کورونا وائرس: چین کی معیشت کے شرح نمو میں اضافہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین

Getty Images

چین کی معیشت میں ریکارڈ کمی کے بعد دوسری سہہ ماہی میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت کو اس سال کے پہلے تین مہینوں میں کورونا وائرس کی وجہ سے شدید تنزلی کا سامنا تھا۔

لیکن بدھ کے روز جاری ہونے والے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اپریل سے جون کے مہینوں کے دوران چین کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی) میں بہتری آئی ہے۔

چین کی معیشت کے دوبارہ متحرک ہونے کے بعد ان اعداد و شمار کو دنیا بھر میں انتہائی باریکی سے دیکھا جا رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار ماہرین کی پیشینگوئی سے زیادہ ہیں اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ چین تکنیکی اعتبار سے مندی میں جانے سے بچ گیا ہے، جس کی نشاندہی مسلسل دو ادوار میں پیداوار کی منفی شرح سے ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا لائیو سٹریمنگ چینی معیشت کو بچا سکے گی؟

کورونا وائرس: عالمی معیشت کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟

چینی معیشت میں سست روی عالمی معیشت کے لیے خطرہ

چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر لگائی گئی سخت پابندیوں کی وجہ سے فیکٹریاں اور کاروبار بند کر دیے گئے تھے۔ اب حکومت معیشت کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس میں نرمی جیسے اقدامات کر رہی ہے۔


تجزیہ: ماریکو اوئی، بی بی سی نیوز، سنگاپور

چینی معیشت لاک ڈاؤن سے باہر آنے کے بعد توقع سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ سامنے آئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ حکام کے اعلان کردہ تمام اقدامات فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔ فیکٹریوں میں بڑھتا کام، صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار میں اضافے کا واضح ثبوت ہے۔

لیکن ایک ایسا شعبہ جو اتنی تیزی سے بحال نہیں ہوا، جتنی امید کی جا رہی تھی، وہ خرید و فروخت کا ہے۔ یہ شعبہ دوسری سہہ ماہی کے دوران بھی تنزلی کا شکار ہے اور لوگوں کا دوبارہ پیسے خرچ کرنا ایک چیلنج ہی رہے گا۔

اور اب جب چین میں معیشت بحال ہونے لگی ہے تو ہانگ کانگ کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تناؤ بھی بڑھنے لگا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ ماہر معاشیات اسے ’وی ریکوری‘ کہنے میں ہچکچا رہے ہیں۔


ڈوئچے بینک کے ایک تحقیقاتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’وی ریکوری‘(تیزی سے کمی کے بعد تیزی سے بحالی) کو ‘بڑے پیمانے پر مکمل کر لیا گیا ہے۔

اس نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’صارفین کی طرف سے پیسہ خرچ کرنے کی سطح اب بھی کووڈ 19 سے پہلے کے وقت سے کم ہے لیکن یہ بڑا خلا، سیاحت اور کھانے پینے جیسے کچھ سیکٹرز کے گرد مرکوز ہے، جہاں تیزی سے بہتری آنے کا امکان نہیں۔‘

مئی میں چین نے کہا تھا کہ وہ سنہ 2020 کے لیے معاشی ترقی کا کوئی ہدف طے نہیں کرے گا کیونکہ اس برس کورونا وائرس کے وبائی مرض سے نمٹا گیا ہے۔

یہ سنہ 1990 کے بعد پہلی بار ہے کہ بیجنگ نے جی ڈی پی کی شرح نمو کا کوئی ہدف نہیں رکھا۔ چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کے مطابق اس برس کے پہلے چھ ماہ میں ملک کی معیشت 1.6 فیصد تک گر گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14690 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp