مبارک بیگم مسجد: کیا پرانی دلی کی یہ مسجد ایک انگریز افسر کی ہندو بیوی کے نام سے منسوب ہے؟

امرتا کدم اور نامدیو انجنا - بی بی سی مراٹھی سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پونا شہر سے ایک برہمن خاتون دلی آتی ہیں۔ وہ دلی کے سب سے بااثر سفید فام سرکاری اہلکار کی بیگم بن جاتی ہیں اور پھر دلی میں ان کے نام پر ایک مسجد تعمیر ہوتی ہے۔

یہ قصہ بظاہر عجیب سا معلوم ہوتا ہے لیکن ایسا حقیقت میں ہوا تھا اور گذشتہ اتوار کو جب صدیوں پرانی اس مسجد کا گنبد گرا تو اس سے منسلک تاریخ بھی سامنے آئی۔

19 جولائی کو دلی میں شدید بارش ہوئی جس سے پرانی دلی میں ایک مسجد کے گنبد کو نقصان پہنچا اور بلآخر وہ ڈھ گیا۔ یہاں بارشیں اکثر پرانی عمارتوں کو نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔

یہ مسجد پرانی دلی کے علاقے چاوڑی بازار کی تنگ گلیوں میں موجود ہے۔ وہاں ہاوز قاضی چوک اس کا بالکل درست مقام ہے۔

انیسویں صدی میں یہ ’رنڈی کی مسجد‘ کے نام سے مشہور تھی اور آج بھی اکثر لوگ اس مسجد کو اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کو حیرت ہو گی کہ ایک طوائف کے نام پر مسجد کیسے تعمیر ہوئی؟ یہ مسجد مشہور تو اس نام سے ہوئی لیکن اس کا اصلی نام ’مبارک بیگم کی مسجد‘ ہے۔

یہ واضح نہیں کہ سنہ 1823 میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد مبارک بیگم نے بنوائی تھی یا ان کی یاد میں تعمیر کی گئی۔ مسجد کے مولوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ: ‘یہ مسجد مبارک بیگم نے خود تعمیر کروائی تھی۔ وہ ایک بہت اچھی خاتون تھیں۔’

مسجد کس نے تعمیر کروائی یہ ابھی تک ایک سوال ہے لیکن یہ بات یقیناً درست ہے کہ کسی طوائف کی جانب سے مسجد تعمیر کروانا یا ان کے نام پر مسجد تعمیر ہونا کوئی عام بات نہیں جبکہ اس زمانے بادشا، ان کی بیویاں یا اشرافیہ مساجد تعمیر کرواتے تھے۔

یہ بات واضح ہے کہ اُس زمانے میں مبارک بیگم ایک بڑی شخصیت تھیں۔ تاریخ اُن کے بارے میں زیادہ نہیں بتاتی لیکن جو بھی تفصیلات موجود ہیں وہ بہت دلچسپ ہیں۔ اُن کا نام مبارک تھا اور وہ دلی میں رہتی تھیں۔ وہ ایک مراٹھی اور تھیں اور وہ پونا سے آئی تھیں۔

کچھ جگہوں پر ان کا نام چمپا آیا ہے لیکن اس کی تصدیق کے لیے زیادہ ذرائع موجود نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ چمپا، یا جو بھی ان کا نام تھا، کس طرح مبارک بیگم بنیں؟ یہ لڑکی پونے سے سفر کر کے دلی پہنچیں اور پرانی دلی میں ان کے نام پر مسجد کیسے تعمیر ہوئی جہاں پر مغل تہذیب کا اثر نظر آتا ہے۔

مبارک بیگم کی زندگی

مبارک بیگم اصل میں ایک ہندو تھیں جنھوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیااور ان کا مسلمان نام بی بی مراۃ مبارک النسا بیگم رکھا گیا لیکن وہ مبارک بیگم کے نام سے ہی مشہور ہوئیں۔

ان کی شادی برطانیہ کے پہلے ریزیڈنٹ جنرل ڈیوڈ اوکٹرلونی سے ہوئی۔ بعض مورخین کے مطابق انھیں جنرل اوکٹرلونی نے بغیر شادی کیے ہی رکھا ہوا تھا۔ یہ مغل بادشا اکبر شاہ دوئم کا دورِ حکومت تھا اور جنرل اوکٹرلونی دلی میں حکومت برطانیہ کی جانب سے تعینات کیے جانے والے اہلکار تھے۔

جنرل اوکٹرلونی اور مبارک بیگم کے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو، جنرل کی زندگی میں مبارک بیگم کی بہت اہمیت تھی۔ مولوی جعفر مسان نے لکھا ہے کہ مبارک بیگم ڈیوڈ کو بہت عزیز تھیں۔

مبارک بیگم جنرل ڈیوڈ اوچٹرلونی کی 13 بیویوں میں سے ایک تھیں۔ وہ جنرل کے سب سے چھوٹے بیٹے کی ماں بھی تھیں۔ مبارک اور ڈیوڈ نے شادی کی تھی۔ حالانکہ وہ جنرل سے چھوٹی تھیں لیکن دونوں کے درمیان تعلقات میں وہ حاوی تھیں۔ اسی لیے جنرل نے مبارک بیگم سے ہونے والے اپنے بچوں کی تربیت مسلمان انداز سے سے کرنے کا فیصلہ کیا۔

دلی یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر انیرودھا دیش پانڈے کہتے ہیں: ‘برطانوی اور مغل حلقوں دونوں میں مبارک بیگم سے نفرت کی جاتی تھی۔ مبارک بیگم اپنے آپ کو لیڈی اوکٹرلونی کہلواتی تھیں جو انگریزوں کو پسند نہیں تھا اور وہ اپنے آپ کو قدسیہ بیگم (شہنشا کی ماں) بھی کہلواتی تھیں جو مغلوں کو پسند نہیں تھا۔ جنرل اوکٹرلونی نے ایک پارک تعمیر کروا کر اس کا نام مبارک باغ رکھ دیا۔ مغل اس باغ میں جانا پسند نہیں کرتے تھے۔’

وہ اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتی تھیں۔ آج کل طوائفوں کی ’رنڈی‘ اور ’وحشہ‘ جیسے ناموں سے تذلیل کی جاتی ہے لیکن مغل دور میں طوائفوں کو اس حد تک برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں مبارک بیگم ایک مشہور نام تھا۔ دلی میں اپنے دور کا آخری بڑا مشاعرہ مبارک بیگم کے محل میں ہوا جس میں 40 شعرا شریک ہوئے جن میں سے ایک مرزا غالب بھی تھے۔

ڈیوڈ اوکٹرلونی: ‘سفید فام مغل’

انسائکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق سر ڈیوڈ اوکٹرلونی سنہ 1758 میں بوسٹن میں پیدا ہوئے اور سنہ 1777 میں انڈیا آئے۔

انھوں نے لارڈ لیک کی سربراہی میں علی گڑھ اور دلی میں جنگوں میں حصہ لیا۔ سنہ 1803 میں انھیں دلی میں برطانیہ کا ریزیڈنٹ اہلکار مقرر کیا گیا۔

اگلے برس انھیں ترقی دے کر میجر جنرل بنا دیا گیا۔ جب ہولکروں نے دلی پر حملہ کیا تو شہر کے دفاع کی ذمہ داری جنرل اوکٹرلونی کے پاس تھی۔ انھوں نے نیپال کے ساتھ جنگ سمیت کئی جنگوں میں برطانوی فوج کی قیادت کی اور ان کا انتقال سنہ 1825 میں ہوا۔

انیرودھ دیش پانڈے کہتے ہیں کہ دلی میں اپنے قیام کے دوران جنرل اوکٹرلونی نے مکمل طور پر مغلوں کی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیا، اس لیے انھیں ’سفید فام مغل‘ کہا جانے لگا۔

ماضی سے جان چھڑانے کی کوشش؟

ضیا السلام اپنی کتاب ‘وومن اِن مسجد’ میں مبارک بیگم کے بارے میں ذرا مختلف رائے پیش کرتے ہیں۔

بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے ضیا الاسلام نے بتایا کہ ‘یہ لڑکی جو پہلے ایک طوائف ہوا کرتی تھی، اپنے ماضی سے جان چھڑانے کی پوری کوشش کر رہی تھی اور معاشرے کی اشرافیہ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ اسی لیے پہلے اس نے ایک برطانوی جنرل ڈیوڈ اوکٹرلونی سے شادی کی اور ان کے مرنے کے بعد انھوں نے ایک مسلمان سردار سے شادی کر لی۔’

‘مسجد تعمیر کروانا بھی اشرافیہ میں شامل ہو نے کی ان کی کوششوں کا حصہ تھا۔ ایک تاریخی مؤقف یہ ہے کہ مبارک بیگم نے یہ مسجد تعمیر کروائی۔ دوسرا موقف یہ ہے کہ اسے جنرل اوکٹرلونی نے اسے تعمیر کروا کر اس کا نام مبارک بیگم سے منسوب کر دیا۔ لیکن یہ مسجد یقیناً مبارک بیگم نے تعمیر کروائی اور جنرل نے اس کے لیے رقم فراہم کی۔’

قرونِ وسطی کے زمانے میں خواتین نے کئی مساجد اور مدرسے تعمیر کروائے۔ دلی میں فتح پوری مسجد مغل بادشاہ شاہ جہاں کی اہلیہ نے بنوائی تھی۔

لیکن ضیا الاسلام کہتے ہیں کہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فتح پوری مسجد ایک بادشاہ کی بیوی نے تعمیر کروائی تھی جبکہ مبارک بیگم ایک طوائف تھیں۔

مسجد کی موجودہ حالت کیا ہے؟

مسجد کے داخلی دروازے پر لگی ہوئی تختی پر ’مسجد مبارک بیگم‘ لکھا ہوا ہے۔

اصلی مسجد دو منزلہ ہے۔ زمینی حصہ ایک طرح کا پلیٹ فارم بن گیا ہے اور وہاں دکانیں ہیں۔ مسجد کے داخلی دروازے کی طرف جانے کے لیے ایک تنگ گلی سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلی منزل پر مسجد قائم ہے۔ وہاں نماز کے لیے ایک ہال ہے اور تین گنبد ہیں۔ گزشتہ اتوار کو بارش کی وجہ سے ان میں سے ایک گنبد گر گیا تھا۔

مسجد کی تعمیر مکمل طور پر سرخ پتھروں سے ہوئی ہے۔ اتوار کو گرنے والے گنبد کے ٹکڑوں میں بھی سرخ ریت دیکھی جا سکتی ہے۔

مسجد سنہ 1823 میں تعمیر کی گئی اور چند برسوں میں یہ اپنے وجود کے 200 برس مکمل کرنے والی ہے۔ اس حالیہ واقعے کے علاوہ عمارت کو کوئی دوسرا نقصان نہیں پہنچا ہے۔ گنبد کے گرنے والے حصوں کے علاوہ مسجد صحیح سلامت دکھائی دیتی ہے۔

پروفیسر انیرودھ دیش پانڈے کہتے ہیں کہ پرانی دلی کے علاقے حوض قاضی میں رہنے والے لوگ آج بھی مبارک بیگم مسجد کو رنڈی کی مسجد پکارتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس نام سے پکارنے پر عجیب سا محسوس نہیں کرتا۔ یہ اس مسجد کا باقاعدہ نام بن چکا ہے اور لوگ ماضی کے اس نام کو ہی استعمال کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14584 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp