سفرنامہ کابل، دارالامان میں باچا خاں سے ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ جو کہتے ہیں، خدا شکر خورے کو شکر دیتا ہے۔ مختصر سی ذاتی لائبریری میں کام کی بیشتر کتابیں لاک ڈائون کے دوران پڑھ ڈالیں اور اب ‘ھل من مزید‘ والا معاملہ تھا کہ ڈاک کے ذریعے کچھ نئی کتابیں موصول ہوگئیں۔ ان میں ڈاکٹر صفدر محمود اور جاوید ظفر کی مشترکہ تصنیف Introducing founders of Pakistan بھی تھی۔ ڈاکٹر جاوید احمد صادق نے سید ابوالاعلی مودودی پر اپنے والد محترم لالہ صحرائی (مرحوم) کے مضامین کا مجموعہ ”نور منارہ‘‘ بھجوایا تھا۔
پنجاب یونیورسٹی شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اپنے سفر نامہ ترکی ”دیارِ شمس‘‘ اور ڈاکٹر جمیل جالبی کی شخصیت اور گراں قدر علمی و ادبی خدمات پر مشتمل ”ارمغان جمیل‘‘ کے علاوہ ”بازیافت‘‘ کے تازہ شمارے سے نوازا۔ ”بازیافت‘‘ شعبہ اردو کا عالمی معیار کا ششماہی مجلہ ہے۔
یاسر پیرزادہ نے اپنی کتاب ”بیانیے کی جنگ‘‘ اور سلمان عابد نے ”دہشت گردی، ایک فکری مطالعہ‘‘ عطیہ کی۔ ظاہر ہے، یہ دونوں کتابیں حساس موضوعات پر ایک خاص نقطہ نظر کی ترجمان ہیں۔ آج صبح وفاقی محتسب کی 2019 کی سالانہ رپورٹ موصول ہوئی۔ اکھاڑ پچھاڑ کے اس دور میں‘ سید طاہر شہباز خوش قسمت ہیں کہ21 جولائی2017 سے تاحال وفاقی محتسب کے منصب پر قائم دائم ہیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید نیشنل بک فائونڈیشن کی چیئرمینی کے بعد اب یہاں پبلسٹی اور پبلشنگ کے ایڈوائزر ہیں۔
ہم نے ”بازیافت‘‘ کی چھان پھٹک شروع کی۔ سیاسیات اور تاریخ کے علاوہ سفرنامہ بھی ہماری پسندیدہ صنف ہے۔ ”بازیافت‘‘ میں کابل میں پروفیسر آل احمد سرور کے ایک ہفتہ قیام کی روداد خاصی دلچسپ ہے‘ جسے ہمارے ماہر اقبالیات ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے مدون کیا ہے۔ آل احمد سرور بھارت کے نامور ادیب، نقاد اور اقبال شناس تھے۔ مختلف ملکوں میں علمی و ادبی مذاکروں میں شرکت کی۔ جون 1966 میں کابل میں ایک بین الاقوامی سیمینار میں شریک ہوئے۔ ہفتہ بھر کے قیام کی کہانی سے کچھ دلچسپ سطور:
اس سیمینار میں ایران، افغانستان، پاکستان، تاجکستان اور ہندوستان کے نمائندے شریک ہوئے۔ ہندوستان کو دعوت صرف چند دن پہلے ملی۔ ہمارے سفیر نے کابل سے لکھا کہ ہندوستان سے 2 نمائندے ضرور بھیجے جائیں۔ ہم تقریباً 18 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے سوا تین گھنٹے میں کابل پہنچ گئے۔ کابل میں موسم دہلی اور علی گڑھ کے مقابلے میں خوشگوار تھا۔
سڑکیں نہایت چوڑی، عمارتیں جدید طرز کی۔ کابل ہوٹل سرکاری ہے اور وہاں مغربی معیار کے مطابق ہر آسائش موجود ہے۔ ہم لوگ سامان رکھ کر سفارت خانے گئے۔ سفیر جنرل تھاپر ہندوستانی افواج کے کمانڈر انچیف رہ چکے تھے لیکن نہایت کامیاب ڈپلومیٹ بھی ہیں۔ ہم لوگوں سے تقریباً آدھا گھنٹہ بڑی محبت اور بے تکلفی سے باتیں کرتے رہے۔ دوپہر کا کھانا ہم نے سفارت خانے کے فرسٹ سیکرٹری مسٹر ورما کے ساتھ کھایا۔ کئی اور ہندوستانی اصحاب بھی موجود تھے۔ مسٹر ورما مہاراشٹر کے ہیں۔ فارسی بھی خوب بولتے ہیں۔
ساڑھے نو بجے کے قریب باغ بالا پہنچے، چڑھائی پر ایک خوبصورت عمارت میں بڑا شاندار ڈنر تھا۔ بلا مبالغہ ڈیڑھ سو سے کم لوگ نہ تھے۔ میز کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک درجنوں کھانے تھے۔ خوبانیاں، آڑو، گلاس (چیری) آلوچے بہ کثرت تھے۔ کچھ لوگ اردو جاننے والے بھی مل گئے۔ ایک افغان لڑکی نے خاصی صاف اردو میں کہا کہ مجھے اردو بہت پسند ہے۔ میں نے پوچھا: کہاں سیکھی؟ بولی: پاکستان میں۔
20 جون کو صبح سیمینار شروع ہونا تھا۔ ہوٹل کے قریب ہی پختون سکوائر پر پختونستان کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ فٹ پاتھ پر کچھ افغان بلیڈ بیچ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر لطف آیا کہ بلیڈ کو یہ لوگ تیغ کہتے ہیں۔ رات کو حامد علی خاں اور پروفیسر ڈاکٹر عبدالشکور احسن سے ملاقات ہو چکی تھی۔ حامد علی خاں ‘ہمایوں‘ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں، مولانا ظفر علی خاں کے بھائی ہیں۔ بڑے کہنہ مشق ادیب اور زندہ دل آدمی ہیں۔ عبدالشکور احسن پنجاب یونیورسٹی اورینٹیل کالج میں صدر شعبہ فارسی اور ڈین آف فیکلٹی کے مناصب پر فائز رہے۔ عندلیب شادانی کی آمد بھی متوقع تھی مگر وہ کسی وجہ سے نہ آسکے۔
پہلے دن ہم کابل میوزیم گئے، میوزیم بہت بڑا نہیں مگر اس میں آثار قدیمہ بڑے سلیقے سے فراہم کئے گئے ہیں اور افغانستان کی تقریباً چار ہزار سال کی تاریخ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ میں نے یہاں بدھ مذہب اور یونانی فتوحات کے گہرے اثرات دیکھے۔ کابل میوزیم سے ہم بادشاہ خان (خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خاں) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ قریب ہی دارالامان میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ بادشاہ خان کی صحت پہلے سے بہت بہتر ہے۔ ہم لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ میں نے سب سے پہلے 1930 میں انہیں علی گڑھ میں دیکھا تھا۔ پٹھانوں کے لہجے میں اردو بول رہے تھے۔
تقریر تو معمولی تھی مگر ہر لفظ سے خلوص اور گداز ٹپکتا تھا۔ اس لئے اس کا سبھی پر اثر ہوا تھا۔ اس بات پر افسوس کا اظہار کررہے تھے کہ ہندوستان نے پٹھانوں سے جو وعدے کئے تھے، انہیں وہ بھولتا جا رہا ہے۔ بادشاہ خاں نے صاف کہا کہ ان کی تحریک ایک اصلاحی تحریک ہے۔ انگریزوں نے اس کے سیاسی امکانات کی وجہ سے اسے کچلنا چاہا۔ انہوں نے اپنی نظر بندی کے زمانے میں اردو میں اپنی سوانح عمری لکھی تھی‘ اسے ضبط کر لیا گیا‘ اب وہ دوبارہ اسے لکھنا چاہتے ہیں۔
ہم لوگ باتیں کر ہی رہے تھے کہ تین نوجوان پختون ان کے پاس آئے۔ جس عقیدت سے وہ بادشاہ خاں کو دیکھ رہے تھے اس سے اندازہ ہوا کہ بادشاہ خان کے کارکن اور خدائی خدمت گار ہوں گے۔ بادشاہ خان کو اس بات کا بہت رنج تھا کہ لوگ مذہب کے نام پر خون بہاتے ہیں اور فساد کرتے ہیں حالانکہ مذہب انسانوں کو قریب لانے والا ہے‘ جدا کرنے والا نہیں۔
رات کو کہیں نہ کہیں دعوت ہوتی تھی۔ ایک شب کھانا یونس کے یہاں اور دوسری شب جوہری کے یہاں کھایا۔ جوہری کی بیوی کو اردو شاعری سے بڑی دلچسپی ہے۔ انہوں نے میری ایک نظم اور ایک غزل ریکارڈ کی۔
قرغہ، کابل کی ایک سیرگاہ ہے۔ شہر سے قریباً دس میل کے فاصلے پر ایک مصنوعی جھیل ہے۔ چاروں طرف سرسبز پہاڑیاں ہیں۔ جھیل کے کنارے ایک خوبصورت ریستوران ہے۔ یہاں یورپی سیاح اور افغان خاصی تعداد میں موجود تھے۔ کچھ تیر رہے تھے، کچھ چائے یا کافی پی رہے تھے۔
یونس نے بتایا کہ پہاڑیاں بے آب و گیاہ معلوم ہوتی ہیں، لیکن جہاں پانی پہنچ جاتا ہے، وہاں خاصی ہریالی ہوتی ہے۔ ان سے افغانستان کی ترقی کے متعلق معلومات حاصل کیں، پتا چلا کہ افغانستان کو روس، امریکہ، جرمنی، انگلستان سبھی ممالک امداد دیتے ہیں۔ افغان اتنے پختہ کار ہو گئے ہیں کہ سب سے دوستی رکھتے ہیں۔ ہندوستان سے زیادہ تر چائے اور کپڑا آتا ہے، یہاں سے خشک اور ترمیوہ جاتا ہے۔ شہر میں نئی عمارتیں تیزی سے بن رہی ہیں۔ شہر میں نئی سڑکیں بن رہی ہیں۔
کابل کے بازاروں میں بھی گھومنے پھرنے کا اتفاق ہوا۔ دکانوں میں اونی اور سوتی کپڑے، بجلی کا سامان اور عورتوں کی آرائش کی چیزوں کی بہتات نظر آئی۔ سیاحوں کے لیے جو بڑی دکانیں ہیں، ان میں قیمتیں خاصی گراں ہیں مگر بازار میں پھریں اور چھوٹی دکانوں پر جائیں تو خاصی سستی چیزیں مل جاتی ہیں۔ جابجا ہندوستانی دکاندار نظر آئے۔ کابل کے بازاروں میں اردو سمجھنے والے خاصی تعداد میں مل جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی عام حالت اور علی گڑھ کے متعلق بھی سوالات کئے۔
علی گڑھ سے افغانوں کو خاصا لگائو محسوس ہوتا ہے۔ افغان بہت مہمان نواز ہیں: ہر شخص کی کوشش تھی کہ خاطر مدارت میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا جائے۔ یژواک نے مجھ سے کہا کہ ہمارا ملک بہت مالدار نہیں، مگر محبت کی دولت سے ہم مالا مال ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply