نوشین امجد کی جگہ جاوید غنی نئے چیئرمین ایف بی آر تعینات:’ فی الحال حکومت کی نظر میں کوئی ایسا آفیسر نہیں جسے مستقل بنیادوں پر تعینات کیا جا سکے‘

حمیرا کنول - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کے چیئرمین کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ایف بی آر کے بورڈ ممبر برائے کسٹمز پالیسی محمد جاوید غنی کو نوشین امجد کی جگہ یہ عہدہ سونپ دیا ہے۔

یہ تقرری ابھی تین ماہ کے لیے کی گئی ہے یعنی نئے چیئرمین کے پاس اضافی چارج اس عہدے پر باقاعدہ تقرری ہونے تک رہے گا۔

یہ سوال معاشی اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پانچ مرتبہ ایف بی آر کے چیئرمین کی تعیناتی آخر کس جانب اشارہ کر رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین شبر زیدی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد سے اب تک ایف بی آر کو ’سٹاپ گیپ ارینجمنٹ‘ (عارضی بنیاد) کے تحت چلایا جا رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت شبر زیدی کی پرفارمنس سے کافی خوش تھی تاہم خرابی صحت کی بنا پر وہ کام جاری نہ رکھ سکے، جس کا ہمیں افسوس ہے۔

مزید پڑھیے

نئے چیئرمین کی تقرری پر ایف بی آر میں ’اندرونی اختلافات‘

جسٹس فائز عیسیٰ کیس: ایف بی آر کیا ممکنہ کارروائی کر سکتا ہے؟

نئی ’ٹیکس آسان‘ ایپ کتنی آسان ہے

یاد رہے کہ شبر زیدی آٹھ اپریل 2020 کو چیئرمین ایف بی آر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ شبر زیدی کے بعد نوشین جاوید کی تعیناتی کی گئی کیونکہ حکومت چاہتی تھی کہ ادارے کی پرفارمنس بہتر ہو۔

’چونکہ موجودہ صورتحال میں ایف بی آر کو دیے گئے محصولات جمع کرنے کے اہداف کافی چیلنجنگ ہیں اس لیے جاوید غنی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ حکومتی ٹارگٹس کو پورا کر سکیں۔‘

لیکن معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا شبلی فراز کی اس بات سے متفق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جاوید غنی کی تعیناتی بھی مستقل بنیادوں پر نہیں ہوئی بلکہ انھیں چیئرمین ایف بی آر کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

شہباز رانا کے مطابق یہ تعیناتی بھی سٹاپ گیپ ارینجمنٹ ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ فی الحال حکومت کی نظر میں کوئی ایسا آفیسر نہیں ہے جسے مستقل بنیادوں پر اس پوسٹ پر تعینات کیا جا سکے۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سابق چیئرمین ہارون شریف نے بی بی سی سے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ایف بی آر کا سٹرکچر بہت پیچیدہ ہو چکا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کا ادارے پر اعتماد بہت کم ہو چکا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ ادارے کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونا ہے۔ کسی بھی کاروباری شخص کے لیے یہ منفی اشارہ ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولی کے ٹارگٹ غیر حقیقی ہیں۔ دو سال میں پانچ بار چیئرمین کی تبدیلی یہ واضح اشارہ ہے کہ حکومت میں ادارے کے ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی صلاحیت کم ہے اور وہ فقط شخصیات کے ذریعے اس ادارے کو چلانا چاہ رہی ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو میں طویل عرصے تک ایف بی آر میں خدمات سرانجام دینے والے ایک سابق آفیسر نے چیئرمین کی بار بار تبدیلی کے حوالے سے کہا کہ ’حکومت کابینہ کی منگل کو ہونے والی میٹنگ تک انتظار کر سکتی تھی لیکن حکومت کو جلدی تھی اور سمری سرکولیشن سے جاری کی گئی۔‘

انھوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ یہ سب ایڈہاک بنیادوں پر چل رہا ہے یعنی جاوید غنی کو اضافی چارج دیا گیا ہے۔ یہی لگتا ہے کہ اس وقت حکومت کے ذہن میں ابھی کوئی نام تھا ہی نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جب سے شبر زیدی گئے ہیں حکومت اس عہدے پر کسی شخصیت کا مناسب بنیادوں پر انتخاب نہیں کر سکی۔

ایف بی آر کے سابق آفیسر نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایف بی آر کی اہمیت پر زور دیتی ہے اور مسائل پر بات تو کرتی ہے لیکن ایک مناسب منتظم اس ادارے میں نہیں لگا پا رہی جو ایک مناسب مدت تک کام کرے۔

’یہ حکومت کے ڈیپارٹمنٹ یا ڈویژن نہیں کہ ایک سیکرٹری آیا اور دوسرا چلا گیا بس کام چلتا رہے گا۔ اس میں ادارے کے بارے میں علم، قوانین اور کام کی سمجھ و آگاہی ہونا ضروری ہے جو جلدی پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ ایف بی آر کے اندر کا بندہ بھی لگائیں تو اسے بھی سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے ۔پانچ چھ مہینوں میں تو وہ اپنے آپ کو اس لیول پر لے کر آتا ہے کہ وہ چیئرمین کے طور پر ایکٹ کرے پھر پالیسیاں بنتی ہیں اور ان پر عملدرآمد ہوتا ہے اس عہدے کے لیے دو سے تین سال ایک ہی شخصیت کی تعیناتی اہم ہوتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پورے سال میں حکومت کو ایک مناسب بندہ نہیں مل سکا کہ وہ اسے چیئرمین لگا سکیں۔

اپنی تجاویز دیتے ہوئے ہارون شریف نے کہا کہ حکومت کو ادارے میں ٹیکنالوجی کے حساب سے جدت لانا ہو گی۔ ٹیکس کی وصولی کا طریقہ کار ٹھیک کرنا ہوگا۔ ٹیکس محصولات کی پالیسی کامرس کی وزارت کو دے دی ہے جو کہ کمزور ادارہ ہے۔

’حکومت کو چاہیے کہ پرائیوٹ سیکٹر کا تجربہ کار آدمی لگائیں، انھیں مکمل سپورٹ دیں، وقت دیں اور ٹارگٹ تاکہ وہ کارکردگی دکھائیں یہ جو مختصر مدت ہے کہ آپ اتنے پیسے اکھٹے کریں اس کے اندر کوئی بھی کام نہیں کر پائے گا۔‘

’اس سے ادارے کے اندر بھی کشمش ہے‘

ایف بی آر کے سابق آفیسر کا کہنا تھا کہ ادارے کے اندر ایک سال سے زیادہ عرصے سے کنفیوژن اور اضطراب ہے، ادارے کے مختلف سیکشن آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور مجموعی طور پر ادارے کا کام متاثر ہو رہا ہے۔

پاکستان

AFP

معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے گذشتہ دنوں پی آئی اے کا حوالہ دیتے ہوئے خود کہا تھا کہ دس سال میں 11 چیئرمین بدلے گئے تو اس ادارے میں کہاں سے بہتری آئے گی۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ یہی سوال میں ایف بی آر اور وزارتِ داخلہ کے حوالے سے کرتا ہوں، جس کے ہر پانچ چھ ماہ بعد سیکرٹری تبدیل ہو جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ایف بی آر کا چیئرمین معاشی ٹیم کا اوپنگ بیٹسمین ہوتا ہے جس نے ریونیو دینا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اشفاق نے یہ بھی کہا کہ ’جاوید غنی ایک سینئر افسر ہیں، اسی محکمے کے ہیں اور تجربہ کار انسان ہیں اور امید ہے کہ انھیں بھی چار چھ ماہ بعد عہدے سے نہیں ہٹایا جائے گا اور کام کرنے دیا جائے گا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14651 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp