وہ کامیاب کاروباری آئیڈیا جسے شروع میں احمقانہ کہا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی کی سیریز ’دی باس‘ میں کسی نہ کسی کامیاب کاروباری شخصیت کا انٹرویو کیا جاتا ہے۔ اسی پروگرام میں ابیگیل فورسائتھ سے بات کی گئی جو دوبارہ استعمال ہونے والے کاپی کے کپ بنانے والی کمپنی کی بانی اور مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

ابیگیل کو جب یہ خیال آیا کہ دوبارہ استعمال ہونے والے کافی کپ بنائے اور فروخت کیے جائیں اور انھوں نے ایک ڈیزائنر سے رابطہ کیا تو وہ اس سے بالکل متفق نہیں تھا۔

ابیگیل نے بتایا کہ وہ کہنے لگا کہ اس سے احمقانہ خیال اس نے پہلے کبھی نہیں سنا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی جب وہ کپ بنانے والے کے پاس گئی تو ’انھوں نے مجھ سے کہا کہ یہ صرف کپ ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار چیزیں لوگوں نے بنائی ہیں جو ان سے زیادہ فائدہ مند اور سمجھ داری سے بنائی گئی ہیں جو آپ نے بنایا ہے اس سے۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکی ٹی وی پر راج کرنے والی ارب پتی حسینہ

روسی ارب پتی کے ساتھ زندگی اور جان کی دھمکیاں

سمندری آلودگی، ارب پتی کا عطیے کا اعلان

یہ سنہ 2008 میلبرن آسٹریلیا کی بات ہے۔ ابیگیل اور ان کے بھائی جیمی کو ’کیپ کپ‘ بنانے کا خیال اس وقت آیا جب انھیں یہ احساس ہونے لگا کہ ہر سال اربوں کی تعداد میں ایک مرتبہ استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے کافی کے کپ کوڑے کے ڈھیروں میں اضافہ کر رہے ہیں۔

کپس

KeepCup

وہ جانتے تھے کے صورت حال کتنی سنگین ہے کیونکہ وہ گذشتہ دس برس سے کئی کافی شاپس پر مشتمل ایک کاروبار چلا رہے تھے۔ اس لیے وہ اس بارے میں کچھ کرنے کے لیے پرعزم تھے۔

ابیگیل کا کہنا ہے کہ ابتدائی منفی رویوں سے بدل ہونے یا حوصلہ ہار جانے کے بجائے ان کا ارادہ اور بھی پختہ ہو گیا کہ وہ اس کاروبار کو کامیاب کرنے اور محنت کریں گی۔ اڑتالیس سالہ ابیگیل نے کہا کہ اس نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔

آج کیپ کپ کمپنی دنیا بھر میں ایک کروڑ کپ فروخت کر چکی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے آٹھ ارب کے قریب ایک مرتبہ استعمال کر کے پھینک دیے جانے والے کپوں کو کوڑے کے ڈھیروں میں جانے سے بچا لیا ہے

سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں پیدا ہو کر میلبرن میں پرورش پانے والی ابیگیل تعلیم کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں۔ چار سال تک وکیل کے طور پر کام کرنے کے بعد انھوں نے کیفے کا کاروبار اختیار کر لیا۔۔

جب دونوں بہن بھائیوں نے ان کپس کے ابتدائی ڈیزائن پر کام کرنا شروع کیا تو جیمی کا خیال تھا کہ کپس ایسے ہونے چاہیں کہ لوگ انھیں خریدنا پسند کریں اور یہ خوب شوخ رنگوں کے بنائے جانے چاہیں۔

کپس

Getty Images

جب ان کپس کی پہلی کھیپ سنہ 2009 میں تیار کی گئی تو انھیں میلبرن میں ایک میلے میں پیش کیا گیا۔ ابیگیل نے کہا کہ کپ بہت کامیاب رہے اور پہلے ہی گھنٹے میں انھوں نے چھ گھنٹوں میں ایک ہزار کپ فروخت کر دیے۔

انھوں نے کہا کہ اس اس ڈیزائن مارکیٹ میں ڈیزائن بہت اہم ہے۔ لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا کہ وہ نہیں جانتے کہ یہ کیا لیکن وہ اسے خریدنا چاہتے ہیں۔

’جلد ہی یہ پتا چل گیا کہ لوگ یہ خریدیں اور استعمال کریں گے کیونکہ انھیں ان کے رنگ اور ڈیزائن پسند آئے ہیں۔‘

مختلف سائزوں کے کپ بنائے گئے تھے جن میں ایک سو بیس ملی لیٹر کے ایکسپریسو کافی پینے سے لے چار سو چوہتر ملی لیٹر کے بڑے آئس کافی اور سمودی پینے کے کپ شامل تھے۔ کیپ کپ نے کیفیز اور براہ راست لوگوں کو بھی یہ کپ فروخت کرنا شروع کیے۔

انھوں نے بڑی کمپنیوں کو بھی فروخت کیے جن میں آسٹریلیا کی فضائی کمپنی کوانٹس اور بینک آف انگلینڈ شامل ہیں۔

ابیگیل

Abigail Forsyth
ابیگیل اور ان کے بھائی جیمی کو ’کیپ کپ‘ بنانے کا خیال اس وقت آیا جب انھیں یہ احساس ہونے لگا کہ ہر سال اربوں کی تعداد میں ایک مرتبہ استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے کافی کے کپ کوڑے کے ڈھیروں میں اضافہ کر رہے ہیں

ان کی سیل میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا جس میں اچھی شہرت کے علاوہ مختلف تجارتی شو اور عالمی میلوں میں شرکت نے بھی کردار ادا کیا۔ اس کمپنی کی سالانہ سیل اس وقت اسی لاکھ آسٹریلیوی ڈالر ہے۔

ابیگیل نے سنہ 2004 میں اپنے بھائی کو اس کا حصہ دے دیا جو اب ‘بیٹ باکس’ کے نام سے لنچ بکس کا کاروبار کرتا ہے۔

ماحول دوست ہونے کی اپنی ساخت برقرار رکھنے کے لیے کیپ کپ نے تمام مصنوعات اپنی مقامی مارکیٹ آسٹریلیا اور برطانیہ میں ہی کی۔

اس کا مقصد فضا کو آلودگی سے بچانا تھا کیونکہ اگر یہ کپ چین یا دوسری کسی سستی جگہ سے بنوائے جاتے تو ان کی جہازوں کے ذریعے ان کی ترسیل بھی فضائی آلودگی کا سبب بنتی۔

ویئر ہاؤس

Amy Whitfield

ان کی پیکنگ میں استعمال ہونے والا تمام میٹریل ‘فارسٹ سٹورڈشپ ‘ ادارے سے تصدیق شدہ کارڈ بورڈ اور کاغذ سے بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ لندن اور میلبرن میں ان کے دونوں دفاتر میں شمستی توانائی استعمال ہوتی ہے اور یہ کمپنی اپنے منافع کا ایک فیصدہ ماحول کے تحفظ کے عالمی منصوبے میں دیتی ہے۔

آسٹریلیا کے پینلٹ آرک نامی ماحولیاتی گروپ کے سربراہ پال کلیمینکو کا کہنا ہے گذشتہ ایک دہائی سے کیپ کپ کمپنی پائیدار اور دوبارہ استعمال ہونے والی مصنوعات بنا رہی ہے جو معیشت کے پہیے کو چلانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کمپنی ایسی مصنوعات بنا رہی ہے جو لوگ بار بار استعمال کرنا پسند کرتے ہیں اور جن سے کچرا جمع نہیں ہوتا اور زمینی وسائل کا بھی زیاں نہیں ہوتا۔

ابیگیل کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار کورونا وائرس کی عالمی وبا سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بہت سے کافی شاپس بند ہیں اور کئی دوبارہ استعمال ہونے والے کپ خرید نہیں رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دوبارہ استعمال بند نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے بہت سے گاہک ان سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ استعمال کر کے پھینک دیئے جانے والے کپس کے خلاف وہ اپنی مہم جاری رکھیں اور اس کو چیز کو اجاگر کر رہے ہیں کہ ایک مرتبہ استعمال ہونے والے ضروری نہیں کہ جراثیم سے بالکل پاک ہوں۔

انھوں نے کہا کہ کیپ کپ استعمال کرنے والے اپنے کپس کو صاف اور خشک رکھیں۔

ابیگیل چاہتی ہیں کہ ان کی کمپنی کو ایسے یاد کیا جائے کہ وہ ڈسپوزیبل ایک مرتبہ استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے کپس کے رواج کو ختم کرنے کا موجب بنی تھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14651 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp