انصاف میں تاخیر ناانصافی ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار ہے۔ یہ قول آج کل کئی بڑے دانشوروں اور مفکروں سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن ڈکشنری آف کوٹیشن کے مطابق اس کا اصل خالق سابق برطانوی وزیر اعظم ولیم گلیڈسٹون ہے۔ یہ مقولہ ولیم گلیڈسٹون کے نام اس وقت منسوب کیا گیا، جب وہ اپنی مقبولیت کے عروج پر تھا، اور باربار برطانیہ کا وزیراعظم منتخب ہوتا تھا۔
عروج کے زمانے میں اس کے گائوں سمیت کئی جگہوں پر اس کے مجسمے نصب کیے گئے تھے۔ کئی سوسال بعد گلیڈسٹون آج کل ایک بارپھرموضوعِ بحث ہے اورعوامی غم وغصے کا شکار ہے۔ سٹون کے مجسمے ہٹانے کا مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گلیڈسٹون ایک نسل پرست آدمی تھا۔ وہ غلامی کے نظام اورغلاموں کی تجارت کا حامی تھا، لہٰذا وہ اس عزت کا حق دار نہیں تھا جو اسے بخشی گئی۔ اسی تناظر میں کچھ لوگوں نے ڈکشنری آف کوٹیشن کے مدیران سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈکشنری میں تصحیح کریں۔
بہرحال یہ مقولہ کسی کا بھی ہوایک تلخ سچائی کا عکاس ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیرکا مسئلہ ایک بہت ہی پرانا مسئلہ ہے۔ جب سے انسان نے باقاعدہ نظامِ انصاف ترتیب دیا، تب سے یہ مسئلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ لیکن ابتدائی ادوار میں کم انسانی آبادی، جرائم کی شرح میں کمی اور عدالتوں کے نسبتاً سیدھے سادے نظام اور طریقہ کار کی وجہ سے اس مسئلے نے وہ شدت اختیار نہیں کی تھی، جوآج ہے۔ جوں جوں انسانی سماج پیچیدہ ترہوتا گیا انصاف کے تقاضوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ عدالتی طریقہ کارطویل اور پیچیدہ ہوتا گیا۔ ایک وقت ایسا تھاکہ درختوں کے نیچے عدالت لگا کرقتل جیسے سنگین جرائم کا فیصلہ ایک آدھ گھنٹے میں کردیا جاتا تھا۔ یہ شاید فوری اورسستا انصاف تھا لیکن انصاف کے تقاضوں اورضروریات میں اضافے کی وجہ سے یہ عرصہ دنوں اور مہینوں سے بڑھتا ہوا سالوں تک پھیلتا چلا گیا۔ دنیا جتنی جدید ہوتی گئی تاخیر کا مسئلہ بھی پیچیدہ ہوتا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے اس مسئلے کی شدت میں کمی کی امید پیدا ہوئی تھی مگریہ امید برنہیں آئی۔
اس کے کچھ مثبت اثرات ضرورمرتب ہوئے، مگرصرف ان معدودے چند ترقی یافتہ امیر ممالک میں‘ جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا، اورٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کیلئے جن وسائل کی ضرورت تھی وہ مہیا کیے۔ اس باب میں کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے کچھ ممالک نے قابل ذکر پیش رفت کی، مگراس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان ممالک نے انصاف کے حصول میں تاخیر کے مسئلے پرمکمل طورپر قابوپا لیا ہے۔ ان ممالک نے اسی اورنوے کی دہائی میں اپنے اپنے نظام انصاف میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز کر دیا تھا۔ نوے کی دہائی میں کینیڈا کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک مشہور فیصلے میں تاخیر کے مسئلے کی سنگینی کا اظہار کیا اور اس کا حل تلاش کرنے پرزور دیا تھا۔ اس کے بعد اس میدان میں قابل ذکر کام ہوا، مگرتاخیر کا مسئلہ اب بھی کہیں نہ کہیں سراٹھاتا ہے، حالانکہ اس ملک کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں۔
تیسری دنیا کے پسماندہ اورغریب ممالک میں اس باب میں صورتحال بہت ناگفتہ بہ ہے۔ بھارت میں ایک مضبوط نظام انصاف موجود ہے، مگریہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے مسئلے پرقابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ بھارت کے عدالتی نظام میں اس وقت کروڑوں مقدمات التوامیں پڑے ہوئے ہیں۔پاکستان میں بھی یہ مسئلہ اپنی پوری سنگینیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اس سلسلے میں ہراس شخص کی زبان پرشکوہ ہے، جسے نظام انصاف سے واسطہ پڑتا ہے۔ بیس بیس سال تک عدالتوں کے چکرکاٹنے کے باوجود انصاف سے محرومی توایک عام شکایت ہے، مگر ایسی کہانیوں کی بھی کمی نہیں، جن میں تیسری اورچوتھی نسل کے لوگ اپنے آبائواجداد کے شروع کیے ہوئے مقدمات لڑ رہے ہوتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ نے اس پہلوپر کچھ توجہ دی ہے، جس سے بہتری کا آغازہوا ہے، مگرابھی تک کسی قابل ذکر تبدیلی کے کوئی آثارنہیں ہیں۔ دوسری طرف صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سیاست میں ایک مقبول نعرہ سستا اورفوری انصاف ہے۔ یہ نعرہ سب کا پسندیدہ ہے۔ سیاسی رہنمائوں سے لیکرسول سوسائٹی تک افراداور گروہوں کی زبان پریہ نعرہ ہے لیکن سستا اورفوری انصاف قدرتی انصاف کے سارے تقاضے پورے کیے بغیرممکن نہیں۔
فوری انصاف کے ساتھ درست انصاف ہونا اور فیصلوں کاغلطیوں سے پاک ہونا بھی ضروری ہے بلکہ نظام انصاف کا مقصد ہی یہ ہونا چاہیے عدالتیں بروقت اورفوری کے ساتھ ساتھ درست فیصلے کریں۔ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی کچھ بنیادی شرائط ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ عدالت کا ایک خاص پُرسکون ماحول اورڈیکورم ہو۔ ججوں، عدالتی عملے، استغاثہ اورصفائی کے وکلا کو کام کرنے کیلئے مناسب ماحول اورموقع میسرہو۔ ملزم کواپنی صفائی کیلئے وہ سارے مواقع مہیا ہوں، حقوق حاصل ہوں جو آئینی اورقانونی طور پراسے حاصل ہیں، اورقدرتی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے ضروری ہیں۔
اگرایک ملزم اپنی صفائی کیلئے چالیس گواہ پیش کرنا چاہتا ہے یا استغاثہ کے پاس ملزم کے خلاف چالیس گواہ ہیں توقدرتی انصاف کا تقاضا ہے کہ دونوں کواپنے اپنے گواہ پیش کرنے، ان کے بیانات لینے اوران پرجرح کا پوراپورا موقع دیا جائے۔ کوئی مادی شہادت ہے تواس کی جانچ پرکھ کا پوراموقع اور وقت میسرہو۔ کوئی سائنسی یا طبی معاملہ ہے تومتعلقہ شعبوں کے ماہرین کوپیش ہوکر اپنے بیانات قلمبند کرنے کا موقع دیا جائے۔ ظاہرہے یہ سارے کام ڈھنگ سے کرنے کے لیے وقت اورپیسہ چاہیے۔
یہ مشکل کام نہ سستے طریقے سے ہوسکتا ہے، اورنہ ہی جلد بازی میں درست یا مناسب طریقے سے کیا جا سکتا ہے لہٰذا اس باب میں معقولیت کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں، اورغیر ضروری تاخیرسے بھی بچاجا سکے۔ اس سلسلے میں کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک کے تجربات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے معاشی وسائل کے سلسلے میں نظام انصاف کوحکومت کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ مگرخود نظام انصاف میں بہت ساری چیزوں میں موجودہ وسائل کے اندررہ کربھی بہت بڑی اورحیرت انگیز تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔
اس کیلئے تبدیلی کی حقیقی خواہش‘مضبوط ارادوں اور عزم کی ضرورت ہے۔ ہمارے عدالتی نظام میں جوافراتفری اور دھکم پیل کی کیفیت ہے یہ بڑی حدتک انتظامی ناکامی ہے، جس کومہیا وسائل کے اندررہ کر مکمل طورپر بدلا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ڈسپلن کی ضرورت ہے۔ اس ڈسپلن میں رہ کراگر نظام انصاف کے اندر موجودہر چھوٹا بڑا پرزہ اپنا کردار ادا کرے توصورتحال یکسربدل سکتی ہے۔
نظامِ انصاف کے اندرموجود کمزوریوں پر قابوپانا کوئی اختیاری بات نہیں‘ لازم ہے۔ اس میں نظام انصاف سے وابستہ چھوٹے اہلکاروں کو رشوت، سفارش اور دبائو سے بچانے کیلئے مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔ وکلا کی صلاحیت اوراہلیت میں اضافے کیلئے لاء سکولوں کے نظام میں بنیادی تبدیلی سے لیکر بار کے امتحانات اور لائسنسز کے اجرا کے طریقہ کار تک میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ کسی بھی منظم سماج میں نظام انصاف ایک عام آدمی کی آخری امید ہوتی ہے۔
یہ امید ختم ہو جانے سے سماج زوال اور افراتفری کا شکار ہو جاتا ہے اور لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے اورخود انصاف کرنے کے راستے پرچل نکلتے ہیں۔ فریڈریک ڈگلس نے کہا تھا ”جہاں بے انصافی ہوتی ہے، جہاں غربت مسلط کی جاتی ہے، جہاں جہالت کا راج ہوتا ہے اور جہاں کسی ایک طبقے کویہ محسوس کرنے پرمجبور کیا جاتا ہے کہ سماج ان کا استحصال کرنے، لوٹنے اور ذلیل کرنے کی ایک منظم سازش ہے تو ایسے سماج میں کسی کا بھی جان ومال محفوظ نہیں رہتا‘‘۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply