چین کے ساتھ کشیدگی کے درمیان امریکہ کے ساتھ انڈین بحریہ کی فوجی مشقیں

سلمان راوی - بی بی سی نامہ نگار، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین اور امریکی بحریہ کی بحر ہند میں مشترکہ فوجی مشقیں کیا چین کے لیے کوئی پیغام ہیں؟ خاص طور پر ایسے ماحول میں جب لداخ کی وادی گلوان میں انڈیا اور چین کے مابین شدید کشیدگی ہو۔

یہ مشق جزیرہ انڈمان اور نکوبار کے قریب کی گئی جہاں انڈین بحریہ کا ‘مشرقی بیڑہ’ پہلے سے ہی تعینات ہے۔

انڈین بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مشق دراصل ‘پیسیج ایکسرسائز’ کا ایک حصہ تھی جو وقتا فوقتا ایک بحریہ دوسرے ممالک کی بحریہ کے ساتھ کرتی رہتی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘امریکی جنگی جہازوں کا بیڑا ‘یو ایس ایس نیمتز’ بحر ہند سے گزر رہا تھا اور اس دوران دونوں ممالک کی بحریہ نے مل کر یہ مشق کی۔’

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی انڈین بحریہ جاپان اور فرانس کی بحریہ کے ساتھ ایسی ہی مشقیں کر چکی ہے۔

عسکری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بحر ہند کا یہ علاقہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ تجارت کا راستہ بھی ہے اور امریکہ جیسے بہت سارے طاقتور ممالک اسی راستے سے اپنے جنگی جہاز کو جنوبی بحیرہ چین میں بھیجتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انڈمان اور نِکوبار جزیرے ان کے لئے سٹریٹیجک اعتبار سے اہم ہیں۔

بحر ہند کی اہمیت

امریکی بحریہ کے ساتویں بیڑے کے جاری کردہ ایک بیان میں ریئر ایڈمرل جم کرک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ‘اس مشق سے فضائی سلامتی کے علاوہ تربیت کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی بہت مدد ملی ہے۔’

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس مشق سے دونوں ممالک کی فوجوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس سے سمندری راستے سے آنے والے خطرات یا قزاقی اور دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کیا جاسکے گا۔

انڈین بحریہ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر میں ان کی بحریہ آسٹریلوی، امریکی اور جاپانی بحریہ کے ساتھ خلیج بنگال میں بھی مشقیں کرے گی۔

اسٹریٹجک امور کے ماہر سوشانت سرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اگر پہلے اس طرح کی مشق کی جاتی تو انڈیا میں ہی اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگتیں۔ لیکن وادی گلوان میں چین نے جو کیا ہے اس کے بعد لوگوں نے اس طرز کی مشقوں کا خیرمقدم کیا ہے۔’

انھوں نے کہا: ‘اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈیا اور امریکہ اسٹریٹیجک معاملے میں قریب تر آئے ہیں۔ انڈیا نے امریکہ کے ساتھ کئی عسکری معاہدے بھی کیے ہیں جس کے تحت وہ امریکہ سے آبدوزوں کا مقابلہ کرنے کی ٹکنالوجی بھی حاصل کر رہا ہے۔’

بحر ہند ہر ملک کے لیے اہم ہے۔ بطور خاص جس طرح سے چین ساؤتھ چائنا سی پر اپنا اختیار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے پیشن نظر امریکہ اور دوسرے طاقتور ممالک کے جنگی جہازوں کو وہاں پہنچنے کے لیے بحر ہند بہت ضروری ہو گیا ہے۔

انڈیا کیا بتانا چاہتا ہے؟

سرین کا کہنا ہے کہ ‘چین بھی بحیرہ جنوبی چین پر اپنا دباؤ بڑھا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے انڈین بحریہ نے انڈونیشیا کے ساتھ چینی جنگی جہاز کو چیلنج کیا تھا جس کے بعد اسے واپس جانے پر مجبور کیا گیا تھا۔‘

سٹریٹیجک امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘انڈیا اس وقت کسی بھی دھڑے کا حصہ نہیں ہے’ یعنی انڈیا اپنی عدم وابستگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خارجہ ایس جیشنکر نے بھی کہا کہ ‘انڈیا کسی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔’

تاہم چین کے ساتھ پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد انڈیا نے پہلے سے کہیں زیادہ دوسرے ممالک کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانے پر توجہ دینا شروع کردیا ہے۔ امریکی بحریہ کے ساتھ حالیہ مشق کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

لیکن دفاعی امور کے ماہر راہل بیدی کا خیال ہے کہ ‘انڈیا ایسی مشق کرکے چین کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے اور امریکہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہے۔’

راہل بیدی کا کہنا ہے کہ سنہ 1991-92 سے امریکہ اور انڈیا مشترکہ طور پر فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔

ویسے کرگل جنگ کے دوران بھی امریکہ انڈیا کے ساتھ کھڑا تھا۔

لیکن بیدی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس مشق سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ ‘انڈیا کے تشویش کی اہم وجہ وہ لائن آف کنٹرول ہے جہاں چین اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔’

راہل بیدی نے کہا: ‘ویسے چینی بحریہ بھی بہت مضبوط ہے اور اس نے جنگی جہازوں کو تباہ کرنے کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کئی میزائل بھی تیار کرلیے ہیں۔’ تاہم بحر ہند میں انڈیا نے اپنی بحری موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

امریکی بحریہ کا نیمتز جنگی بیڑا

یہ امریکہ کا سب سے بڑا جنگی بحری بیڑا ہے جس میں ٹکونڈریگا کلاس گائڈڈ میزائل جہاز- یو ایس ایس پرنسٹن، اور میزائل تباہ کرنے والے جنگی جہاز یو ایس ایس اسٹریٹ اور یو ایس ایس رالف جانسن بھی شامل ہیں۔

اسے ‘سپر کیریئر’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے۔

جوہری طاقت سے لیس اس جنگی بحری جہاز کو امریکی بحریہ میں سنہ 1975 میں کمیشن کیا گیا تھا۔

اس کا نام امریکی بحریہ کے تیسرے فلیٹ ایڈمرل کمانڈر چیسٹر نیمتز کے نام پر رکھا گیا ہے جنھوں نے دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ابتدا میں نیمتز کا نورفولک میں لنگر انداز تھا لیکن اب اس کا پڑاؤ سرکاری طور پر کٹسیپ کے بحری اڈے پر ہے۔

لیکن اپریل میں اس جنگی جہاز کے لوگ بھی کورونا وائرس کی گرفت میں آگئے جس کی وجہ سے اسے 27 دن تک قرنطینہ میں رکھا گیا۔ پھر رواں ماہ کے اوائل میں نیمتز کو ایک بار پھر بحیرہ جنوبی چین میں تعینات کیا گیا ہے۔

اس جنگی جہاز کو سنہ 2022 میں اس وقت ہٹا لیا جائے گا جب اس سے بھی زیادہ جدید ‘جیرالڈ آر فورڈ کلاس’ جنگی جہاز یو ایس ایس جان ایف کینیڈی اس کی جگہ لے گا۔ لیکن ابھی تک اس کے متعلق فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14568 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp