اکتیس جہازوں کے لیے 434 پائلٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر ہوابازی کی جانب سے جاری کردہ بیان نے ہر طرف ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان میں کل 860 پائلٹس موجود ہیں جن میں سے 262 پائلٹس کی ڈگریاں مشکوک قرار پائی ہیں۔ ان 860 پائلٹس میں سے 434 پائلٹس پی۔ آئی۔ آئے سے منسلک تھے لیکن پھر اچانک کراچی کے ائربس A 320 سے بڑا دھماکہ ہو گیا، جس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق 144 مشکوک ڈگریاں پی۔ آئی۔ آئے میں پائی جاتی تھیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان کی قومی ائر لائن نے سال 2020 میں 34 جہازوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں سے 2 جہاز پارکڈ ہیں اور 1 ابھی آرڈر پر ہے۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ موجودہ دور میں صرف 31 جہاز قومی ائر لائن کے پاس ہیں جن کی خدمت کے لیے 434 پائلٹس تعینات تھے، جن کو ہر مہینے قومی خزانے میں سے ان کی تنخواہیں ارسال کر دی جاتی تھیں۔ اس سارے حساب کتاب کے مطابق، پاکستان میں تقریباً ہر 3 میں سے 1 پائلٹ کی ڈگری مشکوک بنتی ہے۔

یہاں پر سوالیہ نشان یہ بنتا ہے کہ کچھ سوچے سمجھے بغیر، محض دھڑا دھڑ لائسنس جاری کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟

اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ان پائلٹس کی غلطی ہے جن کے لائسنس مشکوک ہیں یا پھر ان پائلٹس کو لائسنس جاری کرنے والے اداروں کی؟

بی بی سی پر ہوابازی کے صنعت کے ماہر طاہر عمران لکھتے ہیں کہ : ”سن 2012 سے قبل یہ تمام پائلٹس، لائسنس کی بنیاد پر قابل اور درست تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب بھی ان کے پاس پاکستان سول ایوی ایشن کا جاری کردہ لائسنس موجود ہے جو کہ بالکل اصل اور مصدقہ ہے۔ مگر جس امتحان کے نتیجے میں جاری کیا گیا ہے اس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ تو اس جرم میں پائلٹس سے زیادہ سول ایوی ایشن اور خصوصاً اس کا لائسنسینگ کا شعبہ مشکوک ہے جس نے ان پائلٹس کو کسی بھی وجہ سے ان مبینہ طور پر امتحانات کے نتیجے میں لائسنس جاری کیے۔“

کاغذی تحریروں کے اندر ہمارے قواعد وشرائط بہت سخت اور کڑے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ایک پائلٹ بننے کے لیے ایک لمبا چوڑا طریقہ کار اپنانا پڑتا ہے، جس میں ایک انٹرمیڈیٹ کے طالب علم کو تحریری امتحان اور کم از کم 3 گھنٹے کا جہاز اڑانے کا تجربہ، ”سٹوڈنٹ لائسنس“ حاصل کرنے کے لیے ابتدائی طور پر چاہیے ہوتا ہے۔ اس کے بعد سول ایوی ایشن کی زیر نگرانی ”پرائیویٹ پائلٹ لائسنس“ جاری کرنے کے لیے 40 گھنٹے جہاز اڑانے کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔ تحریری طور پر، اس کے بعد آپ کو محض ذاتی جہاز اڑانے کی اجازت ملتی ہے، مسافروں والا جہاز اڑانے کی نہیں۔ اس کے بعد 200 گھنٹے جہاز اڑانے کا تجربہ اور ساتھ تقریباً 8 تحریری امتحانات کے بعد آپ کو ”کمرشل پائلٹ“ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

یہ تو تھی ساری کتابی رام کتھا! لیکن ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس لائسنس کے باوجود تب تک ایک پائلٹ کسی بھی ”ائر لائن ٹرانسپورٹ کا لائسنس“ حاصل کرنے کا روادار نہیں ہوتا ہے جب تک وہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کم و بیش 1500 گھنٹے جہاز اڑانے کا تجربہ اور مزید تقریباً آدھا درجن کے قریب تحریری امتحانات سے سرخرو نہ ہو جائے۔

اس سب کتابی علم کے ساتھ ساتھ ایک اور بات واضح رہے کہ جیسے ہماری کتابوں میں قواعد بہت دلکش ہوتے ہیں ویسے اصل زندگی میں نہیں ہوتے، جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدے کے مطابق، کراچی طیارہ حادثے کے لواحقین کو بیمے کی رقم کے طور پر ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے ملنے چاہیے لیکن اب تک پی۔ آئی۔ اے کی جانب سے 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ہمارے معاشرے میں تحریری اور عملی جامہ میں زمین آسمان کا فرق ہے، تو اگر یہ سالم 50 لاکھ بھی وقت پر مل جائیں تو غنیمت ہے۔

اگر ہم واقعی اس معاشرتی سرطان سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے ہر پہلو پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ایسا کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ ہمارے سامنے جعلی یا مشکوک ڈگریوں کے کیس سامنے آئے ہیں، ہر آئے دن ایسی ہی کوئی کہانی، نئے کرداروں کے ساتھ سننے کو ملتی ہے۔ میرے نزدیک پائلٹس کا احتساب لازم ہے، لیکن ان پائلٹس کو لائسنس جاری کرنے والے اداروں کی تفتیش بھی حق پر ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فاطمہ احسن کی دیگر تحریریں

Leave a Reply