پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ انگلینڈ: ’صورتحال مختلف اور مشکل ہے لیکن ہم جیتنا چاہتے ہیں‘

عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بابر اعظم

Reuters

پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کے کپتان بابراعظم تسلیم کرتے ہیں کہ جب پاکستانی ٹیم انگلینڈ پہنچی تو کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہ تفکرات موجود تھے کہ کرکٹ سے تین ماہ کی دوری ان پر کیا اثر دکھائے گی؟

لیکن صرف دو دن کی پریکٹس کے بعد کھلاڑی پہلے کی طرح نارمل دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی فٹنس صحیح ہے اور وہ پریکٹس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے اس وقت ووسٹر انگلینڈ میں ہے جہاں وہ قرنطینہ میں رہتے ہوئے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے ترتیب دیے گئے پروٹوکول کے مطابق پریکٹس شروع کر چکی ہے۔

بابراعظم جو پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان بھی ہیں کہتے ہیں کہ تمام کھلاڑی ٹیسٹ سیریز شروع ہونے کے شدت سے منتظر ہیں۔

انگلینڈ کی کنڈیشنز مختلف اور مشکل

بابراعظم چار سال میں چوتھی مرتبہ انگلینڈ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں ڈیوک بال سے کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ ڈیوک بال انگلش کنڈیشنز سے مطابقت رکھتا ہے۔ جب آپ انگلینڈ کی بولنگ کے خلاف انھی کی کنڈیشنز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو آپ کے حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے اور آپ میں یہ اعتماد پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر آپ انگلینڈ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں تو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں بھی دکھا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

‘بابر اعظم، کیمروں اور اشتہارات سے بے نیاز کپتان’

انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے تمام 20 کھلاڑیوں کے کووڈ 19 ٹیسٹ منفی

بابر اعظم: فیصلے خود کرتا ہوں، مصباح باہر بیٹھ کر کنٹرول نہیں کرتے

انگلینڈ میں ہونے والی کرکٹ میں موسم کا عمل دخل نمایاں ہوتا ہے اور ٹیم کی پریکٹس میں مصباح الحق اور یونس خان اسی نکتے کو اجاگر کر کے کھلاڑیوں کو سمجھا رہے ہیں کہ بدلتے موسم میں کس طرح بیٹنگ کی جاتی ہے۔

اچھی کارکردگی اور وزڈن کے پانچ کرکٹر

بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہر کھلاڑی کی طرح ان کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ بہترین کارکردگی دکھائیں تاکہ ان کا نام بھی دنیا کے سرفہرست کھلاڑیوں میں شامل ہو سکے۔ وہ ایسی پرفارمنس پر زیادہ یقین رکھتے ہیں جو ٹیم کے کام آئے اور جس سے ٹیم کو جیتنے میں مدد مل سکے۔

سابق کرکٹر زیادہ پُرامید نہیں

چند سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی ٹیم انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز نہیں جیت پائے گی۔

اس بارے میں بابر اعظم کا کہنا ہے کہ ہر ایک کی اپنی رائے اور سوچ ہوتی ہے۔ اگر پاکستانی ٹیم کی انگلینڈ میں کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اس نے اپنے گذشتہ دونوں دوروں میں ٹیسٹ سیریز برابر کی ہے۔ سنہ 2016 میں اس نے ٹیسٹ سیریز دو دو سے برابر کی تھی جبکہ سنہ 2018 میں ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔

اس کے علاوہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں بھی اس کی کارکردگی اچھی رہی، ان تمام عوامل اور کھلاڑیوں کی موجودہ صورتحال دیکھ کر وہ بہت زیادہ پرُامید ہیں کہ ٹیم اچھا کرے گی کیونکہ تمام کھلاڑی جیتنا چاہتے ہیں۔

انگلینڈ کی ٹیم کی کمزوری

بابراعظم اپنے کپتان اظہر علی کی طرح یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے بولر انگلینڈ کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ کو جلد آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین اس وقت زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں لہذا اگر ہمارے بولر انھیں جلد آؤٹ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے ان کی ٹیم دباؤ میں آ جائے گی۔

انگلینڈ کا بولنگ اٹیک اچھا ہے لیکن پاکستان کے پاس بھی شاہین شاہ آفریدی، محمد عباس اور نسیم شاہ پر مشتمل موثر بولنگ اٹیک ہے۔ محمد عباس کو انگلش کنڈیشنز کا تجربہ ہے۔

کووڈ 19 کی وجہ سے احتیاط

بابراعظم کا کہنا ہے کہ یہ دورہ مختلف حالات میں ہو رہا ہے، جو پروٹوکول ہیں ان پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کھلاڑی ہوٹل سے گراؤنڈ اور پھر ہوٹل تک آ جا رہے ہیں۔ ٹیم کی پریکٹس میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں۔ کھلاڑی ِجم میں بھی چھ چھ کے گروپ کی شکل میں ٹریننگ کے لیے جا رہے ہیں۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ معمول کی صورتحال سے کسی غیرمعمولی اور مختلف صورتحال میں آنے اور اس سے ہم آہنگ ہونے میں وقت لگتا ہے۔

محمد رضوان پہلی ترجیح

بابراعظم اس بارے میں بالکل واضح سوچ رکھے ہوئے ہیں کہ ٹیسٹ سیریز میں وکٹ کیپنگ کی پہلی ترجیح محمد رضوان ہوں گے۔

بابراعظم کا کہنا ہے کہ محمد رضوان نے آسٹریلیا میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم سیریز میں بھی وہی ٹیم کا حصہ تھے لہذا انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی پہلا موقع انھی کا ہو گا۔

یاد رہے کہ محمد رضوان کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے سبب ٹیم کے ساتھ انگلینڈ نہیں پہنچ سکے تھے تاہم بعد میں دو منفی نتائج کے بعد وہ ان چھ کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو انگلینڈ روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ قرنطینہ میں رہنے کے بعد اپنی پریکٹس کا آغاز کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد اور محمد رضوان کے علاوہ اس دورے میں تیسرے وکٹ کیپر کے طور پر روحیل نذیر کو بھی بھیجا ہے جو اعلان کردہ ریزرو کھلاڑیوں میں شامل تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14691 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp