جب نرس شارلٹ کول نے 11 ہفتوں کے بعد اپنے بیٹے کو گلے لگایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خودساختہ تنہائی میں رہنے والی نرس شارلٹ کول نے جب اپنے دو برس کے بیٹے کو 11 دلخراش ہفتوں کے بعد اپنے گلے لگایا تو سب کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

لنکاشائر کے علاقے کِرم ہیم کی رہائشی 30 برس کی شارلٹ کول کی جب اپنے بیٹے جارج سے اتنے عرصے کے بعد ملاقات ہوئی تو ان کا دل بھر آیا۔

جب بیٹے نے اپنی ماں کو دیکھا تو بہ تیزی سے بھاگتا ہوا ان کی طرف گیا۔ ماں نے تسلیم کیا کہ وہ اور کے شوہر دونوں کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو بھر آئے۔

شارلٹ ایک کیئر ہوم میں کام کرتی ہیں اور جب وہاں کووِڈ-19 کے کیس کی تصدیق ہوئی تھی تو اُسی وقت سے جارج کو اپنے نانا نانی کی طرف بھیج دیا گیا تھا۔

یہ جوڑا اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے جایا کرتا تھا لیکن وہ اپنے بیٹے کو صرف شیشے کے دوسری جانب سے دیکھ سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

مریض نمبر 91: ’اگر میں دنیا کے کسی اور ملک میں ہوتا تو شاید اب تک مر چکا ہوتا‘

سری لنکا: کورونا سے ہلاک مسلمانوں کی میتیں جلائی کیوں جا رہی ہیں؟

وبا کے دنوں میں تو پیدل مارچ ہی ہوگا!

جب یکم اپریل کو ان سات میں سے ایک کیئر ہوم میں کووِڈ-19 کے کیس کی تصدیق ہوئئ تو شارلٹ کو اپنے بیٹے کو خود سے جدا کرنے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ فیصلہ کرنا پڑا۔

وہ اپنی 55 برس کی والدہ بریجِٹ اور 65 برس کے والد رابرٹ کو بھی محفوظ رکھنا چاہتی تھیں۔

تاہم گزشتہ جمعے کو ماں اور بیٹے نے پھر سے اکھٹا رہنا شروع کر دیا۔

شارلٹ کول نے کہا کہ ‘ہم اُس لینے گئے اور وہ خود سے ہماری جانب دوڑتا چلا آیا۔’

‘میں نے اُسے اتنا تیز دوڑتے ہوئے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں اب اُسے اپنے سے جدا نہیں ہونے دوں گی۔’

‘اُسے گود میں اٹھا کر اور اس کی آواز سن کی بہت خوشی ہوئی۔’

‘اس دوران میں اُسے بہت زیادہ یاد کرتی رہی، خاص کر اُس کے گھنگریالے سنہری بال۔’

’ میں نے جرات کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا لیکن میں جذباتی طور پر نڈھال ہو چکی تھی‘۔

‘میں اندر سے ٹوٹ چکی تھی لیکن میں بے حال نہیں ہونا چاہتی تھی اور رونا دھونا نہیں چاہتی تھی۔ ایک ہی وقت میں اتنا کچھ برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔’

‘میں اسے بہت زیادہ یاد کرتی تھی ۔۔۔ یہ سب سے زیادہ شوخ بچہ ہے، ہر وقت ہنسنے والا اور ہر وقت کچھ کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔’

شارلٹ اب کہتی ہیں کہ اس دوران وہ بچے کے لیے چائے بنانا اور پھر اسے بستر میں سلانے کو بہت یاد کرتی تھیں۔

شارلٹ کول کہتی ہیں کہ ‘میں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ جدائی اتنی طویل ہو جائے گی، ہمارا خیال تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ ایک دو ہفتے ہوگی۔’

‘یہ ہماری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا جو ہمیں لینا پڑا، لیکن یہ آسان ترین بھی تھا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ جارج کے لیے بہتر ہے اور اسے کسی بھی تکلیف سے محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14198 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp