خوشونت سنگھ اور ہڈالی کا شالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر مٹی کی اپنی کشش ہوتی ہے جو دل کے اندر مہکتی رہتی ہے مسافر کو اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ شالی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ وہ بھی ایک مٹی کی مہک کا اسیر ہو گیا تھا جو اس کے رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی۔ نام تو اس کا خوشحال سنگھ تھا لیکن گھر والے اسے پیار سے شالی کہتے تھے۔ شالی پنجاب کے ایک شہر خوشاب کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں ہڈالی میں پیدا ہوا تھا۔ لاہور راولپنڈی کی موٹروے پر للہ انٹرچینج سے خوشاب کی طرف جائیں تو ہڈالی کا سفر سوا گھنٹے کا ہوگا۔

 یہ 1915 ء کی بات ہے ’ابھی ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوئی تھی‘ شالی ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے ماں باپ کی گاؤں میں بہت بڑی حویلی تھی۔ بھینسوں کا ایک باڑہ تھا۔ اپنا کنواں تھا۔ ان کا شمار گاؤں کے امیرترین گھرانوں میں ہوتا تھا۔ گاؤں کی اکثریت مسلمانوں کی تھی اورسکھوں کے گھر بہت تھوڑے تھے ’لیکن گاؤں میں بھائی چار ے کا رواج تھا۔ پنجاب کے گاؤں میں رواج ہے غیروں کو بھی چاچا‘ چاچی ’ماموں‘ مامی ’خالہ‘ پھوپھی کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

 شالی کے دادا اور والد کاروبار کرتے تھے۔ اس زمانے میں وہ کھیوڑہ سے نمک کے بڑے ڈھیلے اور کھجوری اونٹوں پر لاد کر لاہور اور امرتسر کی منڈیوں میں فروخت کرتے اور وہاں سے گرم مصالحے ’چائے‘ چینی اور مٹی کا تیل لے کر واپس آتے اور مقامی منڈیوں میں بیچ دیتے۔ پھر شالی کے والد اور دادا نے تعمیراتی کاموں کے ٹھیکے لینا شروع کر دیے اور ہڈالی سے دہلی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ’لیکن شالی کی دادی کو ہڈالی سے پیار تھا اور دادی کے ساتھ شالی کی جان بندھی تھی۔

 یوں شالی کے والد اس کی ماں اور دوسرے بھائی کو لے کر دہلی چلے گئے‘ اور شالی اور اس کی دادی کوان کی خواہش پر ہڈالی رہنے دیا۔ اس دوران اس کے والد تواتر سے ہڈالی آتے جاتے رہتے تھے۔ شالی کو گاؤں کے دھرم شالہ سکول میں داخل کرایا گیا جہاں باقی چیزیں تو ٹھیک تھیں لیکن سکول کے بچے اسے ”شالی شُولی گاؤں کی مُولی“ کہہ کر چھیڑتے تھے۔ تب شالی نے سوچا ’وہ اپنا نام خوشحال سنگھ سے بدل کر خوشونت سنگھ رکھ لے گا۔

 یہ نام اس کے بھائی بھگونت سنگھ سے ملتا جلتا بھی تھا۔ اس وقت کسے خبر تھی ہڈالی کا شالی بڑے ہوکر خوشونت سنگھ کے رُوپ میں نام کمائے گا۔ وکالت‘ صحافت اور ادب کے میدان میں شہرت کی بلندیوں کو چھو لے گا ’لیکن یہ توبعد کی باتیں ہیں۔ اس وقت وہ اپنی دادی کا لاڈلا شالی تھا جوپنجاب کے ہڈالی گاؤں کی کھلی فضاؤں میں آزاد بادلوں کی طرح دوڑتا پھرتا تھا۔ یہ 1915 ء کا ہڈالی تھا۔ اس زمانے میں گاؤں میں پتھروں اور گارے سے بنے ہوئے گھر ہوتے تھے۔

 سردیوں میں خوب سردی پڑتی اور گرمیوں میں ایسی گرمی کہ الاماں۔ گاؤں کی گلیوں کی تپتی ہوئی ریت پروہ ننگے پاؤں دوڑتا رہتا۔ اس کی دادی کو اپنے شالی سے عشق تھا۔ وہ ہرروز اس کو دھرم شالہ لے کر جاتی۔ دادی کے دوپٹے میں گھر کی تندوری میں پکی رات کی روٹیاں ہوتیں۔ وہ اپنی تختی دھوتا‘ پھر گاچی لگا کر خشک کرتا اور دادی کی انگلی پکڑکر سکول روانہ ہوجاتا۔ خوشونت سنگھ کو یاد ہے کہ کیسے وہ سکول میں بلند آواز سے پہاڑے یاد کرتے تھے اور کیسے استاد سبق پڑھاتے تھے۔

خوشونت سنگھ کو یہ بھی یاد ہے کہ کیسے اس کی دادی منہ اندھیرے اُٹھ جاتی ’مذہبی رسومات سے اپنے دن کا آغاز کرتی‘ پھر گاؤں کے رواج کے مطابق دہی میں مدھانی چلاتی حتیٰ کہ مکھن دودھ کی سطح پر آجاتا۔ اسے یاد ہے شام کو گاؤں کے ہر گھر میں بنی تندوریوں میں آگ دہک رہی ہوتی اور عورتیں روٹیاں لگا رہی ہوتیں۔ پنجاب کی خالص بھورے رنگ کی گندم کی اپنی مہک ہوتی تھی جو اسے بہت اچھی لگتی۔ بالکل ایسے ہی جب تیز گرمی کے بعد اچانک بادل گھِر کر آتے اور مینہ برستا تو گاؤں کی مٹی سے ایک مہک اٹھتی۔

 وہ ہڈالی کی مٹی کی اُس مہک کوکبھی نہیں بھول سکا۔ گاؤں میں رات جلدی شروع ہوجاتی تھی۔ ہر گھر میں چراغ سرِشام جَل اُٹھتے تھے۔ حویلی کی چھت پر چارپائیاں بچھائی جاتیں اور ان پر سفید چادریں۔ یہ پنجاب کے گاؤں کا مانوس منظر ہے۔ اگرآپ نے گلزار کی فلم ”موسم“ دیکھی ہو تو اس میں گلزار کے ایک گیت ”دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن“ کی سطریں کچھ اس طرح سے ہیں ”یا گرمیوں کی رات کو پُروائیاں چلیں ’ٹھنڈی سفید چادروں پر جاگیں دیر تک‘ تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے“ کیسی عجیب بات ہے گلزار جو پاکستان کے شہر دینہ میں پیدا ہوا اور بعد میں بالی ووڈ انڈسٹری میں بطور فلم ساز اور نغمہ نگار نام کمایا ’اپنے آبائی گھر دینہ اور اس کے شام و سحر کو نہیں کبھی بھول سکا۔

خوشونت سنگھ کو ہمیشہ یاد رہا کہ ہنڈالی میں رات کو کیسی ٹھنڈی ہوا چلتی تھی۔ اس ہوا میں اس کے گھر میں لگے چنبیلی اور موتیے کے پھولوں کی مہک شامل ہو جاتی تھی۔ وہ رات کو بستر پرلیٹتا تو دادی اسے کہانی سُناتی تھی اورکہانی سنتے سنتے اسے نیند آجاتی تھی۔ ہڈالی میں کبھی کبھی تیزہوا چلتی تو ریت کے بگُولے چکر لگاتے ہوئے آسمان کی طرف اٹھتے اور تیز آندھی میں اسے یوں لگتا وہ اسے اُڑا کرلے جائے گی۔ ایسے میں اس کی دادی نے بتایا تھا کہ زمین سے چپک کر بیٹھ جاؤ اوراپنی آنکھیں بند کرلو ’اور وہ ایساہی کرتا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی اسے گاؤں کے سب درختوں کے ناموں کا پتہ تھا۔ گاؤں میں گندم‘ گنے اور تمباکو کی کاشت ہوتی۔

گنے کی فصل کی کٹائی کے بعد جب اس کا رس نکالا جاتا ہے اور بڑے سے کڑاہ میں رس ڈال کر اس کے نیچے لکڑیوں کی آگ لگائی جاتی اور پھر گرم گرم رس کو خشک ہونے پر ٹکڑوں میں کاٹ کر گڑ بنایا جاتا تو وہ بڑے شوق سے اس سارے منظر کو دیکھتا۔ گرم گرم گڑ کھانے کا مزا ہی کچھ اور تھا۔ گاؤں کے کھیل بھی زمین سے جڑے ہوتے تھے گلی ڈنڈا ’دوڑ کا مقابلہ اور آنکھ مچولی۔ یوں صبح سے شام تک جسمانی ورزش معمول کا حصہ ہوتی۔ اسے یاد ہے ہڈالی کے گاؤں میں بہت سے لوگ برٹش فوج میں گئے تھے۔

اس کی ایک وجہ ان کے قد کاٹھ کی مضبوطی تھی جو ان کی جفاکش زندگی کی دین تھی۔ زندگی ہنسی خوشی گزررہی تھی کہ اچانک فیصلہ کیا گیاکہ سب لوگ دہلی میں اکٹھے رہیں گے۔ شالی جب ہڈالی سے جدا ہورہا تھا تو دور تک پیچھے مڑمڑ کر دیکھتا رہا۔ ہڈالی کے آسمان کو‘ اس کے درختوں کو ’اپنی حویلی کو اور دور تک پھیلے ہوئے سرسوں کے زرد کھیتوں کو۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی یہاں سے نہ جاتا لیکن یہ زندگی کا سفرہے جس کے اگلے موڑ کے بارے میں ہمیں کچھ پتہ نہیں ہوتا۔

 دہلی میں اسے ماڈرن سکول میں داخل کرایا گیا۔ اس کا دل پڑھائی میں نہ لگتا تھا‘ لیکن جیسے تیسے اس نے دس جماعتیں پاس کر لیں۔ پھر سینٹ سٹیفن کالج سے انٹرکیا اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے۔ اب شالی خوشونت سنگھ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ پھر وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے برطانیہ چلا گیا اور کنگز کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور واپس لاہور آکر وکالت شروع کردی۔ وکالت کا یہ عرصہ آٹھ سال کا تھا۔ تب 1947 ء کا سال آیاجب ہندوستان تقسیم ہوگیا۔

 خوشونت سنگھ فارن سروس کے امتحان میں پاس ہوگیا اور یوں اسے ہندوستان ’فرانس‘ لندن اور ٹورنٹو میں کام کرنے کے مواقع ملے۔ اس نے صحافت میں بڑے رسالوں کی ادارت کی۔ اب اس کے پاس دولت ’عزت اور شہرت‘ سب کچھ تھا ’لیکن نجانے کیوں اس چکاچوند میں بھی کبھی کبھار رات گئے اسے مٹی کے دیوں والا اپنا گاؤں ہڈالی یاد آ جاتا۔ وہ چشمِ تصور میں اپنے آپ کو گاؤں کی حویلی کی چھت پر سفید رنگ کی چادروں والی چارپائی پر لیٹے دیکھتا۔ اسے یوں لگتا جیسے گاؤں کی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے جس میں موتیے اور چنبیلی کے پھولوں کی خوشبو گھل گئی ہے۔ ہر روز کی طر ح اس کی دادی اسے کہانی سنا رہی ہے اور کہانی سنتے سنتے اس کی آنکھیں خودبخود بند ہوتی جا رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 222 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *