’امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر روسی انعام‘: امریکہ، روس اور افغانستان کے درمیان کیا ہو رہا ہے؟

جوناتھن مارکس - بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈونلڈ ٹرمپ بگرام ہوآئی اڈہ افغانستان

Reuters
ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال نومبر میں افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں سے ملے تھے

ہم ایسی اطلاعات کا کیا مطلب لیں جو پچھلے کچھ دنوں سے منظر عام پر آ رہی ہیں کہ روسی اہلکار افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے پر طالبان جنگجوؤں کو انعام دے رہے ہیں۔ یہ رپورٹس کتنی درست ہو سکتی ہیں، اور کیا ان دعوؤں کو ثابت بھی کیا جا سکتا ہے، اور ایسی اطلاعات کی اہمیت کیا ہے۔

تینوں فریق روس، امریکہ اور طالبان ان اطلاعات کی تردید کر چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تردید کی ہے کہ انھیں اس بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ یہ معاملہ کبھی صدرِ امریکہ یا نائب صدر تک نہیں پہنچا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان اطلاعات کی درستگی کے حوالے سے انٹیلیجنس کمیونٹی میں بھی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔

البتہ امریکہ کے مختلف ذرائع ابلاغ میں ذرائع کے حوالے سے خفیہ ادراروں کے تجزیوں پر مبنی ایسی رپورٹس شائع ہو رہی ہیں کہ رواں سال مارچ سے روس کے خفیہ ایجنٹس طالبان جنگجوؤں کو امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کے عوض انعام کی پیشکش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی فوجیوں نے کئی چھاپوں میں کافی بڑی رقوم بھی برآمد کر لی ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق روسی ایجنٹوں کی طرف سے انعامی رقوم کے اعلان کی وجہ سے شاید امریکہ کے کچھ اہلکار مارے بھی جا چکے ہیں۔

یہ بھی پرھیے

ٹی ٹی پی کمانڈروں کے قتل، قبائلی علاقوں میں بڑھتے تشدد میں کیا تعلق ہے؟

امریکہ افغانستان سے کیوں نکل رہا ہے؟

افغانستان: جنگی جرائم کی تحقیقات مسترد

افغانستان میں امن کب آئے گا؟

ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی ان رپورٹس میں عندیہ دیا جا رہا ہے کہ انٹیلیجنس اداروں کے اس تجزیے کے بارے میں انتہائی اعلیٰ سطح تک بریفنگ دی جا چکی ہے اور اسے صدرِ امریکہ کو روزانہ کی بنیاد پر دی جانے والی بریفنگ کا بھی حصہ بنایا جا چکا ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن سمیت صدر ٹرمپ کے مخالفین ان رپورٹس کی بنیاد پر یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے؟

روس ایسا کیوں کرے گا؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

افغانستان میں امریکی ہیلی کاپٹر

AFP

روس نے طالبان کے ساتھ قریبی روابط قائم کر رکھے ہیں۔ روس سمجھتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنا بسترہ بوریا گول کر رہا ہے۔

روس افغانستان میں ایک شدت پسند اسلامی حکومت کے قیام کے امکان سے پریشان ہے اور وہ شاید سمجھتا ہے کہ طالبان ایسی حکومت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ روس نے طالبان کے کئی سرکردہ رہنماؤں کی مالی اور فوجی لحاظ سے مدد کی ہے۔ چونکہ روس کے افغانستان کی حکومت سے بھی تعلقات ہیں لہذا وہ افغانستان میں امن معاہدے کا بھی حامی ہے۔ روس افغانستان میں بدامنی کے حوالے سے اپنے آپشنز کو کھلا رکھے ہوئے ہے۔

لیکن اس کے ساتھ روس نے مغرب کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ جنگ بھی شروع کر رکھی ہے۔ اس جنگ کے کئی محاذ ہیں جن میں سائبر حملے، غلط بیانی کی مہم، انتخابی مداخلت اور مغربی ممالک میں شدت پسندوں کی مالی معاونت بھی شامل ہے۔

کئی بار تو روس نے مغرب کے خلاف براہ راست اقدام کیے ہیں، جیسا کہ اس نے زہریلی گیس کے ذریعے ایک سابق روسی ایجنٹ کو برطانوی شہر سالسبری میں قتل کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح شام میں روس کے فوجی ٹھیکیداروں نے امریکی ٹھکانوں پر براہ راست حملے کیے جس کے جواب میں امریکہ نے کارروائی کی جن میں متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

روس صدر پوتن کی قیادت میں ان تمام ذلتوں کے بدلے لینے کی کوشش کر رہا ہے جو اسے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے وقت سہنی پڑی تھیں۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اسی کی دہائی میں افغان مجاہدین نے امریکی مدد سے سوویت یونین کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کیا تھا۔

ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ روسی قیادت امریکہ سے اپنے ماضی قریب اور حال کی مختلف ذلتوں کا بدلہ چکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ابہام

ایسی رپورٹس روس اور امریکہ کے حالیہ تعلقات پر بھی روشنی ڈال رہی ہیں۔ روس کے بارے میں امریکی پالیسی انتشار کا شکار ہے۔

ایک طرف تو امریکہ کو روس کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو جدید بنانے اور مشرق وسطیٰ اور دوسری جگہوں پر روسی طرز عمل پر خدشات ہیں تو دوسری جانب وہ روس کی امریکی انتخابات میں مداخلت کی تردید کو قبول کرتا ہے۔

اس ابہام کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ہیں جو مضبوط آمروں کو پسند کرتے ہیں۔

امریکی خفیہ اداروں کے تجزیے کو جس انداز میں لیا جا رہا ہے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے طریقہ کار کو نمایاں کرتا ہے۔

اس سے ڈیموکریٹ پارٹی اور جان بولٹن جیسے سخت گیر موقف رکھنے والے ریپبلکن پارٹی کے ارکان کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ امریکہ میں قیادت کا فقدان ہے اور وہ اپنی سمت کو کھو چکا ہے۔

یہ ایک ایسی پیچیدہ کہانی ہے جو بہت آسانی سے منظر عام سے ہٹے گی نہیں۔ اگر اس میں تھوڑا بھی سچا ہے اور روسی ایجنٹوں سے انعام کی وصولی کے لیے اگر کچھ امریکی ہلاک ہوئے ہیں، تو یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس اور امریکہ کے تعلقات خراب ترین پر سطح پر ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس کہانی کے منظر عام پر آنے کے وقت کی بھی بہت اہمیت ہے۔ ایک ایسے وقت جب امریکہ میں صدراتی مہم کا آغاز ہو چکا ہے اور صدر ٹرمپ کووڈ 19 کے بحران اور سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر پھوٹنے والے احتجاج کی وجہ سے اپنی شہرت کے گراف کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس وقت ایسی کہانی کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کے لیے ایک بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کا اب امکان پیدا ہو چکا ہے۔ کورونا کی وبا کے طبی، سماجی اور معاشی اثرات کے علاوہ بھی دنیا میں بہت کچھ چل رہا ہے۔

روس اور چین خود کو خطے کی طاقتیں منوانے کے لیے زور لگا رہے ہیں لیکن چین کی خواہشات تو شاید اس سے بھی بڑی ہوں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو غرب اردن کو ضم کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

برطانیہ کی حکومت یورپی یونین سے نکلنے کے بعد اپنی خارجہ پالیسی کو ‘گلوبل برطانیہ’ کے نئے برینڈ کو متعارف کرانے کا سوچ رہی ہے۔

امریکی انتظامیہ کو، موجودہ یا نئی، اگلے چند ماہ میں ان تمام عناصر کو اپنا ردعمل دینا ہوگا۔

اگر افغانستان میں امریکی اہلکاروں کی ہلاکت پر روسی انعام والی کہانی حقیقت پر مبنی ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کی نسبت بائیڈن انتظامیہ کے طرف سے روس کو للکارنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14198 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp