مطیع اللہ جان: سیکیورٹی ادارے بہرصورت قصور وار ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مؤرخہ 21 جولائی 2020 کی صبح سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو اغواء کر لیا گیا۔ عوامی حلقوں میں دو رائے پائی جاتی ہے۔ ایک کا کہنا ہے کہ اغواء کار سیکیورٹی اداروں کے افراد تھے۔ دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ اغواء کا سیکیورٹی اداروں کے افراد نہیں تھے۔ دونوں صورتوں میں نقصان ملک کا ہوا ہے۔

صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ صحافت کی آزادی شہری کی آزادی کی ضمانت ہے۔ مطیع اللہ جان مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ رہے۔ سینئیر صحافی ہیں۔ ایک چینل پر پروگرام کرتے تھے ان کو نکلوا دیا گیا۔ بعد ازاں ان کو ایک ٹریلر بھی دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کے ناقد اور سول بالا دستی کے حامی تھے۔ اس وقت وہ اپنے موبائل سے اپنا ایک چھوٹا سا یوٹیوب چینل چلاتے ہیں۔

اغواء کے وقوعے نے دنیا بھر میں تھرتھلی پیدا کر دی۔ انٹرنیشنل اخبارات اور انٹرنیشنل صحافتی تنظیمیں بھی چیخ اٹھیں۔ پاکستان کی بہت بدنامی ہوئی۔

ایک حلقے کی رائے ہے کہ اغواء کار سیکورٹی اہلکار نہیں تھے۔ اور ان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ میرے مطابق کوئی گنجائش نہیں رہتی جب وقوعے کی فوٹیج میں نیلی اور لال بتی والے سرکاری ڈالے کو دیکھا جا سکے۔ تھوڑی دیر کے لیے تسلیم کر لیتے ہیں کہ سیکیورٹی ادارے بے قصور ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر چھ میں اسلحہ سمیت آدھی درجن گاڑیاں آئیں اور ایک صحافی/شہری کو اغواء کر لیں جہاں چند فٹ کے مقام پر ایک سیکیورٹی ادارے کا دفتر بھی موجود ہے۔

پوری دنیا میں شور مچ جاتا ہے لیکن سیکیورٹی اداروں کو اس وقوعے کا علم تک نہیں ہوتا۔ اگر یہ ہماری سیکیورٹی ہے اور اسلام آباد میں صحافی اور شہری محفوظ نہیں تو پورے ملک کی سیکورٹی رسک پر ہے۔ کوئی شہری محفوظ نہیں۔ شہریوں کی طرف سے کھربوں روپے کا ٹیکس فضول جا رہا ہے۔ ہم نمبر ون نہیں ہیں۔ ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

اور اگر یہ ثواب کا کام اداروں نے خود انجام دیا ہے تو پاکستان واحد ملک ہے جس کے سیکیورٹی ادارے اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کی بجائے اغوا کر رہے ہیں۔ اس سے سنگین جرم کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ شہری کے خون پیسنے کی کمائی سے لی گئی بندوق اپنے ہی شہری کی طرف سیدھی کر دی جائے۔ یہ ابیوز آف پاور، آئین شکنی بنیادی حقوق کے معطلی جیسے جرائم ہیں۔ مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ جن کی وجہ سے نہ صرف ریاستی ڈھانچہ ہل کر رہ گیا ہے۔ دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ سیکیورٹی رسک ریاست بن گئی اور 22 کروڑ عوام میں خوف و ہراس پھیلایا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی احمد خاں ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *