ارشد ملک ویڈیو سکینڈل: سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے جج نوکری سے برطرف

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ارشد ملک وہی جج ہیں جنھوں نے دسمبر 2018 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ دوسرے ریفرنس، فلیگ شپ ریفرنس، میں انھیں بری کر دیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو چھ جولائی کو جاری کی تھی جس میں ارشد ملک کو مبینہ طور پر کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔

جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی قانونی حیثیت کیا ہے؟نمائندہ بی بی سی ترہب اصغر کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان کی زیر صدارت انتظامی کمیٹی نے ارشد ملک کو نوکری سے برطرف کرنے کی منظوری دی ہے۔یہ منظوری چیف جسٹس محمد قاسم خان کی زیر صدارت انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔ اس اجلاس میں لاہور ہائیکورٹ کے سات سینیئر ججز نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس شجاعت علی خان، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔

ویڈیو سکینڈل کیا ہے؟

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اسلام آباد کے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو 6 جولائی کو جاری کی تھی جس میں ارشد ملک کو مبینہ طور پر کہتے ہوئے سنا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سزا دینے کے لیے ان پر دباؤ تھا۔

مگر بعد میں جج ارشد ملک نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو دیے گئے اپنے بیان حلفی میں میاں طارق کو اس ویڈیو سکینڈل کا مرکزی کردار قرار دیا تھا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مریم نواز کی طرف سے ارشد ملک کی جو ویڈیو میڈیا کے سامنے پیش کی گئی تھی اس کا مرکزی کردار میاں طارق تھا یا وہ مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو جس سے متعلق احتساب عدالت کے سابق جج کا کہنا ہے کہ میاں طارق اس ویڈیو کو منظر عام پر لانے کی دہمکی دیکر سابق وزیر اعظم کے خلاف دائر ریفرنس میں اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے تھے۔

مریم نواز

Getty Images
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز چھ لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد وزارتِ قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ارشد ملک کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرایع کے مطابق احتساب عدالت کے جج کے بیان حلفی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میاں طارق کی ریکی کرنا شروع کردی تھی۔

اس کے علاوہ ایف آئی اے کے حکام کو یہ واضح ہدایات جاری کی گئی تھی کہ میاں طارق کسی بھی طریقے سے بیرون ملک فرار نہ ہونے پائیں۔

وزرات داخلہ کے ذرائع کے مطابق ملزم میاں طارق کا نام بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14756 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp