چوائس تو ہر وقت رہتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ جون 2004 ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت کے وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی لاہور آئے تو سول سروس اکیڈمی میں انہیں صبح دس بجے ایک تقریب سے خطاب کرنا تھا۔ میں اس تقریب کی کوریج کے لئے اپنے دفتر سے نکل ہی رہا تھا کہ موبائل پر میری ایڈیٹر کا کراچی سے فون آ گیا۔ وہ کہہ رہی تھیں ”مجھے پتا چلا ہے وزیراعظم آج یا کل استعفیٰ دینے والے ہیں، تم کسی طریقے سے یہ سوال بھی پوچھ لینا“ ۔ اس کے ساتھ ہی فون بند۔ میں اگرچہ اخبارات میں پڑھ رہا تھا کہ وزیراعظم اور جنرل مشرف کے معاملات خراب ہو رہے ہیں لیکن استعفیٰ کچھ دورکی بات لگ رہی تھی۔

بہرحال میں اکیڈمی کے متعلقہ ہال میں جاکر بیٹھ گیا، تھوڑی دیر بعد وزیراعظم تشریف لے آئے۔ ان کے ساتھ ان کے وزیرتجارت ہمایوں اختر خان اور اس زمانے کے ایکسپورٹ پروموشن بیوروکے سربراہ طارق اکرام بھی تھے۔ وزیراعظم نے تقریر ختم کی تو میں کسی طریقے سے راستہ بنا کر ان تک پہنچ گیا۔ یہ محض اتفاق تھا کہ اس وقت ان کے گرد کوئی نہیں تھا۔ میں نے پوچھا ”آپ کے استعفے کی بات اڑرہی ہے، اس میں کتنی صداقت ہے؟“ ظفراللہ جمالی نے میری طرف کچھ غصے سے دیکھا اور کہا ”یہ سب جھوٹ ہے، ایسی کوئی بات نہیں اور کوئی بات ہوتی تو میرے مقابلے پر کوئی امیدوار بھی تو ہوتا“ ۔

میں نے یہ سنا اور طارق اکرام کے پاس کھڑا ہو گیا، تھوڑی دیر میں ہمایوں اختر خان بھی آ گئے۔ میں نے انہیں وزیراعظم سے اپنی گفتگو کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ”وہ کہتے ہیں کہ ان کے سوا کوئی چوائس نہیں“ ۔ میری بات سن کر ہمایوں اختر ذرا مسکرائے اور کہا ”چوائس تو ہر وقت رہتی ہے“ ۔ مجھے یہ بات کچھ بے محل معلوم ہوئی۔ وزیراعظم کا اعتماد دیکھ کر مجھے ایک لمحے کے لئے سارے اخبارات جھوٹ کا پلندا لگنے لگے، لیکن پھر پاکستان کی تاریخ یاد آئی تو دماغ ٹھکانے آیا اور ہمایوں اختر کی بات بھی سمجھ آ گئی۔

کچھ ہی دنوں میں حالات یوں پلٹے کہ میر ظفراللہ خان جمالی بذات خود اپنا استعفیٰ لے کر اسلام آباد میں چودھری شجاعت حسین کے پاس پریس کانفرنس کے لئے پہنچ گئے۔ غالباً وہیں انہیں پتا چلا کہ ان کے بعد چودھری شجاعت حسین عارضی طور پر وزارت عظمیٰ سنبھالیں گے اور ان کے بعد وزیرخزانہ شوکت عزیز، جو اس وقت سینیٹر تھے، قومی اسمبلی کا انتخاب جیت کر وزیراعظم بن جائیں گے۔ چند دن پہلے تک جہاں کوئی، چوائس، نہیں تھی، وہاں بیک وقت دو وزرائے اعظم پیدا ہو گئے اور جمالی ایک بھولی ہوئی داستان بن گئے۔

چند دن پہلے وزیراعظم عمران خان کو بھی آخری، چوائس، ہونے کا گمان گزراتو انہوں نے برملا اپنی پارٹی اور اتحادیوں کے سامنے بیان کر دیا۔ اگر کسی میں ہمت ہوتی تو انہیں بتاتا کہ سیاست میں آخری چوائس کبھی نہیں آتی۔ اگر وہ تاریخ سے آگاہ ہوتے تو انہیں محمد علی بوگرہ کا بھی علم ہوتا جو امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ ایک دن گورنر جنرل غلام محمد نے مشاورت کے لیے بلایا اور وزارت عظمیٰ دے دی۔ لطیفہ یہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین جیسے محترم سیاسی رہنما اور قائد اعظم کے ساتھی بھی کچھ نہ کرسکے۔

اور ہاں یہ محمد علی بوگرہ کی وزارت ہی تھی جس میں جنرل ایوب خان اور اسکندر مرزا شامل ہوئے اور یہ، باصلاحیت کابینہ، قرار پائی۔ کوئی وزیر اعظم کو، شہاب نامہ، پڑھ کر سنادیتا جس میں قدرت اللہ شہاب مرحوم نے لکھا ہے کہ وہ گورنر جنرل اسکندر مرزا کے پرنسپل سیکرٹری تھے کہ انہیں حسین شہید سہروردی نے فون کیا۔ انہیں اسکندر مرزا نے وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے لیے کہا تھا اور وہ اپنی حلف برداری کی تقریب کی تفصیلات جاننا چاہتے تھے۔

قدرت اللہ شہاب نے اس فون کا ذکر گورنر جنرل سے کیا تو وہ ہنس کر بولے، ”اسے بتا دو کہ حلف برداری اپنے وقت پر ہوگی اور چودھری محمد علی وزارت عظمیٰ کا حلف لیں گے“ ۔ جب قدرت اللہ شہاب نے سہروردی کو یہ پیغام پہنچایا تو انہوں نے صرف یہ کہا ”پھر وہی محلاتی سازشیں“ اور فون رکھ دیا۔ اس واقعے کے صرف تیرہ مہینے بعد چودھری محمد علی چلے گئے اور حسین شہید سہروردی وزیراعظم بن گئے۔ کچھ عرصے بعد، چوائس، پھر بدل گئی اور نئے وزیراعظم نے سہروردی کی جگہ لے لی۔

جمہوری نظام اصلی ہو یا نقلی، جعلی ہو یا سچا، اس میں حکومت کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے جب اپوزیشن کی بھی کوئی حیثیت ہو۔ جس نظام میں اپوزیشن اپنی حیثیت کھو بیٹھے وہاں حکومت بہت جلد اعتماد کی حدیں پھلانگ کر غرور کی سرزمین پر جا پہنچتی ہے۔ فطرت کے خلاف کیے گئے اس طرح کے انتظام میں اگر خارجی اپوزیشن غیر متعلق ہوتی ہے تو پھر یہ حکومت اپنی پسلی سے جنم لیتی ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو کسی بڑی اپوزیشن کا سامنا نہیں تھا، لیکن جلد ہی مسلم لیگ کے اندر سے ایک اپوزیشن نکل آئی۔

ایوب خان کے معاملے میں ذوالفقار علی بھٹو نظام کے اندر سے نکل کر ان کے مقابل کھڑے ہو گئے۔ خود عمران خان صاحب کو سیاسی کامیابیاں اس وقت ملیں جب مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک ہی رنگ میں رنگے گئے۔ آج وہ اتنے پر اعتماد ہو کر خود کو آخری چوائس قرار دے رہے ہیں، تو اس کی بنیاد حزب اختلاب کی جماعتوں کا نڈھال سا وجود ہی ہے۔ لیکن عمران خان جو نہیں دیکھ رہے وہ ایک نئی ابھرتی ہوئی اپوزیشن ہے جو ان کے اپنے اراکین اسمبلی کو بولنے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔

وزیراعظم یہ نہیں سوچ رہے کہ آخر پورا زور لگانے کے باوجود ان کے مخالفین احتساب کے شکنجے میں کیوں نہیں کسے جا رہے؟ انہیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ آخر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے معاملے ان کی حکومت کو شکست کیوں ہوئی؟ ان کی حیثیت اتنی کمزور کیوں پڑی کہ انہیں بجٹ پاس کرانے کے لیے بھی اپنی پارٹی اور اتحادیوں کو منانے کی مشق سے گزرنا پڑا؟ ہو سکتا ہے کہ مقتدرہ کے اندر انہیں اپنی حیثیت مستحکم لگ رہی ہو لیکن یہ استحکام اسی وقت تک قائم رہے گا جب تک وہ کارکردگی دکھاتے رہیں گے اور ان کے خلاف کوئی بڑی تحریک جنم نہیں لے گی۔ یہ درست ہے کہ ابھی حکومت کے خلاف کوئی بڑی تحریک موجود نہیں لیکن کارکردگی؟ ان کی کارکردگی ہی ان کی سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔

پاکستانی مقتدرہ دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح تین ستونوں پر استوار ہے، فوج، عدلیہ اور سیاسی حکومت۔ اس تکون میں سیاسی حکومت اسی وقت تک موثر ہوتی ہے جب تک یہ متوازن رہے، صرف ووٹ اس کی طاقت کو زیادہ دیر تک سہارا نہیں دے سکتے۔ ہمارے ملک کی یہ عجیب سی خاصیت ہے کہ یہاں ووٹ سے جنم لینے والی حمایت تو سیاستدانوں ہی کو ملتی ہے لیکن عوام کی نظر میں فوج اور عدلیہ کو بھی ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اس لیے طاقت کی اس تکون میں سیاسی حکومت کو ووٹوں کے ساتھ ساتھ کارکردگی بھی دکھانا ہوتی ہے، ایسی کارکردگی جو مقتدرہ اور عوام دونوں کو بیک وقت خوش کرسکے۔

بالخصوص موجودہ زمانے میں جب سیاسی نظریات اپنی اہمیت کھو چکے ہیں، صرف معیشت ہی ایسا پیمانہ ہے جس پر حکومتوں کو ناپا جاتا ہے۔ اس پیمانے پر عمران خان صاحب کی کارکردگی صفر سے بھی کم ہے۔ ہر ناکامی کو کسی فرضی مافیاکے سر پر ڈال کر تفتیش کرانے کو معاشی پالیسی قرار دینے والی اس حکومت کو یہ علم ہی نہیں کہ آج کی دنیا میں اقتصادیات قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ کمزور معیشت ونسٹن چرچل جیسے عبقریوں اور بھٹوجیسے نابغوں کے مقابلے میں بھی، چوائس، پیدا کردیتی ہے۔

عمران خان تو محض ایک بندوبست کا حصہ ہیں، جہاں متبادل ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔ اور ہاں ایک چوائس اور بھی ہے کہ حکومت تو رہے لیکن اختیار نہ رہے۔ محمد علی بوگرہ کی طرح ایک باصلاحیت کابینہ غیب سے نکل آئے۔ شاید اس طرح کے منظر میں عمران خان بھی دستیاب چوائسز میں سے پسندیدہ ترین قرار پاجائیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ عمران خان خود اسی طرح کی چوائس بننے کا فیصلہ کرچکے ہوں۔ یہ بھیدجلدکھل جاتے اگر کورونا وارد نہ ہوتا۔
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *