ونسٹن چرچل: انڈین عوام سابق برطانوی وزیراعظم کی ’ہیرو‘ کی حیثیت پر سوالیہ نشان کیوں لگاتی ہے؟

یوگیتا لیمائے - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چرچل

EPA

میں نے ونسٹن چرچل کے بارے میں پہلی بار بچپن میں پڑھا تھا۔ اینِڈ بلائیٹن کی کتاب جو میں پڑھتی تھی، اس میں یہ ایک کردار تھا جن کی ایک تصویر، اینِڈ نے اپنے کمرے میں سجا رکھی تھی کیونکہ وہ ’اس سیاسی رہنما کی بہت زیادہ تعظیم و تکریم کرتی تھی۔‘

جب میں بڑی ہونا شروع ہوئی اور میں نے انڈیا پر برطانوی استعماریت کی تاریخ کی باتیں سنیں تو مجھے پتہ چلا کہ میرے ملک میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی برطانوی وزیرِاعظم کے بارے میں رائے میری رائے سے بالکل مختلف ہے۔

اس زمانے کے نوآبادیاتی دور کے بارے میں بھی متضاد آرا ہیں۔

کچھ کا خیال ہے کہ برطانیہ نے انڈیا کے لیے بہت اچھے کام کیے۔۔۔ ریلوے کا نظام تعمیر کیا، ڈاک کا نظام متعارف کروایا۔ اِس پر میری دادی اماں کی لازماً یہ وضاحت ہوتی تھی کہ ’یہ سب کچھ انھوں نے اپنے فائدے کے لیے کیا اور آخر میں انڈیا کو غربت میں ڈال کر چھوڑ گئے۔‘

میری دادی اماں اکثر جوش و ولولے کے ساتھ بتاتی تھیں کہ وہ کس طرح ’سفاک برطانوی حکومت کے خلاف‘ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

چرچل کا سگار 12 ہزار ڈالر میں نیلام

ہندوستان کا وہ زیرک آدمی جو برطانیہ کا پہلا ایشیائی رکنِ پارلیمان بنا

برطانیہ نے برصغیر کی تیسری صنف کو کیوں مٹانا چاہا؟

تاہم جو بھی ہو، برطانوی حمکرانوں پر غصے کے باوجود آج بھی انڈیا میں جہاں میری پرورش ہوئی ہے کوئی بھی مغربی سفید فام چاہے کچھ بھی کریں انھیں بہتر سمجھا جاتا تھا۔ دہائیوں پر محیط رہنے والے نوآبادیاتی دور حکمرانی کے باعث یہاں بسنے والے افراد میں خود اعتمادی ختم ہو چکی تھی۔

آزادی کے 73 برس بعد اب بہت کچھ بدل گیا ہے۔ انڈین شہریوں کی ایک نئی نسل جو دنیا میں اپنی حیثیت کے بارے میں زیادہ پراعتماد ہے، اب استماری اور نوآبادیاتی دور کے تاریک ابواب اور اقدامات پر، مثلاً بنگال میں سنہ 1943 کے قحط، کے بارے میں پوچھتی ہے کہ ان پر عوامی سطح پر زیادہ معلومات کیوں موجود نہیں ہیں۔

قحط

Getty Images
سنہ 1942 میں ایک سمندری طوفان اور سیلاب نے بنگال میں قحط پیدا کیا تھا

اس قحط میں کم از کم تیس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج کی کل تعداد سے چھ گنا زیادہ ہے۔ لیکن جس طرح ہر برس جنگ کی فتوحات اور ہزیمات کی یادیں منائی جاتی ہیں تو اسی دور میں برطانیہ کے زیرِ تسلط بنگال میں جو خوفناک تباہی مچی، اس کو عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اس تباہی کے عینی شاہدین نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے کھیتوں اور دریاؤں کے کنارے انسانی لاشوں کو کتوں اور گِدھوں کو کھاتے دیکھا کیونکہ کسی کے پاس اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ اتنے سارے لوگوں کی آخری رسومات ادا کرے۔

جو لوگ دیہاتوں میں ہلاک نہیں ہوئے تھے، وہ خوراک کے تلاش میں شہروں کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

ایک سینیئر بنگالی اداکار سومِترا چیٹرجی جو بنگال کے قحط کے وقت آٹھ برس کے تھے، کہتے ہیں ’اس وقت ہر شخص ہڈیوں کا ڈھانچہ نظر آتا تھا جس پر صرف کھال چڑھی ہوتی تھی۔‘

انھوں نے مجھے بتایا ’لوگ بہت بے بس تھے اور لاچاری میں روتے تھے، چاولوں کی پِیچ تک مانگتے تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اتنے چاول ہی کسی کے پاس نہیں کہ کوئی انھیں دے گا۔ اور جس نے بھی یہ رونے کی آواز سنی ہے وہ اسے تمام عمر بھلا نہیں پائے گا۔ میری آنکھوں میں آج بھی آنسو آ جاتے ہیں جب میں اس دور کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ میں اپنے جذبات پر قابو پا نہیں سکتا ہوں۔‘

سنہ 1942 میں ایک سمندری طوفان اور سیلاب نے بنگال میں قحط پیدا کیا تھا لیکن اس وقت کے برطانوی وزیراعظم سر ونسٹن چرچل اور ان کی کابینہ کو ان حالات کو بدترین بنانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

سومِترا چیٹرجی

BBC
بنگالی اداکار سومِترا چیٹرجی کہتے ہیں کہ آج بھی جب انھیں قحط کی یاد آتی ہے تو وہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک مورخ، یاسمین خان ’دشمن کو وسائل استعمال کرنے سے محروم کرنے کی حکمتِ عملی‘ کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اسے اس لیے اپنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت برطانیہ کو یہ خدشہ تھا کہ جاپان انڈیا پر برما کی جانب سے حملہ کرنے والا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’(اس حکمت عملی کے پیچھے) یہ خیال تھا کہ نہ صرف فصلیں بلکہ کشتیاں جو فصلوں کی ترسیل کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں انھیں تلف کر دینا ہو گا۔ اور جب جاپانی یہاں آئیں تو ان کے پاس وسائل ہی نہ ہوں کہ وہ یہاں سے آگے پیش قدمی کر سکیں۔ دشمن کو وسائل کے استعمال سے محروم کرنے کی حکمت عملی کے تباہ کن اثرات کے بہت واضح ثبوت موجود ہیں۔‘

اس وقت کے انڈیا کی انتظامیہ کے برطانوی افسران کی ڈائریاں ظاہر کرتی ہیں کہ مہینوں تک چرچل کی حکومت ان کی درخوستوں کو مسترد کرتی رہی جن میں انڈیا میں خوراک کی فوری فراہمی کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ اس وقت برطانوی حکومت کو یہ خوف تھا کہ اس سے برطانیہ میں خوراک کے ذخائر کم ہو جائیں گے اور جہاں جنگ لڑی جا رہی تھی وہاں سے بحری جہاز انڈیا کی جانب روانہ ہو جائیں گے۔

ونسٹن چرچل کا خیال تھا کہ مقامی سیاستدان بھوک سے مرتے ہوئے لوگوں کی بہتر مدد کرسکتے تھے۔

ان ڈائریوں کے مندرجات برطانوی وزیراعظم کے انڈیا کے ساتھ رویے کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ قحط میں امدادی اقدامات کے بارے میں ایک اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیرِ انڈیا، لیپولڈ امری نے لکھا ہے کہ کتنی بھی امداد بھیج دی جائے یہ نا کافی ہو گی کیونکہ ’انڈین خرگوشوں کی طرح بچے دیتے ہیں۔‘

آکسفورڈ یونیورسٹی کی مِس خان کہتی ہیں ’ہم کسی بھی لحاظ سے اُنھیں اِس قحط کا ذمہ دار قرار نہیں سکتے ہیں۔ لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چرچل نے اُس وقت امداد نہیں دی جب وہ یہ دے سکتے تھے اور ہم ان پر گوروں اور یورپیوں کی زندگیوں کو جنوبی ایشیا کے باشندوں پر ترجیح دینے کا الزام لگا سکتے ہیں جو کے ایک لحاظ سے ایک ناپسندیدہ اقدام تھا خاص کر ایک ایسے پس منظر میں جب لاکھوں انڈین سپاہی دوسری عالمی جنگ لڑ رہے تھے۔‘

مجسمہ

EPA
مظاہرین نے چرچل کو نسل پرست کہہ کر اس کے مجسمے پر پینٹ کیا

برطانیہ میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چرچل نے انڈین شہریوں کے بارے میں شاید چند ناپسندید باتیں کہیں ہوں لیکن انھوں نے ان کی مدد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس مدد کی تاخیر کی وجہ جنگی حالات تھے۔ تاہم لاکھوں لوگ خوراک جیسے بنیادی حق سے محرومی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

اُس وقت کے انڈیا میں برطانوی وائسرائے، آرچی بالڈ ویول لکھتے ہیں کہ بنگال کا قحط انڈیا پر برطانوی دورِ حکومت میں نازل ہونے والی سب سے بڑی تباہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے برطانوی سلطنت کی شہرت کو جو نقصان پہنچا اُس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

چیٹرجی کہتے ہیں ’جن لوگوں نے حالات کا جائزہ لیا وہ کہتے ہیں انھیں شدید غصہ آتا ہے۔ اِس وقت ایک خفی سی توقع ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ برطانیہ نے جو کچھ ماضی میں انڈیا کے ساتھ کیا ہے وہ اس پر معافی مانگے۔‘

اب برطانیہ میں بھی کئی لوگ برطانیہ کے استعماری ماضی کی میراث اور اس دور کے رہنماؤں کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ جب سیاہ فاموں کی زندگی کے بارے میں ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے نام سے احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے تو مرکزی لندن میں چرچل کے مجسمے کو بدنما کیا گیا تھا۔

ایک انڈین مورخ رُدراگشُو مکھرجی کہتے ہیں ’میں مجسموں کو منہدم کرنے یا ان کو بدنما کرنے میں یقین نہیں رکھتا ہوں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ ان مجسموں کے نیچے ان کی تاریخ کے بارے میں ایک تختی لگا دینی چاہیے جیسے کہ چرچل دوسری عالمی جنگ کے ہیرو تھے لیکن وہ سنہ 1943 کے بنگال میں لاکھوں ہلاکتوں کے بھی ذمہ دار تھے۔ میرا خیال ہے کہ برطانیہ نہ صرف انڈین کو جوابدہ ہے بلکہ اسے خود بھی اپنے ساتھ انصاف کرنا ہو گا۔‘

اگر ماضی کو آج کے معیاروں کے مطابق تولا جائے تو شاید دنیا میں کوئی بھی ہیرو نہ بچے۔

انڈیا کے سب سے زیادہ مقبول اور ہر دلعزیز ہیرو موہن داس گاندھی پر بھی سیاہ فاموں کے خلاف باتیں کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن ان ہیروز کی زندگیوں کے بارے میں مکمل سچ کا ادراک کیے بغیر آگے بڑھنا بہت مشکل ہو گا۔

میرے بچپن کے دور کی مصنفہ اینِڈ بلائیٹن کے خلاف اب ایک مخالفانہ ردعمل آرہا ہے جس میں ان پر نسل پرستی اور صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اب جبکہ میں بالغ ہوں، میں اور میری بہن ان کتابوں کو اپنے والدین کے گھر کے سٹور میں دیکھتے ہیں تو مجھے ان میں ان الزامات کے حق میں شواہد نظر آ سکتے ہیں۔

تو کیا میں ان سب کتابوں کو باہر پھینک دوں؟ نہیں بالکل نہیں۔ جب میں ان کو آج کی معلومات کے روشنی میں دیکھتی ہوں تو ان سے وابستہ میری اچھی یادیں خراب نہیں ہوتی ہیں لیکن میں ان کتابوں کو اپنی اگلی نسل میں منتقل نہیں کروں گی۔ وہ بہتر اور زیادہ برابری والی کہانیاں پڑھنے کے حق دار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14652 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp