چین میں مسلمان اور پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میڈیا ریاست کا اہم ستون ہوتا ہے اور عالمی سطح پر ریاست کی تہذیب وتمدن، اخلاق، مذاہبی، سیاسی اور معاشرتی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے ظلم کی نشاندہی کرتا ہے اور مظلوم کے حق میں آواز بلند کرتا ہے۔

کیا پاکستانی میڈیا کا شمار عالمی میڈیا میں ہوتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید مشکل ہے کیونکہ ہمارے میڈیا کی منظر کشی صرف کشمیر سے اودیش اور پشاور سے افغانستان تک اور صرف چار ملکی عناصر تک محدود ہے اور بین الاقوامی معاملات و واقعات سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ حالانکہ چین میں مسلمانوں کے ساتھ برسوں سے ہونے والے ظلم نظروں سے اوجھل ہیں۔ کشمیر میں ظلم و ستم کی عکاسی اور چین میں ظلم وستم پہ چپ کا تالا لگانے سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ انسانیت کا نہیں بلکہ سیاست اور زمین کا ہے۔

برن ہارٹ زینڈ ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ چین میں مقیم مسلمانوں کی حالت بغداد سے کچھ کم نہیں۔ اویغور‎ اور کاشغر جن میں زیادہ آبادی اقلیتوں کی ہے کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے کنٹرول کیا گیا ہے۔ اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو نظر بند کیا گیا ہے۔ ہوا میں ہر وقت سائرن کی آواز گونجتی ہے۔ گلیوں میں بکتر بند گاڑیاں رواں رہتی ہیں۔ سپیکر میں اذان سختی سے منع ہے اور مساجد نماز جمعہ کے لیے بھی بند رہتی ہیں۔

مختلف اعداد و شمار کے مطابق جب سنکیانگ کو چین میں شامل کیا گیا تو اس خطے کی آبادی تقریباً 80 فیصد مسلمان تھی جو سخت ہجرت پالیسی کے تحت محض 45 فیصد رہ گئی ہے۔

دنیا میں کہیں بھی، یہاں تک کہ شمالی کوریا میں بھی آبادی پر اتنی سخت نگرانی نہیں کی جاتی، سنکیانگ ایغور کا شمار خودمختار خطوں میں ہوتا ہے، جو جرمنی کے سائز سے چار گنا بڑا اور چین میں مسلمانوں کی آبادی والا سب سے بڑا خطہ ہے۔ یہ آٹھ ممالک سے ملحق ہے، جن میں پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور قازقستان کے ممالک شامل ہیں۔ ظلم کی یہ داستان کوئی نئی نہیں ہے شاید ایسا کائنات کے وجود سے ہی ہوتا آ رہا ہے۔ یہ ظلم شاید اس لیے منفرد ہے کیونکہ اس ظلم پہ بولنے والا کوئی نہیں۔ اس کا حوالہ نہ تو نیوز چینل کی سرخیوں میں ملتا ہے اور نہ ہی خان صاحب کی اوکسفورڈ کی انگریزی میں۔

یقیناً ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ظلم سے لڑنا ایک عظیم قوم کی عظمت اور ایک غیرجانبدار میڈیا کا فرض ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رائے قاسم علی کھرل کی دیگر تحریریں

One thought on “چین میں مسلمان اور پاکستان

  • 06/07/2020 at 3:56 am
    Permalink

    Author has captured the true picture of Muslims in China and our political system.

Leave a Reply