پرانے نقاد کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عزیزم!

آپ نے شیخ سعدی کے قول ”بزرگی بہ عقل است نہ بسال“ کے مصداق درست ہی فرمایا کہ علم وفضل کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا۔ مگر ایک نقاد کے لیے علم کے ماخذات کو محدود کر دیا ؛ علم خود سے اور کتاب سے کلام کے علاوہ کائنات سے کلام میں بھی حاصل ہوتا ہے۔ ایسے بہت سے عالم ملیں گے جنہوں نے کائنات سے کلام میں علم حاصل کیا۔ ہزار ہاکتب کا مطالعہ انسانوں کا خارجی کائنات سے مکالمے کا متبادل نہیں ہو سکتا ۔

آپ نقاد کی دلجوئی کے لیے خط لکھتے ہیں مگر ایک Genuine نقاد کو دلجوئی یا تحسین جیسے آرائشی لفظوں سے بلند ہونا چاہیے۔ بے شک آپ نیک نیتی سے دلجوئی کرنا چاہتے ہیں مگر کسی نقاد یا فنکار کے لیے یہ بری لت ثابت ہو سکتی ہے۔ آپ نے درست فرمایا کہ نقاد کو شائستہ اور مدلل رہنا چاہیے مگر سوچنے کے عمل کو ’ذمہ داری‘ سمجھنا انسانی شعور کی فعلیت کو گرانے کے مترادف ہے۔

بے شک ایسی تحریریں زندہ رہتی ہیں جن میں نئے زمانے سے ہمکلام ہونے کی صلاحیت ہو مگر یہ لازم نہیں کہ ہر تحریر نئے زمانوں کی تاریکیوں کے ادراک یا انہیں روشن کرنے کے لیے ہو۔ ایک نقاد کو یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ ہر زمانہ تاریکیوں سے بھرا ہوگا۔ یہ رجحان ادب کی وسعت کو انتہائی محدود کرنے کے مترادف ہے۔ آپ کو غور کرنا چاہیے کہ ایک قاری حافظ، غالب یا شیکسپیئرکا مطالعہ کیوں کرتا ہے؟

آپ نقاد کو تنہائی میں امن سے رہنے کی تلقین کرتے ہیں جبکہ تنہائی کے مسائل میں جنگ شامل نہیں ہوتی۔ آپ نقاد کو مکالمے پر بھی اکساتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اسے میدان کربلا کی سیرکرواتے ہوئے گو تم بدھ بنا دیتے ہیں۔ اب ایسی مصنوعی ارفعیت میں وہ دوسروں سے کیسے مکالمہ کہ پائے گا۔ مکالمہ تو اختلاف رائے سے آگے بڑھتا ہے۔

آپ جنگ سے نفرت کرتے ہیں مگر اپنے اظہار میں تیر، خنجر، تلوار، اسلحہ اور خون کے فوارے لے آئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے مبارزت کے سب کلمات آپ کو بھی یاد ہیں۔ تنقید یا نقاد کی بلاوجہ مذمت کرنے والوں کو مدلل جواب بھی نقاد ہی نے دینا ہے۔ سوال کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے خواہ کوئی جنگل میں درخت کی کھوہ ہی میں کیوں نہ جا بیٹھے۔ سوال کی جانچ پڑتال یقینی طور پر ہر نقاد کے لیے ضروری ہے مگر یہ جانچ جواب دینے کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ دور سے سلام کرنے کے لیے۔ اس قدر نازک طبع نقاد اس عہد کا مقابلہ کیسے کرے گا اسے باد مخالف کا ریاض ہونا چاہیے۔

اگر نقاد کو انیسویں صدی سے ایک سوال کا سامنا ہے کہ آخر کیا اسباب ہیں کہ ہمارے یہاں ایلیٹ، دریدا یا ایڈورڈ سعید جیسے لوگ کیوں پیدا نہیں ہورہے تو نقاد کو چند لمحے ہی سہی اس پر غور کرلینا چاہیے۔ سوال میں شدت کو نائن الیون سے منسوب کر کے گلو خلاصی نہیں ہو سکے گی۔ کیونکہ آپ ہی کے مطابق یہ سوال حالی کے زمانے سے پوچھا جا رہا ہے۔ مغربی نقادوں یا دانشوروں سے ہم متوحش نہیں ہیں مگر ادب یا زندگی کے متعلق ہر تخلیق کار یا نقاد کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا نظر یہ قائم کرے خواہ اس کی دسترس فرانسیسی زبان پر ہو یا سرائیکی زبان پر ہو۔ آخر کب تک ہم منقولات پر اکتفاکرتے ہوئے اپنے تہذیبی قلب سے آنکھیں چراتے رہیں گے۔

بزرگی بہ عقل است نہ نقل از بزرگی

مغرب مسلسل ایک علمی ارتقاء سے گزر رہا ہے۔ ہمارا نقاد جب تک جزوی یا کلی طور پر ایک نظریہ کا ادراک حاصل کرکے اسے یہاں عام کرتا ہے تب تک مغرب میں اس پر دھول جم چکی ہوتی ہے۔

علم سرحدوں سے ماورا ہے، علم سفر ہی اس لیے کرتا ہے کہ اس میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ عربوں نے جویونانیوں سے جو حاصل کیا اس میں اضافہ کرتے ہوئے یورپ کے حوالے کیا، مغرب نے اس میں ہوش ربا اضافہ کیا۔ فلسفہ کے میدان میں یورپ نے ڈیکارٹ اوربیکن سے لے کر ہائیڈیگر تک کی فکری سطح کوچھو لیا۔ ادب میں وہ ارسطو یا لانجائنس کے نظریات کی جگالی میں قانع نہ رہے۔ شاعری، فکشن اور دیگر اصناف ادب کی بہت سی مثالیں دیں جاسکتی ہیں مگر یہ خط کا موضوع نہیں ہے۔

کوئی بھی سوال نقاد کو اپنی چڑ نہیں بنا لینا چاہیے۔ سوال بھی ایک متن ہے جسے گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نجانے یہ تاریخ کا جبر ہے یا نعمت کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق لوگوں اور نظریات کو جنم دیتی اور سامنے لاتی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ جناب کا تاریخ کے متعلق جملہ نقاد کو کام پر اکساتا ہے یا اس کا ایمان ”تاریخ“ پر پختہ کرتا ہے۔

آپ نے فرمایا کہ شاعری اپنی اصل میں افضل ہے نہ اسفل، اسے شاعر ہی افضل یا اسفل بناتا ہے مگر یہ کام نقاد نے خوامخواہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ وہ درجہ بندی سے احتراز نہیں کرتا۔ وہ جس نظریہ سے واقفیت رکھتا ہو اسے ہر صنف ادب پر لاگو کرنا فرض سمجھنا ہے خواہ مطابقت نہ ہی بنتی ہو۔ تخلیق کار اور نقادمیں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ نقاد اپنی سرگرمی کو ”کام ’‘ سمجھتاہے جبکہ تخلیق کار کی تخلیقات کسی“ کام ”کے نتیجے میں سامنے نہیں آتیں بلکہ اس کے پیچھے تخلیقی وفور کا رفرماہوتا ہے۔ ہم ایسے نقاد کو تخلیق کار بھی کہہ سکتے ہیں جو تنقید کو پیشے کی طر ح اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کرتا بلکہ شعور کی تخلیقی جہت کے زیر اثر اپنے نظریات پیش کرتا ہے۔

یقیناً علم کو کسی نسل، مذہب اور فرقے کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے مگر یوں لگتا ہے آپ اردو ادب کا مقدمہ لڑرہے ہیں تنقید پر اگر تنقید ہو رہی ہے تو اسے اردو ادب تک مخصوص نہیں کرنا چاہیے۔ آپ اس گروہ بندی سے بالاتر ہوکر مجموعی طور پر تنقید کی بات کریں، اور یہی آپ کے شایان شان ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہوا کہ نوآبادیاتی تجربے کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے جو آسیب کی طرح ہمارے تعاقب میں ہے یا ہم آسیب کی طرح اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ آپ نقاد پر کچھ زیادہ ہی ذمہ داریاں ڈال رہے ہیں کچھ کام مصلحین اور انقلابیوں کے لیے بھی چھوڑ دیں۔

میرے محترم! ہر چند آپ کی تحریروں میں اسم صفات کا بھر پور استعمال ہوتا ہے مگر ہم آپ سے ہر گز دوری اختیار نہ کریں گے۔

خدانگہدار بہ امید دیدار
آپ سب کا خیرخواہ

Latest posts by عثمان علی سپرا (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عثمان علی سپرا کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *