صحافی مطیع اللہ جان کا اغوا، جمعرات کو پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کو جمعرات کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔ یہ بیان پولیس کے سامنے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 161 کے تحت جبکہ مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرایا جائے گا۔

اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق عدالت کے حکم کے بعد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کا جمعرات کو تفصیلی بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس بیان کے بعد پولیس اپنی تفتیش کو مزید آگے بڑھائے گی۔

ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق پولیس یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ جن لوگوں نے ان کو اغوا کیا وہ ان کو کہاں کہاں لے کر گئے اور پھر کس مقام سے ان کو رہا کیا گیا۔

واضح رہے کہ منگل کو صحافی مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس کے ایک سرکاری سکول کے سامنے سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا تھا اور 12 گھنٹوں بعد فتح جنگ کے قریبی علاقے قطب آباد سے ان کی بازیابی ممکن ہو سکی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد سے اغوا کیے گئے صحافی مطیع اللہ جان گھر واپس پہنچ گئے

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے ’مبینہ اغوا‘ کا نوٹس، رپورٹ طلب

ججز کے خلاف ’توہین آمیز ٹویٹس‘، صحافی مطیع اللہ جان کو نوٹس جاری

مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد بدھ کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کے سامنے صحافی مطیع اللہ جان کے بھائی کا ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا تھا، جس میں انھوں نہ بتایا کہ انھیں فون کال کر کے بتایا گیا کہ وہ اپنے بھائی کو فتح جھنگ کے علاقے قطب آباد سے لے جائیں۔

پولیس نے اب تک اس مقدے میں کیا تفتیش کی؟

صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا کرنے والے کون تھے اس بات کا پتا چلانے کے لیے اسلام آباد پولیس نے سی سی ٹی وی سے حاصل ہونے والی ویڈیو قومی شناختی ادارے، نادرا کو بھجوا دی ہے۔

ایس ایچ او شوکت عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ نادرا سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کر کے دیں تاکہ عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کرائی جا سکے۔

ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق مزید ویڈیو ثبوت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے سی سی ٹی وی آفس سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ اس علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیں تاکہ جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں ان کی پہچان کی جا سکے۔

پولیس نے یہ ویڈیو فرانزک رپورٹ کے لیے لاہور بھجوا دی ہے تاکہ مزید معلومات اکھٹی کی جا سکیں۔ دو ہفتوں تک اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل اس واقعے کی مکمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔

مطیع اللہ جان کے ساتھ کیا واقعہ ہوا؟

اس واقعے کی تفصیلات تو مطیع اللہ جان پولیس اور مجسٹریٹ کو اپنے بیان میں فراہم کریں گے۔ البتہ بدھ کو عدالتی کارروائی کے بعد بی بی سی نے صحافی مطیع اللہ جان اور ان کے قریبی رشتہ داروں سے بات کی۔

مطیع اللہ جان کے مطابق ان کو ہتھکڑی لگا کر ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی اور انھیں کسی دفتر بھی لے جایا گیا تھا۔اس دوران ان کو اغوا کرنے والے افراد انھیں منھ بند رکھنے کا کہتے رہے۔

مطیع اللہ جان کے مطابق وہ تفصیلات تو اپنے بیان میں بتائیں گے کہ ان کو اس دوران کیا سمجھانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس واقعے کا تعلق عدالت میں توہین عدالت کے مقدمے سے بھی جوڑتے ہیں۔

مطیع اللہ

EPA

صحافی مطیع اللہ جان کو منگل کی رات کو تقریباً 20 سے 25 منٹ کی تفتیش کے بعد اغواکاروں نے ان کے بھائی کے حوالے کر دیا۔ مطیع اللہ نے بتایا کہ ان کے اغواکاروں نے ان سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان کے خیال میں ان کو کس نے اغوا کیا ہے۔

اس سوال پر مطیع اللہ جان تو ہنس پڑے تاہم ان کے بھائی نے ان افراد کو بتایا کہ اس بارے میں ہمیں کچھ بھی معلوم نہیں کیونکہ ابھی یہ معاملہ زیر تفتیش ہے۔ ان 12 گھنٹوں میں مطیع اللہ جان کو کھانا وغیرہ تو نہیں دیا گیا تاہم جب کبھی انھوں نے پانی مانگا تو گاڑی روک کر ان کو پانی ضرور پیش کیا جاتا رہا۔

اغوا کاروں کو مطیع اللہ جان کا فون نمبر کہاں سے ملا؟

مطیع اللہ جان کا فون نمبر تو شاید اغوا کاروں کے پاس تھا مگر انھوں نے یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ وہ اس وقت اکیلے ہیں، ان کے ایک بھائی کو کال کی اور یہ کہا کہ ایک ادارے کے ایک اہم عہدیدار توہین عدالت مقدمے کے سلسلے میں مطیع اللہ جان سے بات کرنا چاہتے ہیں لہذا ان کا فون نمبر دے دیں۔

اس کے بعد مطیع اللہ جان کو کراچی کے ایک نمبر سے کال بھی موصول ہوئی اور ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ مطیع اللہ جان کو کچھ افراد نے قابو کر لیا۔ شاید اس فون نمبر سے ہی ان کی موجودگی کی صیحح جگہ معلوم کی گئی۔

مطیع اللہ جان نے اس پر مزاحمت کی اور اپنا فون سکول کے اندر پھینک دیا۔

مطیع اللہ جان نے موبائل سکول کے اندر کیوں پھینکا؟

مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ جو اس سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں، کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ انھیں اغوا کیا جا رہا، اپنا فون سکول کے اندر پھینک دیا تھا۔ سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک باوردی شخص گیٹ سے اس موبائل کو مانگتا ہے اور سکول کی ایک ٹیچر فون اس شخص کو دے دیتی ہیں۔

مطیع اللہ نے سنا کہ وہ شخص خوشی سے اپنے دوسرے ساتھیوں کو کہہ رہا ہوتا ہے کہ موبائل دوبارہ مل گیا اور اس کے بعد وہاں سے قافلہ نامعلوم مقام کی طرف چل پڑتا ہے۔

اس دوران مطیع اللہ جان کی اہلیہ بے خبر رہتی ہیں۔ وہاں موجود سکول کا عملہ بھی انھیں یہ نہیں بتاتا کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے تاہم انھیں گاڑی کے اندر سے مطیع اللہ جان کا دوسرا موبائل فون مل گیا۔ اس کے بعد انھوں نے اس فون کے ذریعے پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا کہ ان کے شوہر کو کوئی لے گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14652 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp