جسٹس فائز عیسیٰ: سرینا عیسیٰ نے برطانیہ میں جائیدادوں سے متعلق اپنا جواب ایف بی آر میں جمع کروا دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایف بی آر

AFP

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنی بیرون ملک جائیداد کے ذرائع آمدن کے حوالے سے اپنا جواب فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ایف بی آر، میں جمع کروا دیا ہے۔

ایف بی آر نے ان جائیدادوں کی تفیصلات فراہم کرنے کے بارے میں چند روز قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کو نوٹس جاری کیا تھا۔

گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مختصر فیصلے میں ایف بی آر کے حکام کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی برطانیہ میں جائیداد کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ میں سے سات ارکان نے برطانیہ میں جائیداد کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ دیا تھا جبکہ دو جج صاحبان نے اس کی مخالفت کی تھی، جبکہ ایک جج نے اس صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو ہی ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی ایف بی آر کے دفتر گئیں اور وہاں پر اُنھوں نے اس جائیداد کے بارے میں تفصیلی جواب جمع کروایا ہے۔

ایف بی آر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہلخانہ کو چند روز قبل تین الگ الگ نوٹسز بذریعہ کوریئر بھیجے تھے جن میں سے ایک ان کی اہلیہ اور دو ان کے بچوں کے نام پر تھے اور یہ نوٹسز اسلام آباد میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ پر بھجوائے گئے تھے۔

یہ نوٹسز ایف بی آر کے کمشنر لینڈ ریونیو اورا نٹرنیشنل ٹیکسز زون کی طرف سے بجھوائے گئے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے برطانیہ میں اپنی جائیداد کے بارے میں تفصیلی جواب بھی کمشنر لینڈ ریونیو کو جمع کروایا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایف بی آر کے حکام کو اس معاملے پر دو ماہ کے اندر فیصلہ کر کے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔

اس عبوری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل سمجھے کہ ان جائیدادوں کی خریداری میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کوئی کردار سامنے آتا ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل اپنے تئیں مذکورہ جج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

اس صدارتی ریفرنس کے حوالے سے حکومتی وکیل فروغ نسیم نے اپنے تحریری دلائل عدالت میں جمع کروا دیے ہیں جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے اس ریفرنس کے خلاف درخواست کو مسترد کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اس صدارتی ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ ابھی آنا ہے اور ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں غیر قانونی اثاثے برآمد کرنے والے یونٹ یعنی اے آر یو کی قانونی حیثیت اور اعلی عدلیہ کے ججز کی مبینہ جاسوسی جیسے سنگین نکات اٹھائے گئے تھے۔

اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئیں اور برطانیہ میں اپنی جائیدادوں کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کیں جس پر اُس دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت ان جائیدادوں سے متعلق ان کی طرف سے پیش کی جانے والی دستاویزات سے مطمن ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہلخانہ کے بارے میں کارروائی شروع ہونے سے پہلے حکومت کی طرف سے ایف بی آر کے چیئرمین کی تبدیلی کا معاملہ سوشل میڈیا میں زیر بحث ہے۔

حکام کے مطابق اگر ایف بی آر سرینا عیسیٰ کے جواب سے مطمئن نہ ہوا تو وہ انھیں اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تازہ نوٹسز بھی جاری کر سکتا ہے یا انھیں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14713 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp