دبنگ صحافت یا پاکستانی ارنب گوسوامی: سوشل میڈیا پر آج کی تکرار

نازش ظفر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ٹویٹر پر آج کی فیڈ میں ایک چلاتی ہوئی ویڈیو گردش میں ہے، اسی ویڈیو کے متعلق ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ ہیں، مباحثے میں ایک طرف شاباش کی تکرار ہے اور دوسری طرف صحافتی اصولوں کی ہاہاکار۔۔۔۔

ویڈیو پلے کریں تو صحافی اور اینکر عمران خان کے ٹاک شو کا ایک کلپ ہے اور وہ چلا چلا کر کچھ ایسے جملے بول رہے ہیں:

‘یہ بدمعاشی نہیں چلے گی’

‘میں آپ کو چڑھائی کرنے نہیں دوں گا’

‘اتاریں مائیک اور چلیں یہاں سے’

‘میرے منہ آپ اتنا لگیں جتنی ضرورت ہے’

پروگرام کے مہمانوں میں سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی رہنما پلوشہ خان موجود ہیں، اینکر کے چِلاّنے کے جواب میں ان کا اتنا کہا سنائی دیتا ہے کہ ‘آپ سندھ کی وکالت نہ کریں، آپ کی بات کیا صحیفہ ہے؟ میرے سر میں آگے درد ہے۔۔۔۔’ اس کےبعد کچھ سنائی نہیں دیتا کیونکہ ان کا مائیک میوٹ ہے۔۔

نجی ٹی وی جی ایج این این کے اس ٹاک شو میں اینکر عمران خان کے مطابق انھوں نے جو کیا وہ درست ہے کیونکہ انھوں نے سندھ کے مسائل پر بات کی جو ان کا حق ہے، ان کے خیال میں پروگرام کی مہمان نے ان کا تعلق حکمران جماعت سے جوڑا اور یہ کہ ان کے خلاف باقاعدہ مہم کے تحت انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے کیونکہ وہ پیپلز پارٹی رہنمائوں کے کیسز کے متعلق اپنے شوز میں بات کرتے ہیں۔

رہنما پلوشہ زئی نےاس معاملے پر بی بی سی سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ چینل کی جانب سے کئی بار بلانے بلکہ منت سماجت کے بعد شو میں شریک ہوئی تھیں، اس پر ‘بدمعاشی’ نہ کریں جیسے الفاظ کا استعمال کرنا اور شو کے دوران یہ کہنا کہ آپ یہاں سے چلی جائیں کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔

پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ’بلایا ہے تو بات بھی کرنے دیں، مائیک کیوں میوٹ کرتے ہیں۔‘

پلوشہ خان کے مطابق اینکر عمران خان کو اگر پارٹی کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے تو اس کے ثبوت پیش کر دیں۔جبکہ ان کی جماعت نے چینل جی این این کا بایکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیصلہ پیپلز پارٹی نے تو کر دیا لیکن سوشل میڈیا پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔۔

کچھ نے کہا صحافی ہے ، کچھ نے کہا نہیں ہے۔۔۔

کچھ نے کہا سیاسی رہنما ہے، کچھ نے کہا مافیا ہے۔۔۔

صبا خان نامی صراف کے اکاؤنٹ سے اینکر کے حق میں ایک ٹویٹ میں پیپلز پارٹی کے سابقہ رویے کا حوالہ دیا گیا کہ ماضی میں سعید غنی اور جماعت پر تنقید کے بعد اے آر وائی کے خلاف مہم چلائی گئی۔

حسن شیخ نامی صارف نے لکھا کہ انھوں نے ایسا صحافی کبھی نہیں دیکھا، بات کرنی ہے تو صرف سندھ میں کرپشن کی نہیں پورے ملک کی کرو۔۔

ٹوئٹر پر صحافتی اصولوں کی بات کرتے ہوئے کئی صارفین کو انڈیا کے ارنب گوسوامی کی یاد بھی آئی جن کے ہوتے ٹی وی کی سکرین سراپا ایک چنگھاڑ ہوتی ہے اور جن کے مہمان کچھ کہنا چاہیں تو مائیک آف کر دیے جاتے ہیں۔

پاکستانی صحافی طلعت اسلم نے اپنی ٹویٹ میں انہیں اسی نسبت سے ‘ارنب وانابی’ کہا۔۔۔

ادھر پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے ایک ٹویٹ میں چینل سے معافی مانگے کا مطالبہ کیا۔

مختصر یہ کہ صحافی عمران خان اور پلوشہ زئی دونوں کے لیے ان کے حمایتیوں نے کہا ’مور پاوور ٹو یو’۔۔۔ لیکن کیا یہ کہنا زیادہ مناسب نہ ہوگا کہ ‘مور پاور ٹو سوشل میڈیا’ جہاں بات چل نکلتی ہے تو پھر دور تلک جاتی ہے۔۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14691 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp