سرمایہ داری بربریت، سوشلزم بقائے انسانیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے انسانی محنت کے استحصال کا آغاز ہوا تب سے سماج طبقات میں بٹنا شروع ہوا۔ جس قدر انسانی محنت کے استحصال میں شدت آتی گئی اسی قدر طبقاتی تفاوت میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آج اگر پوری دنیا کی دولت اور اس کی تقسیم پر ایک نظر ڈالی جائے تو اندھے کو بھی نظر آ جائے کہ کس طرح مخص ایک فیصد لوگ دنیا کی 90 فیصد سے زائد دولت پر ناجائز طور پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں جبکہ 99 فیصد لوگ 10 فیصد دولت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

دولت کی اس غیر منضفانہ اور استحصالی تقسیم کی بنیاد منافع اور شرح منافع کے عنصر پر قائم، مروجہ سرمایہ دارانہ معاشی نظام اور اس کی نیولبرل ازم کی معاشی پالیسیاں ہیں۔ یہ نظام زر ایک ایسا معاشی نظام ہے جو ایک خاص انداز میں انسانی محنت کا استحصال کرتا ہے یعنی بقول کارل مارکس ”قدر زائد“ پیدا کرتا ہے۔ ”قدر زائد“ ہی وہ بنیادی عنصر ہے جس کے ذریعے سرمایہ دار طبقہ اپنے منافعوں اور دولت میں مسلسل اضافہ کرتا ہے جبکہ محنت کشوں اور مزدوروں کو بس اتنی اجرت دے دی جاتی ہے جس سے وہ جسم اور روح کا تعلق بحال رکھ سکیں تاکہ اگلے روز دوبارہ ان کی محنت کا استحصال کیا جاسکے۔

(گو کہ سرمایہ داری نے ذرائع پیداوار کی جدت سے بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت اور بالخصوص بڑھتے ہوئے استحصال اور جنم لینے والی بے روزگاروں کی فوج سے اپنے اس اصول کو بھی ترک کر دیا ہے۔ اب تو مزدور کو دی جانے والی اجرت سے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو گیا ہے ) ۔ بہرحال عمومی پیرائے میں محنت کے استحصال، دولت کی غیر منضفانہ تقسیم اور امارت و غربت میں اضافے کے اس بھیانک کھیل کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ داری کے پیداواری عمل کو سمجھا جائے۔

فرض کریں کسی جوتے بنانے والی فیکٹری میں ایک مزدور دن میں پانچ جوڑے جوتے تیار کرتا ہے۔ سرمایہ داری میں اجرت کے قانون کے تحت پانچ جوڑے جوتے تیار کرنے کے عوض اسے محض ایک جوڑا جوتا تیار کرنے کی اجرت دی جاتی ہے جبکہ دیگر چار جوڑے جوتے وہ سرمایہ دار کے لیے ”قدر زائد“ پیدا کرتا ہے اور ان چار جوڑے جوتوں پر جو محنت سرف ہوتی ہے اس کی اجرت مزدور کو ادا نہیں کی جاتی یہی محنت کا حقیقی استحصال ہے، جس کی بنیاد پر سرمایہ داروں کے منافعوں اور دولت میں بے پناہ اضافہ تو ہوتا ہی ہے جبکہ مزدور کو اس کی محنت کے مساوی اجرت ادا نہیں کی جاتی۔ یوں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا شروع ہو جاتی ہے جبکہ اکثریت کی زندگیاں خط غربت کی انتہائی دلدل میں دھنسنا شروع ہو جاتیں ہیں۔

ایک طرف تو سرمایہ و محنت یا سرمایہ دار اور مزدور کا تضاد نظر آتا ہے تو دوسری طرف جسمانی اور ذہنی محنت کی بنیادی پر مینیجرز اور مزدوروں کی اجرتوں کا تضاد نظر اتا ہے۔ بلوم برگ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں گزشتہ 40 سالوں کے دوران افسروں یعنی مینیجرز اور سی ای او CEO کی تنخواہوں میں 900 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی عرصے کے دوران عام محنت کشوں اور مزدوروں کی تنخواہوں میں فقط 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف یہی ایک عمل ہی اس نظام معیشت کے طبقاتی کردار کی مکمل تصویر پیش کرنے کے لئے کافی ہے اور ساتھ ہی کارل مارکس کے جدلیاتی مادیت کی بنیاد پر کیے جانے والے نظام سرمایہ داری کے درست تجزیے کی بھی صداقت بیان کر رہا ہے۔

کارل مارکس نے سرمایہ داری کے طبقاتی و استحصالی کردار اور اس کے ناگزیر نتائج اور فطری و مادی بحرانات کی جو وضاحت ڈیڑھ صدی پہلے کی تھی آج دنیا کے ہر کونے میں وہ حقیقت کے روپ میں درست اور سچ ثابت ہو رہی ہے۔

اسی حقیقت کا ادراک حاصل کرتے ہوئے 1917 ء میں روس جیسے پسماندہ خطے کے محنت کشوں، کسانوں اور نوجوانوں نے ایک متبادل معاشی و سماجی نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے سوشلسٹ اور منصوبہ بند اقدامات اٹھائے تھے۔ اس معاشی، سیاسی اور سماجی انقلاب نے پیداواری عمل سے منافع کے عنصر کا خاتمہ کرتے ہوئے پیداوار کے مقصد کو انسانی ضروریات کی تکمیل سے جوڑا تھا۔ منافع کے عنصر کا خاتمہ اور انسانی ضروریات کی تکمیل کی غرض سے جس معاشی و سماجی منصوبہ بندی کی بنیاد رکھی گئی تھی اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار محنت کشوں کی محنت کا برابر صلہ دیتے ہوئے سماج میں موجود طبقاتی تفریق کو بڑی حد تک ختم کرتے ہوئے انہیں باوقار زندگی گزارنے کا حقیقی موقع فراہم کیا تھا۔

بدقسمتی سے ایک ملک میں سوشلزم کی تکمیل کا قوم پرستانہ نظریہ اور افسرشاہانہ طرز حکومت سوویت یونین کے انہدام کی اہم وجوہات بنیں اور یہ عوامل منصوبہ بند معیشت سے ایک بار پھر سرمایہ داری کی بحالی کی راہ ہموار ہونے کا سبب بنے۔ گو کہ اس ناکامی پر الگ سے ایک مکمل بحث کی ضرورت ہے لیکن سوویت یونین کے انہدام سے سرمایہ دار طبقہ کو محنت کشوں پر اپنے معاشی حملے تیز کرنے کا اہم جواز ملا۔ جس کے سامنے سرمایہ دارانہ نظام کی حدود و قیود میں رہ کر اصلاحات کرنے کی خواہاں سوشل ڈیموکریسی بھی ناکامی سے دوچار ہوتی نظر آئی اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ بھی نیولبرل معاشی پالیسیوں کے سامنے کوئی سنجیدہ مزاحمت کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔

انھی وجوہات کے باعث دنیا پچھلی کئی دہائیوں سے نیو لبرل ازم کے تحت رد اصلاحات کے ایک جارخانہ عہد سے گزر رہی ہے۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد 1992 ء سے سرمایہ داروں کے دم چھلا اور گماشتہ معیشت دانوں، تجزیہ نگاروں اور دانشوروں کی طرف سے سوشلزم کی ناکامی اور مارکسزم کے نظریات کے خلاف طوفانی پروپیگنڈا جاری کیا گیا۔ اس پروپیگنڈا کی سب سے بڑی توپ دائیں بازو کا امریکی نظریہ دان ”فرانسس فوکویاما“ تھا جس نے 1992 ء میں ”تاریخ کے خاتمے“ کا غیر سائنسی اور غیر جدلیاتی تھیسیس پیش کرتے ہوئے سوشلزم کو ایک ناکام نظام ظاہر کرتے ہوئے سرمایہ داری کو ہی انسانیت کا حتمی مستقبل قرار دیا۔

لیکن نیولبرل ازم کے شدید ترین معاشی حملوں کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور طبقاتی خلیج نے فوکویاما کو بھی مجبور کیا کہ وہ اپنے ماضی کے تھیسس کو غلط قرار دے اور اسی بنیاد پر کچھ عرصہ پہلے فوکویاما نے ایک عالمی کانفرنس سے خطاب کے دوران ”تاریخ کے خاتمے“ کے اپنے تھیسس کو غلط قرار دیتے ہوئے سرمایہ داری کی مخالفت اور سوشلزم کی حمایت میں بات کی اور کہا کہ آج کے عہد میں سوشلزم یا منصوبہ بند معیشت ہی وہ متبادل معاشی و سماجی نظام ہے جو عدم مساوات، طبقاتی تفاوت، استحصال اور بیروزگاری کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

یقیناً فوکویاما تین دہائیوں بعد درست تجزیہ کرنے میں کامیاب ہوا ہے، مگر اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سرمایہ داری نے از خود خاتمے کی طرف نہیں جانا بلکہ محنت کش طبقے کی طاقت اور شعوری مداخلت ہی اس کو شکست دے سکتی ہے۔ سرمایہ داری کے خاتمے میں جتنی تاخیر ہو رہی ہے یہ نظام کرہ ارض پر اتنی ہی بربریت پھیلا رہا ہے۔ لہذا اس منظم استحصالی نظام کو ایک منظم طاقت کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے اور یقیناً وہ طاقت وہی ہو سکتی ہے جو اس نظام کی قوت محرکہ ہو یعنی دنیا کی سب سے عظیم طاقت ”محنت کی طاقت“ ۔

آج کے عہد میں محنت کش طبقہ ہی وہ فیصلہ کن قوت ہے جو اس نظام کا پہیہ گھوما رہی ہے۔ یہی قوت اس نظام کا چلتا پہیہ روکنے کی تاریخی اور مادی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نظام کے حتمی خاتمے کے بعد ایک منضفانہ اور استحصال سے پاک معاشی نظام کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت بھی محنت کش طبقے کے ہاتھ میں ہی ہے۔ گو کہ آج یہ طاقت بکھری ہوئی، منتشر اور کمزور دکھائی دے رہی ہے مگر پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ اسی فیصلہ کن طاقت نے غلامی داری، جاگیرداری اور سرمایہ داری کو ماضی میں بھی شکست سے دو چار کیا تھا۔

یقین محکم کہ مستقبل میں بھی یہ عظیم اور تاریخی طاقت یکجا و متحد ہوتے ہوئے ایک نئے نظام، ایک نئی دنیا کی بنیاد رکھے گی جہاں انسان روزمرہ کی خوراک، صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور دیگر تمام بنیادی انسانی ضروریات کی تکمیل کی انفرادی جدوجہد سے نکل کر اجتماعی طور پر تسخیر کائنات کے سفر کی طرف بڑھے گا۔ مروجہ نظام کے خاتمے اور ایک نئے نظام کی بنیاد رکھنے کا نظریہ اور جدوجہد کوئی دیوانے کا خواب نہیں بلکہ تاریخی، فطری اور سائنسی سچائی ہے۔

اگر یہ سچائی اور حقیقت نا ہوتی تو پھر آج بھی انسان جنگلوں اور غاروں میں ہی آباد رہتا۔ اگر انسان اپنی اجتماعی محنت کی بنیاد پر آج کے ڈیجیٹل دور تک پہنچ سکتا ہے تو یقیناً اس نے یہاں رک نہیں جانا اس نے یا تو انقلاب کے ذریعے آگے بڑھنا ہے یا تنزیلی کے باعث بربریت کا شکار ہو جانا ہے۔ آج سرمایہ داری کے برقرار رکھنے کا راستہ یقیناً بربریت کا راستہ ہے جبکہ بقا کی ضمانت صرف سوشلزم میں ہی ممکن ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments