ہوٹل روزویلٹ ، مراد سعید کیوں گھبرا گئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر مراد سعید جب سے پارلیمنٹ آئے ہیں وہ ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں۔ دو ہزار تیرہ کی اسمبلی میں اگر اپوزیشن بینچوں سے کچھ نئی آوازیں ابھریں جنہوں نے نواز حکومت کو ٹف ٹائم دیا تو ان میں مراد سعید نمایاں تھے۔ نوجوان طالب علم راہنما تھے لہٰذا جوش و جذبہ جوان تھا جس کا انہوں نے خوب استعمال کیا اور بہت جلد قومی میڈیا میں نمایاں ہو گئے۔ پشتونوں کا مخصوص جارحانہ انداز ان کی پہچان بن گیا۔ آج وزیر بن کر بھی ان کا لب و لہجہ اور جارحانہ انداز وہی ہے جو اپوزیشن کے دنوں میں تھا۔
اگر پی ٹی آئی کے نئے ایم این ایز میں سے کسی نے قومی اسمبلی کی کارروائی اور کمیٹیوں کا صحیح فائدہ اٹھایا تو وہ اسد عمر، مراد سعید اور عارف علوی صاحبان تھے۔ اسد عمر نے فنانس کمیٹی میں اچھی پرفارمنس دکھائی اور بہت سے اہم ایجنڈے اور آئٹمز کمیٹی میں لائے جس سے حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوئے۔ اسد عمر نے ہائوس کے اندر بھی اچھی تقریریں کیں جس سے اندازہ ہوا کہ وہ ملک کے اگلے وزیر خزانہ ہوں گے۔ وہ بن بھی گئے لیکن جتنی اچھی پرفارمنس انہوں نے کمیٹی اجلاس اور پارلیمنٹ میں دکھائی تھی وزیر بن کر نہ دکھا سکے بلکہ مجھے یوں کہنے دیں‘ انہیں پہلے استعمال کرکے سب وہ کام کرائے گئے جس سے وہ اَن پاپولر ہوئے جس میں پیسے کی قدر گرانا اور گیس‘ بجلی کی قیمتوں میں اضافے شامل تھے۔ آخرکار وہ فارغ کر دیے گئے اور بڑی مشکلوں سے وہ کچھ لوگوں سے صلح بعد دوبارہ وزیر کا حلف اٹھا سکے۔
اب ہو سکتا ہے کہ ان کے اندر کا باغی آرام سے سو گیا ہے کہ پاکستان میں وزیر بن کر رہو، ہر وقت وزیر اعظم کی تعریفیں کرو۔ یہ ہر پارٹی کا فارمولہ ہے جو اسد عمر کو دیر سے سمجھ میں آیا ہے۔ آج کل وہ پھر کابینہ میں وزیروں کے ہاتھوں تنقید کا سامنا کررہے ہیں۔ پہلے فواد چوہدری نے ان پر الزام لگایا اور پھر فیصل وائوڈا نے بھی کابینہ میں سخت تقریر کی کہ کچھ لوگ عمران خان کے خلاف سازش کررہے ہیں اور وہ وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
دوسری طرف عارف علوی صاحب پبلک اکائونٹس کمیٹی کے پانچ سال ممبر رہے۔ وہ وہاں اچھی بحث کرتے تھے۔ وہ آڈٹ ڈاکومنٹ پڑھ کر آتے اور اچھے سوالات پوچھتے۔ ایک دن عارف علوی نے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ پر کمنٹ کیا۔ ان دنوں پانامہ کا ایشو چل رہا تھا۔ اس پر نواز لیگ کے دو ارکان نے انہیں ڈرایا کہ اگر فوراً معافی نہ مانگی تو پھر ان کی خیر نہیں۔ عارف علوی صاحب نے معذرت میں ایک منٹ نہیں لگایا۔
میں وہیں اجلاس میں موجود تھا۔ ہم سب میڈیا کے لوگ بیٹھے ہنس رہے تھے کہ یہ حالت ہے کہ اجلاس میں تھوڑا سا نواز لیگ نے دبایا تو عارف علوی نے فوراً معافی مانگ لی۔ بھائی اگر پانامہ پر سٹینڈ لیا ہوا ہے تو معافی کس بات کی؟ شاید عمران خان کو عارف علوی صاحب کی اس خوبی کا پتہ چلا ہوگا کہ انہیں دبایا جائے تو فوراً معافی مانگ لیتے ہیں لہٰذا اٹھا کر فوراً صدر بنا دیا‘ جہاں عارف علوی صاحب نے ایک مشاعرہ کرایا جس کے اخراجات چھتیس لاکھ روپے ہوئے۔
وزیر اعظم ہائوس کی بھینسیں بیچ کر چھبیس لاکھ کمائے گئے تھے‘ جس کا ڈھنڈورا پوری دنیا میں پیٹا گیا۔ ایک ہی ہلے میں مشاعرے میں پیسے پورے کر لیے گئے۔
ان دونوں کے برعکس مراد سعید نے کمزوری نہ دکھائی۔ ان پر نواز لیگ کے کچھ ارکان نے بڑے گھٹیا اور ذاتی حملے بھی ہائوس میں کیے لیکن مراد سعید نے اس کے باوجود اپنا وتیرہ نہ چھوڑا۔ بہت جلد پیپلز پارٹی کے ارکان نے بھی مراد سعید کے خلاف محاذ جوائن کر لیا۔ بلاول بھٹو کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک مراد سعید نے سنبھال لیا اور پھر ہم نے دیکھا‘ جونہی مراد سعید ہائوس میں کھڑے ہوتے تو بلاول بھٹو اور اپوزیشن دونوں ہائوس چھوڑ کر چلے جاتے۔ عمران خان ہائوس میں نہ آنے کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ ان کے خلاف گھٹیا کمنٹس اپوزیشن بنچوں سے پاس کیے جاتے ہیں۔ تو پھر داد دینی پڑے گی مراد سعید کو جن کو سب سے زیادہ ایسے جملوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہائوس نہیں چھوڑا۔ اس طرح وہ کابینہ میں بھی بڑے جوش سے شریک ہوتے رہے ہیں اور سنا ہے وہاں بھی اپوزیشن لیڈر کا سا ماحول بنا رکھا ہے۔
اب ایک انہونی ہوئی ہے۔ پچھلے ہفتے وزیراعظم عمران خان کے حکم پر نج کاری کمیشن کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا۔ اس اجلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ نیویارک میں پی آئی اے کے ہوٹل روزویلٹ کی نج کاری کے معاملے کو دیکھا جائے۔ اس معاملے پر خاصا تنازعہ چل رہاتھا۔ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب وزیراعظم کے قریبی دوست زلفی بخاری کو نج کاری کے اجلاس میں روزویلٹ ہوٹل کی نج کاری کیلئے ایک ٹاسک فورس بنا کر اس کا ممبر بنایا گیا۔
زلفی بخاری نے اس ٹاسک فورس کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی لکھوایا کہ زلفی کی شمولیت کے بغیر کوئی اجلاس نہیں ہوگا؛ تاہم اس اجلاس میں موجود سیکرٹری ایوی ایشن شاہ رخ نصرت نے سخت احتجاج کیا اور ان کا ساتھ ان کے وزیر غلام سرور خان نے بھی دیا۔ ان کا کہنا تھاکہ محکمہ ہوا بازی پی آئی اے کو کنٹرول کرتا ہے لیکن نیویارک ہوٹل کو بیچنے کیلئے یہ سمری پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو ارشد ملک نے براہ راست نج کاری کے اجلاس میں پیش کی ہے۔
یاد رہے کہ چودہ نومبر 2019 کو اجلاس سے ایک دن پہلے یہ سمری ایجنڈے کا حصہ بنائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی کام تھا۔ اگر ہوٹل بیچنا بھی تھا تو اس کا طریقہ کار ہے کہ پی آئی اے پہلے سمری بناکر محکمہ ہوابازی کو بھیجتی اور پھر سمری پر کمنٹس لے کر نج کاری کمیشن میں جاتے۔ اب اس پر جب شاہ رخ نصرت نے سٹینڈ لیا تو انہیں راتوں رات سیکرٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جس سے لوگوں کے کان کھڑے ہوئے کہ زلفی بخاری کا نیویارک ہوٹل کی فروخت میں اچانک دلچسپی دکھانا اور پھر ٹاسک فورس کا ممبر بن جانا اور پھر یہ لکھوا دینا کے ان کی شمولیت کے بغیر کوئی اجلا س نہیں ہوگا اور اب اچانک سیکرٹری شاہ رخ جس نے اس سارے عمل پر اعتراضات اٹھائے تھے اسے تبادلہ کر دینا، کوئی نیا چکر ہے۔
اس پر غلام سرور خان نے کابینہ اجلا س میں بھی سوال اٹھایا‘ لیکن کسی وزیر نے ساتھ نہ دیا کیونکہ معاملہ و زیراعظم کے قریبی دوست کا ہے۔ جب ارشد شریف نے ایک انٹرویو میں پوچھا تھا کہ آپ کے دوست زلفی کا کاروبار کیا ہے؟ تو عمران خان نے جواب دیا تھا‘ انہیں پتہ نہیں زلفی کیا کاروبار کیا کرتا ہے۔ اب وہ بندہ جس کے کاروبار کا پتہ ان کے ذاتی دوست عمران خان کو بھی نہیں ہے‘ وہ نیویارک ہوٹل بیچنے کی ٹاسک فورس کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے اور جو اس پر اعتراض کرے اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔
ہر طرف سے اعتراضات بڑھنے لگے تو عمران خان نے حفیظ شیخ کو کہا کہ وہ نیویارک ہوٹل پر اجلاس بلائیں جس میں انہوں نے اہم وزیروں کو ممبر بنا دیا۔ اسد عمر، غلام سرور خان، رزاق دائو، حماد اظہر، عشرت حسین سب موجود تھے؛ تاہم مراد سعید بھی اس کمیٹی کے ممبر تھے لیکن وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ مراد سعید اس اہم اجلاس میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ اگر نیویارک کا ہوٹل بیچ کر یا لیز پر دے کر کوئی غلط کام نہیں ہو رہا تو پھر اس کمیٹی کا اہم وزیر مراد سعید اس اجلاس سے غائب کیوں ہے؟
مراد سعید ہر ایشو اور سکینڈل پر بات کرتے آئے ہیں اور انہوں نے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کا ناک میں دم کیا ہوا ہے‘ لیکن کیا ہوا کہ وہ اس اجلاس میں نہیں آئے؟ کیا مراد سعید اس لیے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کہ اس میں سب کچھ ریکارڈپر ہوگا کہ کن کن لوگوں نے ہوٹل کے حوالے سے کیا فیصلے کیے؟ اگر سب کچھ ٹھیک ہورہا ہے اور کوئی غلط نہیں ہورہا تو پھر مراد سعید کیوں گھبرا گئے ہیں؟ جو بندہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مسلسل سات سال تابڑتوڑ حملوں سے نہ ڈرا وہ زلفی بخاری کی روزویلٹ ہوٹل بیچنے یا لیز کے لیے بنائی گئی صرف ایک ٹاسک فورس سے گھبرا گیا ہے؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *