویربنانا مشکل ہے مگر مغرب میں معاشی ماہرین اور دانشور اس کا ”گریٹ ڈپریشن“ کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ کورونا کے اختتام پرمعاشی تباہی وبربادی کا وہی نقشہ ہوگا، جوڈپریشن کے دورمیں سامنے آیا تھا۔ یہ تجزیہ دنیا میں بعض ایسے حکمرانوں کے لیے بری خبر ہے، جو کورونا کے دوران وہی اقدامات کر رہے ہیں، جو صدر ہربرٹ ہوور نے اس ڈپریشن کے دوران کیے تھے۔ ان اقدامات سے ڈپریشن پر قابو نہیں پایا جا سکا، اور صدرہوور کا سیاسی مستقبل مکمل طورتباہ ہو گیا تھا۔ یہ ایک دلچسپ مگرالمناک قصہ ہے۔

گریٹ ڈپریشن امریکی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔ کسی بھی معاشی یا سیاسی بحران میں اس ڈپریشن کی مثال دی جاتی ہے۔ اس ڈپریشن کا آغاز انیس سو انتیس کے موسم خزاں میں ہوا۔ اس ڈپریشن کی وجہ امریکی سٹاک ایکس چینج کا کریش ہونا تھا۔ سٹاک کاعوام سے کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ ان کے پاس پیسہ تھا ہی نہیں۔ اس وقت امریکہ میں صرف دوفیصد لوگوں کے پاس سٹاک تھے ؛ چنانچہ جب سٹاک کریش ہوا توصرف دوفیصد لوگوں کا پیسہ ڈوبا؛ البتہ اس کریش میں عوام کے خواب ڈوب گئے۔

بہت سارے لوگوں کا خواب یہ تھا کہ ان دوفیصد کی طرح ایک دن وہ بھی وال سٹریٹ میں قسمت آزمائی کریں گے۔ بدقسمتی سے لیکن بات صرف سٹاک تک نہیں رکی۔ اس کے بعد بینکوں کی باری تھی۔ ایک ہی سال میں پانچ سوبینک دیوالیہ ہو گئے۔ بینک بند ہونے کی وجہ سے عوام کا بچت کا پیسہ ڈوب گیا۔ پیسہ ڈوبنے اور خواب ٹوٹنے سے لوگوں کے سیاسی خیالات میں بھی بہت بڑی تبدیلی آئی۔ جن امریکیوں نے صدر ہربرٹ ہوورکو ایک ریکارڈ اکثریت سے منتخب کیا تھا، اگلے انتخابات میں اتنی ہی ریکارڈ اکثریت سے اسے اقتدار سے نکال باہر کیا۔

ہوور نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بارباریہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ غربت کے خلاف فتح حاصل کرنے کے قریب ہے، لیکن ان کے صدر بننے کے صرف ایک سال بعد ڈپریشن کی وجہ سے لاکھوں امریکی روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہونے پرمجبور تھے۔ اہم بات یہ تھی کہ صدربننے سے پہلے ہوور امریکہ کا مقبول ترین شخص تھا۔ اس مقبولیت کی وجہ اس کا انسانی ہمدردی کے نام پرکام تھا۔ وہ انیس سو کی بوکسر بغاوت کے وقت چین میں تھا۔

اس وقت ہزاروں امریکی اوردوسرے غیرملکی چین میں پھنس گئے۔ ہوور نے ان کے باحفاظت انخلا کابندوبست کیا۔ پہلی جنگ عظیم میں یورپ میں پھنس جانے والے لاکھوں امریکیوں کو نکالنے کا کام کیا، اس کے بعد جرمن فوج کے محاصرے میں پھنسے ہوئے بیلجیم کے نو ملین باشندوں کو خوراک مہیا کرنے والے ریلیف کمیشن کی سربراہی کی۔ وہ امریکی تاریخ کا شاید واحد آدمی تھا، جسے امریکہ کی دونوں بڑی پارٹیاں ڈیموکریٹ اورکنزرویٹو اپنا صدارتی امیدواربنانے کے لیے اس کے آگے پیچھے گھوم رہی تھیں۔

لیکن ڈپریشن میں ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اسی روزویلٹ نے ہوورکوبہت بڑی اکثریت سے شکست دی۔ گریٹ ڈپریشن سے لڑنے کے لیے جو اس نے پالیسی بنائی اس کے دواہم نکات تھے : ٹیکسوں میں کٹوتی، اور پبلک پروجیکٹس کی تعمیر۔ بدقسمتی سے اس کی پالیسی ناکام رہی۔ اگلے انتخابات میں ہوور نے پوری صورتحال کی ذمہ داری ڈپریشن پرڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی، لیکن عوام اس کی یہ دلیل ماننے کے لیے تیار نہیں تھے ؛ چنانچہ اسے ایک تاریخی فتح کے بعد تاریخی شکست سے دوچارہوکر وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونا پڑا۔

کورونا کے بعد جب نظام زندگی بحال ہوگا، حالات معمول کی طرف لوٹنے لگیں گے تو ہمارے آج کے کئی رہنماؤں کو ہربرٹ ہوور کی طرح مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور شاید وہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی غربت اور تباہی کو کورونا کے کھاتے میں ڈال کر خود کو بری الذمہ قرارنہ دے سکیں۔ یہ درست ہے کہ وباؤں، بلاؤں اورآفات کے آگے انسان آج بھی کسی حد تک بے بس ہے، لیکن مکمل طورپربے بس نہیں۔ اگر کورونا کے ہاتھوں تباہی وبربادی کی سکیل ہرملک میں مختلف ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہرملک کے لیڈروں نے کورونا کے خلاف الگ الگ اقدامات کیے۔

جہاں بروقت اورموثر اقدامات ہوئے وہاں کم تباہی پھیلی، جہاں بے دلی اور تاخیرسے کام لیا گیا، وہاں صورت اس کے برعکس ہے۔ یہ کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں ہے، جوعوام کی سمجھ میں نہ آسکے ؛ چنانچہ آنے والے چند برسوں میں ہم آج کی سیاست میں موجود ومتحرک کئی چہروں کوغائب ہوتے دیکھیں گے اور کئی نئے چہرے سیاسی افق پرابھریں گے۔
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *