مائنس ون یا مائنس بائیس کروڑ – مکمل کالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائنس ون فارمولے کا مطلب کیا ہے؟
یہی کہ سیاست کو مزید اسی راستے پر چلنا ہے جس کے آخری سرے پر کوئی روشنی نہیں۔ عمر رائگاں کا ماتم ہے جو ہر نسل کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔ وہی ٹکسال اور اس میں ڈھلنے والے کھوٹے سکے۔ پے در پے ناکام تجربات کے بعد اسی سانچے کا ایک بار پھر استعمال۔ دیوار پر لکھا ہے کہ مسئلہ سانچے کا ہے اور ہم ہیں کہ کھوٹے سکے ڈھالنے پر مصر ہیں۔

مائنس ون کیا ہے؟ یہ کہ نظام وہی رہے اور عمران خان اس کا حصہ نہ ہوں۔ اس مفروضے کو مان لیا جائے تو دو بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ کیا جوہری تبدیلی ہے، ہم جس کی توقع رکھتے ہیں؟ دوسرا یہ کہ یہ سب کیسے ہوگا؟ یہ کام کون سر انجام دے گا؟ کارکنان قضا و قدر یا کوئی خلائی مخلوق؟

عمران خان کی سیاسی اختراع کیا ہے؟ اس نظام میں وہ نئی بات کیا ہے جس کو متعارف کرانے کے باعث انہیں ہٹانا ضروری ہے؟ کیا خوئے انتقام اور مخالفین کو کچل دینے کی بے قابو آرزو جو ایک نفسیاتی عارضے میں ڈھل چکی؟ انتقام بھی ایک زمانے میں ہماری سیاست کا چلن رہا ہے۔ لیکن ایک دوسرے کے ہاتھوں پے در پے زخم کھانے کے بعد، روایتی اہل سیاست نے جان لیا تھا کہ یہ دائرے کا سفر ہے جس میں شکاری ایک دن خود شکار بن جاتا ہے۔

اہل سیاست اس سے تائب ہو گئے تھے۔ رویوں میں تدریجاً تبدیلی آ رہی تھی۔ دوسروں کو برداشت کرنے صلاحیت بہتر ہو رہی تھی۔ پیپلز پارٹی نے پانچ سال پورا کیے اور پیپلز پارٹی بھی نواز شریف کو گرانے کی کوشش کا حصہ نہیں بنی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں ٹی وی اینکر صدر آصف زرداری کی ہر روز توہین کرتے اور ان کی رخصتی کی خبر دیتے۔ اس کے باوجود میڈیا کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوئی۔ بھٹو صاحب کے دور میں پریس کی آزادی کو دیکھیں اور پھر اس کا موازنہ زرداری صاحب کے دور سے کریں تو ایک غیر معمولی تبدیلی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انتقام کی خواہش ایک جمہوری صبر میں تبدیل ہو گئی تھی۔

نواز لیگ کا دور بھی اس کا تسلسل تھا۔ ٹی وی چینل چوبیس گھنٹے دھرنے اور حکومت کو گرانے کے لیے وقف ہو گئے۔ اس کے باوجود میڈیا کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی ہوئی نہ دھرنے والوں کے خلاف۔ بجلی کے بل جلا کر عوام کو قانون شکنی کی عملی ترغیب دینے کے باوجود، عمران خان ایک دن جیل نہیں گئے۔ یہ سیاسی عمل بتا رہا تھا کہ سیاست سے انتقام ختم ہو رہا ہے۔ سیاست نے برداشت کرنا سیکھ لیا ہے۔

عمران خان نے آ کر اس انتقامی سیاست کو زندہ کر دیا۔ یوں ان کی اگر کوئی اختراع ہے تو وہ ماضی کی بدنام سیاست کو زندہ کرنا ہے۔ ان کی یہ خواہش بھی گہوارے ہی میں دم توڑ دیتی اگر یہی خواہش کہیں اور موجود نہ ہوتی۔ کچھ اور دلوں میں بھی نواز شریف کو انجام تک پہنچانے کی آرزو اسی طرح مچل رہی تھی۔ یوں سیاسی انتقام کے سوا، کوئی ایسی پیش رفت نہیں جو عمران کے کے نامہ اعمال میں درج ہو اور یوں انہیں ہٹانے سے ملک میں کوئی جوہری تبدیلی آ جائے گی؟

تو کیا معیشت کی بدحالی؟ اس میں بھی خان صاحب کی حیثیت شریک مجرم کی ہے۔ ان کو معیشت اور گورننس کی سمجھ کہاں تھی کہ خود کوئی فیصلہ کرتے؟ انہیں جو کہا گیا، وہ کرتے رہے۔ ان کو کسی نے وزیر خزانہ لا دیا تو انہوں نے رکھ لیا۔ کسی نے سیالکوٹ سے وزیر اطلاعات فراہم کر دی تو انہوں نے کابینہ میں بٹھا لیا۔ اب اگر کوئی ان کی کارکردگی کا ذمہ دار بھی تنہا انہیں ٹھہرائے تو اس کی سیاسی بصیرت مشتبہ ہے یا بصارت۔

کیا افغانستان کے بھارت جانے والے تجارتی قافلے خان صاحب کے حکم سے چلنے لگے ہیں؟ لے دے کر ایک بزدار صاحب ہیں، جب کا بوجھ تنہا خان صاحب کے کندھوں پر ہے۔ یہ بوجھ بھی اگرچہ کم نہیں لیکن اس کی ذمہ داری میں بھی وہ لوگ بالواسطہ شریک ہیں جنہوں نے خان صاحب کو حکومت سونپی اور فرض کیا کہ ان کی بصیرت قابل ہے۔ ظاہر ہے کچھ کام تو انہوں نے اپنی مرضی سے کرنا تھے۔

اب آئیے دوسرے سوال کی طرف۔ اگر مائنس ون فارمولہ استعمال ہوتا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہوگا؟ یہی کہ قومی اسمبلی ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئے یا ان سے اعتماد کے نئے ووٹ کا مطالبہ کیا جائے۔ یوں تحریک انصاف کے بعض لوگوں کی تائید سے، خان صاحب اس منصب سے محروم ہو جائیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سب کو خان صاحب کے خلاف مجتمع کون کرے گا؟ کیا وہی جنہوں نے چیرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنایا تھا؟ اگر اب بھی وہی کچھ ہونا ہے تو پھر مائنس ون سے کون سی تبدیلی آ جائے گی؟

وہ اہل سیاست بہت کوتاہ نظر ہوں گے تو جو اس عمل کا حصہ بنیں گے۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ بالکل واضح ہے۔ ہم نے امامت سازی کا ٹکسال تبدیل کرنا ہے جہاں کھوٹے سکے ڈھلتے ہیں۔ جمہوریت میں یہ صرف عوام کا ٹکسال ہے جہاں سکہ رائج الوقت ڈھل سکتا ہے۔ اس ٹکسال میں اگر کوئی کم قیمت نکل آئے تو بھی چل جاتا ہے کہ یہ استحقاق اسی کا ہے کہ وہ لیڈر بنائے۔ ہمارے ہاں نوٹ اور سکے صرف سٹیٹ بینک ہی چھاپ اور ڈھال سکتا ہے۔ افراط زر کے دنوں میں ان سکوں کی قدر کم ہو جا تی ہے لیکن انہیں کھوٹا کوئی نہیں کہتا کہ سکے بنانے کا قانونی اور اخلاقی استحقاق بینک دولت پاکستان ہی کو حاصل ہے۔

اہل سیاست کی حب عاجلہ نے پہلے بھی ان لوگوں کو تقویت پہنچائی ہے جو کھوٹے سکے چلاتے رہے ہیں۔ اس سلسلے کو اب رک جا نا چاہیے۔ سیاسی جماعتیں اس پر اتفاق کر لیں کہ تبدیلی کی صرف ایک صورت گورا ہے اور وہ عوام کا ووٹ ہے۔ جب تک عوام کو یہ حق نہیں ملتا، مائنس ون یا ٹو جیسے فارمولے صرف لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ عمران خان کے کاموں میں وہ سب شریک ہیں جو نو سال سے ان کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ سزا کے وقت عمران خان کو تنہا کر دیا جائے۔ اہل سیاست کو اعلان کر نا چاہیے کہ ہم سیاست میں کسی کو ڈاکٹر عبد القدیر نہیں بننے دیں گے۔

اہل سیاست کے پاس صرف دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عوامی سطح پر نئے اور آزادانہ انتخابات کے لیے یک سوئی پیدا کریں۔ اگر وہ یہ نہیں کر سکتے تو 2023 ء کا انتظار کریں جب عام انتخابات ہونے ہیں۔ اس دوران میں ملک اور عوام کے ساتھ جو ہوگا، اس کو سب مل کر صبر شکر کے ساتھ برداشت کریں۔ آخر کورونا کو بھی برداشت کر رہے ہیں۔ وقت گزارنے کے لیے خواجہ آصف تاش کھیلیں اور احسن اقبال دعائیہ مجالس برپا کریں۔ شہباز شریف چاہیں تو قرنطینہ میں محفل میلاد کا انعقاد کر سکتے ہیں کہ بلائیں ٹالنے کے لیے ان کے خاندان میں یہی طریقہ رائج ہے۔

یہ تجزیہ اس مفروضہ کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے کہ عمران خان کا متبادل تلاش کیا جا رہا ہے۔ میری اپنی رائے اس سے مختلف ہے۔ مقتدرہ جانتی ہے کہ عمران خان کو تنہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو بہرحال دو سالہ کارکردگی کی ذمہ داری قبول کرنی ہے۔ جیسے ہی خان صاحب فارغ ہوں گے یہ بات گلی بازار کا موضوع بن جائے گی۔ اس کو کیا پڑی کہ سامنے کھڑی ایک دیوار ہٹا دے جب کہ اس کو ہٹانے کے لیے اس پر کوئی دباؤ بھی نہیں۔ قرنطینہ میں بیٹھنے والی اپوزیشن میں دباؤ ڈالنے کی صلاحیت نہیں ہو تی۔ رہا عوام کا اضطراب تو وہ اسی وقت بامعنی ہو سکتا ہے جب اس کو زبان دینے والے اپوزیشن مو جود ہو۔
لہذا اس حکومت اور اپوزیشن کی موجودگی میں قوم مائنس ون نہیں، مائنس بائیس کروڑ کا سوچے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *