بحریہ ٹاؤن: ’سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں اب تک 57 ارب سے زیادہ جمع کروائے ہیں‘

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بحریہ

Getty Images

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاون سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور زمین کا دوبارہ سروے کروانے کے معاملات پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ نجی رہائشی سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کی طرف سے کراچی میں متعین کردہ حد سے زیادہ آراضی پر مبینہ طور پر قبضہ کرنے کے بارے میں سروے آف پاکستان سے نئی رپورٹ پیش کرنے کا کہیں گے۔

پیر کو سپریم کورٹ میں کراچی میں بحریہ ٹاون کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے زیادہ آراضی پر مبینہ طور پر قبضے سے متعلق شکایات کا نوٹس لیا۔

یہ بھی پڑھیے

سستی ہاؤسنگ کے نام پر زمین کروڑوں کی کیسے بنی؟

بحریہ ٹاؤن سے ملنے والی رقم کہاں جائے گی؟

بحریہ ٹاؤن کے خلاف تحقیقات کا باقاعدہ آغاز

ملک میں رہائشی منصوبوں کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے تین ججوں پر مشتمل بنچ کی سربراہی جسٹس فیصل عرب کر رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے بحریہ ٹاون کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے عدالتی حکم کی روشنی میں سپریم کورٹ میں کتنی رقم جمع کروائی ہے جس پر بحریہ ٹاون کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے اقساط کے علاوہ ایڈوانس رقم جمع کرائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں اب تک 57 ارب سے زائد رقم جمع کرائی جا چکی ہے۔

بحریہ ٹاون کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے کوڈ 19 کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے درخواست دی ہے کہ ریلیف دیا جائے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ یہ بات قبل از وقت ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے بحریہ ٹاون کے وکیل سے استفسار کیا کہ انہوں نے رقم اقساط سے زیادہ کیوں جمع کرائی ہے جس کے بارے میں بحریہ ٹاون کے وکیل علی ظفر کوئی وضاحت نہ دے سکے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر خبریں آ رہی ہیں کہ بحریہ ٹاون کی انتظامیہ نے مقررہ زمین سے زیادہ زمین اپنے پاس رکھی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاون کو 16 ہزار 8 سو 96 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی تھی اور یہ آراضی مکمل طور پر بحریہ ٹاون کے حوالے نہیں کی گئی۔

بحریہ

AFP

اُنھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر حقائق پر مبنی بات نہیں کی جاتی اور وہ اس بارے میں الگ سے جواب داخل کروائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو ہدایات دی جائیں کہ وہ بقیہ زمین بحریہ ٹاون کے حوالے کرے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ اس معاملے پر سروے کرایا جائے۔ عدالت نے کا کہ سپارکو سمیت دیگر اداروں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اس بارے میں رپورٹ جمع کرائیں جس سے واضح ہو جائے گا کہ بحریہ ٹاون کے پاس کتنی زمین ہے۔

جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ عدالت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ بحریہ ٹاون کے پاس مقرر کردہ زمین سے زیادہ زمین ہے یا نہیں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے استدعا کی کہ اگر سپریم کورٹ سروے کرانے کا حکم دیتی ہے تو اس میں وفاقی اداروں کو شامل کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ بحریہ ٹائون کی طرف سے جمع کرائی گئی رقم آرٹیکل 78 کے تحت وفاق کو دی جائے اور عدالت میں اس حوالے سے درخواست پہلے ہی جمع ہے۔

سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کمیٹی کی تشکیل اور اس میں وفاق کی شمولیت پر شدید اعتراض ہے۔

سندھ کے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ جب بھی صوبہ اپنی زمین فروخت کرتا ہے تو اس سے ہونے والی آمدن پر صوبے کا ہی حق ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں سیکریٹری پلاننگ کی موجودگی سمجھ سے باہر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں وفاق کی جانب سے نامزد کردہ شہری پر بھی تحفظات ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے تجویز دی کہ اگر شہری کو وفاق کا نمائندہ بنا کر کمیٹی میں شمولیت کا حکم بنچ دے تو فریقین کو کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا جس پر اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے جسٹس فیصل عرب کی بات پر رضامندی کا اظہار کیا۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ صوبے میں کونسا ترقیاتی منصوبہ بنانا ہے یہ اختیار صوبے کے پاس ہونا چاہیے نہ کہ وفاق کے پاس۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت فیصلہ کرتے وقت سندھ کے نکتے کو سامنے رکھے گی۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آئے روز شرح سود گرتا جارہا ہے اس لیے عدالت کی یہ خواہش ہے کہ اس پیسے کا درست انداز میں استعمال ہو۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے حاصل شدہ رقم جاری منصوبوں پر استعمال نہیں ہو سکتی اور یہ اصول وفاق اور صوبے پر بیک وقت لاگو ہوگا۔

سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وفاق نے این ایف سی ایواڈ کی مد میں ابھی تک 334 ارب ادا نہیں کیے جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ وفاق اور صوبہ آپسی اختلافات اس مقدمے سے دور رکھیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حال ہی میں آڈیٹر جنرل نے وفاق میں مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کے گھپلوں کا ذکر کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے کی باہمی لڑائی میں عدالت نہیں پڑے گی۔

عدالت نے بحریہ ٹاون سے حاصل ہونے والی رقم کے استعمال اور زمین کا دوبارہ سروے کروانے کے معاملات پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14198 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp